’ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے سرکاری جے جے ہسپتال میں پانچ دنوں تک مسلسل پندرہ ڈاکٹروں اور فورینسک ماہرین کی ٹیم چوبیس گھنٹے پوسٹ مارٹم میں مصروف رہی۔ ہسپتال میں شدت پسندوں کی لاشیں بھی ہیں جن کا یہاں کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ اتنے تھکا دینے والے پانچ دنوں کے بعد دو دنوں کی رخصت پرگئی جے جے ہسپتال کی سرجن نے بی بی سی کو بتایا کہ بدھ کی رات سے ہسپتال میں لاشوں کا آنا شروع ہو چکا تھا۔ جے جے ہسپتال کا پوسٹ مارٹم ڈپارٹمنٹ کافی بڑا ہے۔ یہاں آٹھ ٹیبل ہیں جن پر تین تین ڈاکٹروں کے گروپ نے کام شروع کیا۔ ڈاکٹر کے مطابق چونکہ اکثر لاشوں کے بدن میں گولیاں پیوست تھیں اس لیے پوسٹ مارٹم میں ایک گھنٹہ کے بجائے ڈیڑھ گھنٹہ کا وقت لگا۔گولیاں نکال کر انہیں فورینسک جانچ کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔ ’ہمارے لیے ڈیوٹی کا کوئی تعین نہیں تھا۔ ہر ڈاکٹر اس وقت تک پوسٹ مارٹم کر رہا تھا جب تک اس کے اعصاب جواب نہیں دے دیتے تھے۔ ایک دن تو اڑتالیس پوسٹ مارٹم ہوئے۔‘ ہسپتال میں لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے لیے کاٹنے والوں کی کمی ہو گئی تھی اس لیے انہیں دوسرے ہسپتال سے بلانا پڑا تھا۔ ہسپتال میں گولیوں سے چھلنی اور جلی ہوئی لاشیں لائی گئی تھیں۔ ڈاکٹر کے مطابق ایسی لاشیں انہوں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔ ’اے کے 56 رائفل کی گولیوں نے ان کے جسم کو چھلنی کر دیا تھا۔ اندھا دھند فائرنگ میں ان کے جسم میں ایسے مقامات پر گولی لگی جہاں کا کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا‘۔ ’پوسٹ مارٹم کرتے کرتے اتنی عادت ہو گئی ہے اب کوئی احساس نہیں ہوتا لیکن اس حملے میں ہلاک ہوئے لوگوں کی لاشیں دیکھ کر یہ احساس ضرور ہوا کہ آخر ان معصوموں کا کیا قصور تھا۔‘ ہوٹل اوبیرائے اور ہوٹل تاج سے آئی لاشوں کے بارے میں ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ان میں سے بیشتر بری طرح مسخ ہو چکی تھیں کیونکہ ان میں سے بیشتر کو بدھ کی رات کو ہی مار ڈالا گیا تھا اور تاج کو شدت پسندوں سے خالی کرانے میں پورے ساٹھ گھنٹے لگ گئے تھے۔ ڈاکٹر کے مطابق تاج سے بہت سی لاشیں جھلسی ہوئی حالت میں ملی تھیں۔ چہرے بری طرح مسخ تھے اور لوگوں نے انہیں کپڑوں یا بدن پر پہنی انگوٹھی یا کسی اور چیز سے پہچانا۔ جے جے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی ٹیم نے ایک سو آٹھ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ ان میں انسداد دہشت گردی عملہ کے سربراہ ہیمنت کرکرے بھی شامل تھے۔ یہاں پانچ شدت پسندوں کا بھی پوسٹ مارٹم ہوا۔ ان میں سے ایک کی آنکھ میں گولی لگی تھی۔ جے جے مارگ پولیس سٹیشن کے سینیئر پولیس انسپکٹر ابو بیگ کے مطابق اس وقت ہسپتال میں صرف ایک ہندوستانی کی لاش موجود ہے جسے حاصل کرنے کے لیے ابھی تک کوئی نہیں آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||