BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی حملوں کے بعد تاجر فکرمند

کولابہ مارکیٹ میں دوکانیں اتوار کے روز کھلنی شروع ہوئی ہیں
ممبئ میں شدت پسندوں کے حملوں کا اثر لوگوں کے ذہن پر تو پڑا ہی لیکن آنے والے دنوں میں تجارت اور سیاحت پر بھی زبردست اثر پڑے گا۔

حصص بازار اور بڑی تجارتوں کو چھوڑ بھی دیا جائے تو خودرہ بازار اور سیاحت سے جڑے کام والے تو شدت پسندی کی گرفت میں آ ہی گئے ہیں۔

ممبئی کا کولابہ علاقہ ملکی اور خاص کر غیر ملکی سیاحوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ سیاح یہیں ُرکتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں لیکن جس طرح سے ممبئی میں شدت پسندوں نے غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا ہے اس کے بعد کیا سیاح ممبئی آنے کے بارے میں پرجوش ہونگے۔

کولابہ بازار میں پٹری پر اپنی دوکان لگانے والے سندرم کہتے ہیں ’ ہم تو سجاوٹ کا سامان، گھڑی، بیگز اور ممبئی کو یاد رکھنے والی چيزیں بیچتے ہیں اور یہ سامان بیرونی سیاح ہی خریدتے ہیں لیکن اب کون آئے گا ان چيزوں کو خریدنے؟‘

سندرم کی طرح اس بازار میں دوکان لگانے والے دوسرے لوگ بھی پریشان ہیں۔ جب سے شدت پسندوں کا حملہ شروع ہوا تھا یہ بازار بند کردیا گیا تھا۔اتوار کو دھیرے دھیرے دوکانیں کھلی ہیں۔

ان دوکانداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر وکیل احمد کہتےہیں ’ حملے کے بعد بیرونی سیاح یہاں کیوں آئیں گے۔ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے۔ سب بکنگ کینسل ہوگئی اور اب کوئی سیاح نہیں آئے گا۔‘

دھیرو بھائی کا کہنا ہے کہ ممبئی میں اب کون بزنس کرے گا

دھیرو بھائی کا کولابہ میں کافی کا ایک ریسٹورانٹ ہے جس میں بیشتر بیرونی سیاح آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ ابھی آپ کو پتہ نہیں ہے یہاں کتنا نقصان ہوا ہے۔ پہلی سے ہی اقتصادی بدحالی ہے۔ حملے کے بعد بیرونی سیاح نہیں آئیں گے۔ بھارت کی شبیہ خراب ہوگی اور پھر بزنس کون کرنا چاہے گا ہمارے ساتھ۔‘

عبداللہ کی چھوٹی سے دوکان ہے اور اس بات سے بہت ناراض ہیں کہ سخت سیکورٹی والے علاقے میں حملہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ یہ ڈفینس کا علاقہ ہے۔ تھوڑی دور پر بحریہ کا دفتر ہے۔ حصص بازار یہاں ہے۔ یہاں بہت سیکورٹی رہتی ہے۔ اب کس منھ سے بولیں گے کہ ممبئی محفوظ ہے۔‘

ممبئی کے لوگ اپنے پروفیشنلزم اور پیسے کمانے کے طور طریقے کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس خدشے سے ناراض ہیں کہ انکا بزنس متاثر ہورہا ہے اور ہوگا۔

میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)افروز کوکچھ پتہ نہیں
کم سن افروز کے والدین اور کئی عزیز نہیں رہے
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)’موت کا بلاوا تھا‘
اخلاق اسی روز نوکری ڈھونڈتے ممبئی آیا تھا
تاج ہوٹلتاج ہوٹل ایکشن
ممبئی حملے: کارروائی کا آخری روز
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
تاج کے کبوتر۔۔۔
تاج ہوٹل پر کارروائی میں کبوتروں پر کیا بیتی؟
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد