تیزاب حملہ آور، سخت سزا کامطالبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں خواتین کے قومی کمیشن نے تیزاب حملے سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے ایک کمیشن کے قیام اور ایسے حملے روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے کا ایک مسودہ پیش کیا ہے۔ غور و فکر کے لیے یہ مسودہ حکومت کو پیش کیا جائیگا اور امکان ہے کا اگلے مانسون اجلاس میں اسے پارلیمان میں پیش کر دیا جائےگا۔ ہندوستان میں تیزاب کا حملہ شدید ترین زخم کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین کی زندگي بہت مشکل اور ابتر ہوجاتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ایسی خواتین کو کہیں سے مالی مدد نہیں ملتی اور وہ اکثر بے سہارا زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ نیشنل کمیشن فار وومن کی صدر گرجا ویاس نے دلی میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تیزاب حملے کی روک تھام کے لیے ایک بل کا ڈرافٹ تیار کیا جا چکا ہے۔ اس مجوزہ مسودہ کے مطابق ’خواتین پر تیزاب پھینکنے کے جرم کو انتہائی سنگین قسم کے جرائم کی فہرست میں رکھا گيا ہے، متاثرہ شخص کے علاج اور پلاسٹک سرجری کے لیے مالی مدد کی جائےگي اور جسمانی اور نفسیاتی طور پر ان کی از سر نو بحالی پر زور دیا جائیگا۔‘
اس موقع پر خواتین اور بچوں کی فلاح و بہود کی مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ خاتون پر تیزاب پھینک کر اس کی زندگی بر باد کرنے والے شخص کو دوہری سزا ملے‘۔ ’ایسی متاثرہ لڑکیاں یا عورتیں زندگی میں ہر روز مرتی ہیں اس لیے اس کے علاج اور اس کی بحالی کی ذمہ داری اس مجرم پر ہونی چاہیے۔ ایسے شخص کو جرم کی سزا ملے اور متاثرہ لڑکی کی دیکھ بھال اور علاج وہ زندگی بھر کما کر کرے۔‘ خواتین کے قومی کمیشن کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے تیزاب سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے ایک ’اسسٹنٹ بورڈ ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو متاثرین کو مالی مدد فراہم کرے گا۔ بورڈ تیزاب حملے کے ابتدائی ثبوت سے مطمئن ہونے پر متاثرہ شخص کو ابتداء میں پانچ لاکھ روپے کی مدد فراہم کریگا اور بعد میں ضرورت کے مطابق اسے کل تیس لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔ لیکن رقم کی مقدار کا فیصلہ متعلقہ اتھارٹی یا بورڈ کرےگا۔ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں تیزاب سے حملے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں کا شکار بننے والوں کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے سے ہو سکتا ہے لیکن بیشتر واقعات غریب سماج میں ہوتے ہیں۔ |
اسی بارے میں خاتون کی بے حرمتی پر غم و غصہ 27 November, 2007 | انڈیا بھارت: عورت کو ہل جوتنے کی سزا 14 September, 2005 | انڈیا تیزاب، خواتین اور جینے کی اُمنگ25 January, 2007 | پاکستان دوہرے قتل میں تین بار سزائے موت25 February, 2006 | پاکستان ایک اور خاتون پر تیزاب سے حملہ09 August, 2004 | پاکستان تیزاب کی سزا کے خلاف رد عمل13 December, 2003 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||