BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 November, 2008, 12:11 GMT 17:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ننگرہار: سابق طالبان ترجمان کا قتل

ڈاکٹر حنیف
چودہ ماہ تک کابل جیل میں قید رکھنے کے بعد افغان حکومت نے انہیں بنا کوئی وجہ بتائے رہا کردیا تھا
افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں حکام کا کہنا ہے کہ نامعلوم مسلح افراد نے طالبان کے سابق ترجمان ڈاکٹر حنیف کو ان کے تین رشتہ داروں سمیت قتل کردیا ہے۔

گورنر قندہار کے ترجمان احمد ضیا عبدالزئی نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سابق طالبان ترجمان کوجمعرات کی رات ساڑھے بارہ بجے جلال آباد شہر سے تقریباً بیس کلومیٹر دور واقع چپرہار کے للمہ گاؤں میں قتل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول بعض نامعلوم افراد نے ان کے گھر پرحملہ کردیا جس میں ڈاکٹر حنیف اور ان کے تین چچازاد بھائی موقع پر ہلاک ہوگئے۔

احمد ضیا کا مزید کہنا ہے ڈاکٹر حنیف آج کل طالبان تحریک میں فعال نہیں تھے اور وہ اپنے آبائی گاؤں للمہ میں دینی مدرسہ میں درس و تدرییس کے کام میں مصروف تھے۔انہوں نے کہا کہ تحقیقات جاری ہیں اور سرِ دست کسی پر الزام نہیں لگایا جاسکتا۔

افغان طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر حنیف کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تقریباً اٹھائیس سالہ ڈ اکٹر حنیف کا اصل نام عبدالحق حقیق تھا اور انہوں نے اپنی زندگی کا زیادہ تر حصہ پاکستان کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں گزارا تھا جہاں انہوں نے ایک نجی ادارے سے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی تھی۔

سال دو ہزار پانچ میں انہیں طالبان کا ترجمان مقرر کیا گیا تھا اور دو سال تک اس عہدے پر کام کرنے کے بعد افغان سکیورٹی فورسز نے انہیں گرفتار کر لیا تھا۔ چودہ ماہ تک کابل جیل میں قید رکھنے کے بعد حکومت نے انہیں بنا کوئی وجہ بتائے رہا کردیا تھا۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کے ساتھ ان کی خفیہ مفاہمت ہوگئی تھی اور یہی وجہ ہے کہ افغان طالبان نے انہیں مشکوک قرار دیا۔ تاہم طالبان ترجمان قاری یوسف نے اس تاثر کو رد کر دیا ہے کہ طالبان ان کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث ہوسکتے ہیں۔ دو دن قبل ہی انہوں نے جلال آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

اسی بارے میں
طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم
14 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد