BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 29 November, 2008, 03:46 GMT 08:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک

سنیچر کو انسداد دہشت گردی کی ٹیم کے سربراہ ہیمن کرکے کی آخری رسومات ادا کی گئیں

ہندوستان کے شہر ممبئی میں شدت پسند حملوں کے تقریباً اٹھاون گھنٹوں کے بعد سنیچر کی صبح تاج ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے کا اعلان کیا گیا اور آپریشن ختم ہو گیا ہے۔

اس بات کا اعلان کرتے ہوئے نیشنل سکیورٹی گارڈز کے چیف جےکے دت نے میڈیا کو بتایا ہے کہ ’ کارروائی کامیاب‘ رہی۔ دو دن سے زیادہ جاری رہنے والے ان واقعات میں کم سے کم ایک سو پچانوے لوگ ہلاک ہوئے۔

اسی دوران وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اتوار کو سبھی جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ اس میٹنگ ميں سیاسی رہنماؤں کو ممبئی پر حملے اور اس کے ممکنہ بین الاقوامی پہلوؤں کی تفصیلات بتائیں گے۔


ہلاکتوں کی تعداد ایک سو پچانوے سے بھی زائد ہونے کا خدشہ ہے کیونکہ ابھی بھی کچھ لاشیں تاج ہوٹل میں ہیں۔ ادھر وزارت داخلہ کے خصوصی سکریٹری ایم ایل کوماوت کے مطابق ان واقعات میں مجموعی طو پر 183 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 141 ہندوستانی شہری ، 22 غیر ملکی اور 20 سکیورٹی کے اہلکار شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہلاک ہونے والے غیرملکیوں میں تین جرمن، تین اسرائیلی، ایک امریکی، ایک برطانوی، دو کنیڈیائی، ایک آسٹریلوی، ایک اطالوی، ایک چینی، ایک تھائی، ایک ماریشین اور ایک سنگاپوری شامل ہیں۔ پانچ کی قومیت کی شناخت نہيں ہو پائی ہے۔

مسٹر کوماوت نے بتایا کہ تاج ہوٹل سے تین سے افراد اور اوبرائے ٹرائڈنٹ سے دو سو پچاس مہمانوں کو بچایا گیا۔ اسی طرح ناریمان ہاؤس سے بارہ خاندانوں کے ساٹھ افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شدت پسندوں کے قبضے سے کئی اے کے 47 رائفلز سمیت کئی موبائل فون بھی برآمد ہوئے ہیں۔

تاج محل ہوٹل کی جانب سے جاری کیے گئے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ ہوٹل کے اندر کارروائی ختم ہوگئی ہے۔ لیکن ہوٹل کے اندر این ایس جی کے کمانڈو موجود ہیں جو شدت پسندوں کے پاس سے حاصل کیے گئے دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ کرنے کا کام کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہوٹل سے دھماکوں کی آوازیں سنی گئی تھیں۔

میڈیا کو پہلی بار ہوٹل کے اندر جھانکنے کا موقع ملا

تاج ہوٹل کے انتظامیہ نے یہ بات بھی واضح کی ہے کہ انہیں خفیہ اداروں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے کہ ان حملوں میں ہوٹل ملازمین نے شدت پسندوں کو تعاون دیا تھا۔ واضح رہے کہ میڈیا میں اس طرح کی خبریں شائع ہوئیں تھی کہ ہوٹل ملازمین نےشدت پسندوں کو مدد دی تھی۔

جے کے دت نے اینکاؤنٹر کے دوران مارے گئے افراد کے بارے میں بتایا کہ ’ایک زخمی این ایس جی (نیشنل سکیورٹی گارڈ) حوالدار کو بچانے کی کوشش میں این ایس جی میجر سندیت انّی کرشنن نے بڑی بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے زخمی ہونے کے باوجود شدت پسندوں کا مقابلہ کیا اور دم توڑ دیا۔‘

جے کے دت نے مزید بتایا کہ ’شدت پسند بار بار ہوٹل میں آگ لگا رہے تھے تاکہ سکیورٹی فورسز کو گمراہ کر سکیں۔ ابھی تلاشی کے دوران کہاں اور کیا ملے کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے کیونکہ شدت پسندوں کے پاس سے ایک اے کے 47، دستی بم اور کچھ مقدار ميں دھماکہ خیز مادہ بھی تھا۔‘

ٹرائڈنٹ اوبرائے ہوٹل اور ناریمان ہاؤس کی کارروائی

جمعہ کو این ایس جی کے چیف نے ہوٹل ٹرائڈنٹ- اوبرائے اور ناریمان ہاؤس کے بارے میں دعویٰ کیا کہ اب یہ مقامات ان کے قبضے میں ہیں۔

جمعہ کی کارروائی میں کل پانچ شدت پسندوں، دو این ایس جی جوانوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی جبکہ دو این ایس جی کمانڈو زخمی ہوئے۔

این ایس جی چیف کے مطابق ہوٹل اوبرائے ميں تیس شہری مارے گئے جبکہ ناریمان ہاؤس میں پانچ لوگوں کو شدت پسندوں نے مار دیا۔ ان کے مطابق اوبرائے-ٹرائڈنٹ سے 93 لوگوں کو باہر نکالا گیا ہے جس میں کئی غیر ملکی شہری شامل تھے۔

ادھر بھارتی بحریہ نے ممبئی کے شمال کے سمندر میں دو پاکستانی تجارتی جہازوں کو روک لیا ہے جن پر اس واقعے میں ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حکام کا دعویٰ ہے کہ شدت پسند دو تیز رفتار کشتیوں میں سوار ہوکر ممبئی پہنچے تھے۔ اس سے قبل حملوں کی ذمہ داری غیر معروف دکن مجاہدین نامی تنظیم نے قبول کی تھی۔

ادھر امریکی صدر جارج بش نے اپنی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ایک وڈیو کانفرنس کے ذریعے ممبئی دھماکوں پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق اس میٹنگ میں امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس، انڈیا میں امریکی سفیر ڈیوِڈ مِلفورڈ بھی شامل تھے۔ صدر بش اس حملے پر ایک بیان بھی جاری کریں گے۔

ممبئی حملے کہاں کہاں ہوئے
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
برطانوی ارب پتی
ہلاک ہونے سے کچھ دیر قبل انٹرویو
ممبئی حملے
ممبئی میں فائرنگ : تصاویر
آنکھوں دیکھا حال
’ٹکٹ لینے گیا تھا کے فائرنگ شروع ہو گئی‘
دہشت کی رات
گزشتہ رات سے اب تک ممبئی میں کیا ہوا
دنیابھر سے مذمت
ممبئی حملوں کی کئی ممالک نے مذمت کی
بال ٹھاکرے’خود کش تیار کریں‘
ٹھاکرے ہندو خود کش دستے بنانے کے حامی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد