BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 23 September, 2008, 15:21 GMT 20:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تیزاب حملہ آور، سخت سزا کامطالبہ

رینو
فروری دو ہزار چھ میں مشرقی دلی سے تعلق رکھنے والی رینو، تیزاب کے حملے سے وہ نابینا ہوگئیں
ہندوستان میں خواتین کے قومی کمیشن نے تیزاب حملے سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے ایک کمیشن کے قیام اور ایسے حملے روکنے کے لیے سخت قوانین بنانے کا ایک مسودہ پیش کیا ہے۔

غور و فکر کے لیے یہ مسودہ حکومت کو پیش کیا جائیگا اور امکان ہے کا اگلے مانسون اجلاس میں اسے پارلیمان میں پیش کر دیا جائےگا۔

ہندوستان میں تیزاب کا حملہ شدید ترین زخم کے زمرے میں درج کیا جاتا ہے۔ ایسے واقعات میں متاثرہ خواتین کی زندگي بہت مشکل اور ابتر ہوجاتی ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ ایسی خواتین کو کہیں سے مالی مدد نہیں ملتی اور وہ اکثر بے سہارا زندگی گزارنے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔

نیشنل کمیشن فار وومن کی صدر گرجا ویاس نے دلی میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تیزاب حملے کی روک تھام کے لیے ایک بل کا ڈرافٹ تیار کیا جا چکا ہے۔

اس مجوزہ مسودہ کے مطابق ’خواتین پر تیزاب پھینکنے کے جرم کو انتہائی سنگین قسم کے جرائم کی فہرست میں رکھا گيا ہے، متاثرہ شخص کے علاج اور پلاسٹک سرجری کے لیے مالی مدد کی جائےگي اور جسمانی اور نفسیاتی طور پر ان کی از سر نو بحالی پر زور دیا جائیگا۔‘

متاثرین کے بحالی کے لیے کوئی نظام نہیں ہے

اس موقع پر خواتین اور بچوں کی فلاح و بہود کی مرکزی وزیر رینوکا چودھری نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ خاتون پر تیزاب پھینک کر اس کی زندگی بر باد کرنے والے شخص کو دوہری سزا ملے‘۔

’ایسی متاثرہ لڑکیاں یا عورتیں زندگی میں ہر روز مرتی ہیں اس لیے اس کے علاج اور اس کی بحالی کی ذمہ داری اس مجرم پر ہونی چاہیے۔ ایسے شخص کو جرم کی سزا ملے اور متاثرہ لڑکی کی دیکھ بھال اور علاج وہ زندگی بھر کما کر کرے۔‘

خواتین کے قومی کمیشن کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے تیزاب سے متاثرہ خواتین کی مدد کے لیے ایک ’اسسٹنٹ بورڈ ‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو متاثرین کو مالی مدد فراہم کرے گا۔

بورڈ تیزاب حملے کے ابتدائی ثبوت سے مطمئن ہونے پر متاثرہ شخص کو ابتداء میں پانچ لاکھ روپے کی مدد فراہم کریگا اور بعد میں ضرورت کے مطابق اسے کل تیس لاکھ روپے تک کی مدد مل سکتی ہے۔ لیکن رقم کی مقدار کا فیصلہ متعلقہ اتھارٹی یا بورڈ کرےگا۔

 تیزاب کا شکار ہوئی مسخ شدہ چہرے والی خواتین کی زندگی بہت مشکل اور سخت آزمائشوں سے پر ہوتی ہے۔

ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش جیسے ممالک میں تیزاب سے حملے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان حملوں کا شکار بننے والوں کا تعلق سماج کے کسی بھی طبقے سے ہو سکتا ہے لیکن بیشتر واقعات غریب سماج میں ہوتے ہیں۔

گھریلو تشدد پر قانون
انڈیا میں گھریلو تشدد پر جامع قانون نافذ
ہندوستانی خواتین’ایڈلٹری‘ قانون
مردوں کو پانچ برس قید، خواتین سزاسے مستثنیٰ
مردوں کا مظاہرہمردوں کا مطالبہ۔۔۔
’جنس کی بنیاد پر امیتازی سلوک بند ہو‘
انڈین خواتین راہ ابھی مشکل ہے
خواتین کے لیےکوٹے کے بل پر اختلافات شدید
اسی بارے میں
تیزاب کی سزا کے خلاف رد عمل
13 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد