BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 November, 2008, 13:53 GMT 18:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’تیزاب کا حملہ طالبان نے کیا تھا‘
زخمی ہونے والی ایک لڑکی
افغاسنتان میں اس نوعیت کے حملے شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں
پولیس نے جنوبی افغانستان میں ایک سکول کے باہر نو عمر لڑکیوں پر تیزاب سے حملے کے سلسلے میں دس افراد کو گرفتار کیا ہے۔

موٹر سائکل پر سوار دو افراد نے بارہ نومبر کو قندھار شہر میں لڑکیوں کے چہروں پر اس وقت تیزاب پھینکا تھا جب وہ سکول جارہی تھیں حس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں کے چہرے بری طرح جل گئے تھے۔

حکومتی اہلکاروں کے مطابق گرفتار کیے جانے والے سبھی افراد طالبان سے وابستہ ہیں اور ان میں سے کچھ نے اقبال جرم کر لیا ہے۔

لیکن طالبان نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ حملے میں ان کا ہاتھ تھا۔ اس واقعہ کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی تھی۔

صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ حملہ آوروں کو گرفتار کرکے انہیں سر عام پھانسی دی جانی چاہیے۔

نائب وزیر دفاع جنرل محمد داؤد نے کہا کہ ملزمان کو گزشتہ چند دنوں میں گرفتار کیا گیا۔

انہوں نے قندھار میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ’ یہ طالبان کا کام تھا۔ ابھی ہماری تفتیش مکمل نہیں ہوئی ہے۔‘

جنرل داؤد کے مطابق گرفتارشدہ افراد افغان ہیں جو پاکستان سے آئے تھے۔

’ان کی قیادت طالبان کر رہے تھے۔ وہ سرحد پار سے ان لوگوں سے احکامات لے رہے تھے جو قندھار میں دہشت گردی کے حملے کرا رہے ہیں۔‘

قندھار کے گورنر رحمت اللہ رؤفی کے مطابق طالبان نے حملہ آورں کو دو ہزار ڈالر دیے تھے۔

انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے ملزمان نے اقبال جرم کیا ہے۔ نہ تو ان کے نام ظاہر کیےگئے اور نہ ہی انہیں نامہ نگاروں سے ملوایا گیا جیسا کے افغانستان میں اکثر کیا جاتا ہے۔

کم سے کم پندرہ طالبات اور ٹیچرز تیزاب کی زد میں آئی تھیں۔ مقامی اہلکاروں کے مطابق حملہ آوروں نے کھلونے کی بندوق استعمال کی تھی۔ کئی لڑکیوں کی جلد بری طرح جھلس گئی تھی اور کم سے کم ایک لڑکی کو پلاسٹک سرجری کرانی پڑے گی۔

کچھ لڑکیوں نے برقے پہن رکھے تھے جس کی وجہ سے وہ قدرے محفوظ رہیں۔ اس حملے سے عام افغان بھی بہت برہم تھے۔

نامہ نگاروں کے مطابق اس طرح کے حملے شاذ و نادر ہی سننے میں آتے ہیں اور ان کے پیچھے وہ لوگ ہوسکتے ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کی مخالفت کرتے ہیں۔

افغانستان کی سابقہ طالبان حکومت نے لڑکیوں کے سکول بند کر دیے تھے اور عورتوں کی نقل و حرکت پر شدید پابندیاں لگا دی تھیں۔

حملے میں زخمی ہونے والی ایک چودہ سالہ لڑکی عاطفہ بی بی کے گھر والوں نے کہا کہ انہیں ایسی کوئی دھمکی نہیں ملی تھی کہ لڑکیوں کو سکول نہ بھیجیں لیکن اب وہ لڑکیوں کو اس وقت تک سکول نہ بھیجنے پر غور کریں گے جب تک حالات بہتر نہیں ہوجاتے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد