 | | | کولابہ مارکیٹ میں دوکانیں اتوار کے روز کھلنی شروع ہوئی ہیں |
ممبئ میں شدت پسندوں کے حملوں کا اثر لوگوں کے ذہن پر تو پڑا ہی لیکن آنے والے دنوں میں تجارت اور سیاحت پر بھی زبردست اثر پڑے گا۔ حصص بازار اور بڑی تجارتوں کو چھوڑ بھی دیا جائے تو خودرہ بازار اور سیاحت سے جڑے کام والے تو شدت پسندی کی گرفت میں آ ہی گئے ہیں۔ ممبئی کا کولابہ علاقہ ملکی اور خاص کر غیر ملکی سیاحوں کا مرکز مانا جاتا ہے۔ سیاح یہیں ُرکتے ہیں، گھومتے پھرتے ہیں اور خریداری کرتے ہیں لیکن جس طرح سے ممبئی میں شدت پسندوں نے غیر ملکی سیاحوں کو نشانہ بنایا ہے اس کے بعد کیا سیاح ممبئی آنے کے بارے میں پرجوش ہونگے۔ کولابہ بازار میں پٹری پر اپنی دوکان لگانے والے سندرم کہتے ہیں ’ ہم تو سجاوٹ کا سامان، گھڑی، بیگز اور ممبئی کو یاد رکھنے والی چيزیں بیچتے ہیں اور یہ سامان بیرونی سیاح ہی خریدتے ہیں لیکن اب کون آئے گا ان چيزوں کو خریدنے؟‘ سندرم کی طرح اس بازار میں دوکان لگانے والے دوسرے لوگ بھی پریشان ہیں۔ جب سے شدت پسندوں کا حملہ شروع ہوا تھا یہ بازار بند کردیا گیا تھا۔اتوار کو دھیرے دھیرے دوکانیں کھلی ہیں۔ ان دوکانداروں کی ایسوسی ایشن کے صدر وکیل احمد کہتےہیں ’ حملے کے بعد بیرونی سیاح یہاں کیوں آئیں گے۔ ابھی تو کچھ بھی نہیں ہے۔ سب بکنگ کینسل ہوگئی اور اب کوئی سیاح نہیں آئے گا۔‘
 | | | دھیرو بھائی کا کہنا ہے کہ ممبئی میں اب کون بزنس کرے گا |
دھیرو بھائی کا کولابہ میں کافی کا ایک ریسٹورانٹ ہے جس میں بیشتر بیرونی سیاح آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ ابھی آپ کو پتہ نہیں ہے یہاں کتنا نقصان ہوا ہے۔ پہلی سے ہی اقتصادی بدحالی ہے۔ حملے کے بعد بیرونی سیاح نہیں آئیں گے۔ بھارت کی شبیہ خراب ہوگی اور پھر بزنس کون کرنا چاہے گا ہمارے ساتھ۔‘ عبداللہ کی چھوٹی سے دوکان ہے اور اس بات سے بہت ناراض ہیں کہ سخت سیکورٹی والے علاقے میں حملہ ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں ’ یہ ڈفینس کا علاقہ ہے۔ تھوڑی دور پر بحریہ کا دفتر ہے۔ حصص بازار یہاں ہے۔ یہاں بہت سیکورٹی رہتی ہے۔ اب کس منھ سے بولیں گے کہ ممبئی محفوظ ہے۔‘ ممبئی کے لوگ اپنے پروفیشنلزم اور پیسے کمانے کے طور طریقے کے لیے جانے جاتے ہیں اور اس خدشے سے ناراض ہیں کہ انکا بزنس متاثر ہورہا ہے اور ہوگا۔ |