BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 27 November, 2007, 23:11 GMT 04:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خاتون کی بے حرمتی پر غم و غصہ

ریاستی حکومت نے اس حملے کی عدالتی تحیقات کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام میں ایک قبائلی خاتون کو ڈنڈوں سے مارنے اور عریاں کر کے اسے گلیوں میں بھگانے کے تصویری مناظر سے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

خاتون پر اس حملے کے بعد پولیس نے تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے اور انہیں عدالت میں پیش کر کے ان کا پندرہ روزہ ریمانڈ لے لیا گیا ہے۔

سنیچر کی رات مقامی افراد اور قبائلیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ٹیلیوژن کے کیمروں نے خاتون کی بے حرمتی کے مناظر کو فلمبند کیا تھا، جس کی مدد سے پولیس نے مبینہ حملہ آوروں کو گرفتار کیا ہے۔

ریاستی حکومت نے اس حملے کی عدالتی تحیقات کرانے کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔

آسام میں سٹیٹ کمیشن فار وومن کی چیئروومن مرِدلا سہاریہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا: ’مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ آسام میں یہ کچھ ہو رہا ہے ۔ یہ آسامی معاشرے کی لیے مجموعی طور پر صدمے کی بات ہے‘۔

خواتین کے دیگر گروپوں اور سول سوسائٹی کے سرگرم کارکنوں نے بھی اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے حملہ آوروں کے خلاف سخت ترین کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ٹیلیوژن کی فلم میں نظر آتا ہے کہ قبائلی خاتون خود کو بچانے کے لیے گلیوں میں بھاگ رہی ہے اور ڈنڈے لہراتے ہوئے تین افراد اس کا تعاقب کر رہے ہیں۔ فوٹیج کے مطابق ان افراد نے اس خاتون کے کپڑے پھاڑ دیئے، اور جب وہ بچنے کی کوشش کی تو اسے مارا پیٹا اور ٹھڈے مارے۔‘

گلیوں میں بھاگتی ہوئی اس عریاں خاتون کو کچھ مقامی افراد نے بچایا۔

آسام کے وزیرِ اعلیٰ ترن گگوئی نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا: ’مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگ اتنے جنگلی کیسے بن جاتے ہیں۔‘

آسام پولیس کے سربراہ آر این ماتھر کا کہنا ہے کہ تین افراد پولیس کی حراست میں ہیں اور ان کے خلاف ایک قبائلی خاتوں پر حملے اور اس کی بے حرمتی کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا جائے گا۔

گرفتار شدگان میں ایک گواہاٹی میں واقع فاسٹ فوڈ ریستوران کا مالک ہے ۔ اس ریستوران کو دیگر کئی دکانوں سمیت قبائلی مظاہرین نے اس وقت نقصان پہنچایا تھا جب پولیس نے انہیں جلوس نکالنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا۔جب پولیس نے مظاہرین کو منتشر کر دیا تو مقامی افراد نے ان پر حملے کیے۔

قبائلی کہتے ہیں کہ ان کے بیس افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ وزیرِ اعلیٰ کا کہنا ہے کہ صرف دو اشخاص مارے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد