تیزاب، خواتین اور جینے کی اُمنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹروں نے اسے تیزاب سے متاثرہ اپنا چہرہ دیکھنے سے منع کیا تھا لیکن اس سے رہا نہ گیا اور ایک دن وہ آئینہ دیکھ بیٹھیں۔ ’اف خدایا ! یہ میں نہیں ۔۔۔۔ آہ ! میں نے ڈاکٹروں کی بات مان لی ہوتی‘ یہ الفاظ تھے لاہور کی رہائشی سائرہ لیاقت کے جو ان دنوں ایک غیر سرکاری تنظیم ’سمائل اگین‘ (پھرمسکرائیں) کی مدد سے زیر علاج ہیں۔ انیس سالہ سائرہ کے چہرے پر ان کے ہونے والے شوہر نے تیزاب پھینک دیا تھا۔ سائرہ کا نکاح تو ہوچکا تھا لیکن رخصتی ہونا باقی تھی۔ سائرہ کے والدین بیٹی کی رخصتی ایک سال بعد کرنا چاہتے تھے، جبکہ ملزم کا اصرار تھا کہ یہ مرحلہ جلد طے ہو جائے۔ غیر سرکاری تنظیم سمائل اگین تیزاب سے متاثرہ افراد کو ان کے چہروں کی بحالی یعنی پلاسٹک سرجری کرانے میں میں مدد فراہم کرتی ہے۔ تنظیم کی سربراہ مسرت مصباح کہتی ہیں کہ جو تیزاب عورتوں کے چہرے پر ڈالا جاتا ہے وہ لوہے کو بھی پگھلا دیتا ہے۔ سائرہ نے کہا ’مجھے یوں لگا تھا کہ کسی نے میرے چہرے پر آگ لگا دی ہے۔ میری آنکھیں اور ہونٹ بند ہوگئے اور کپڑے جل گئے تھے۔ میں اِدھر اُدھر بھاگ رہی تھی‘۔
طبی ماہرین کے مطابق تیزاب انسانی اعضاء کو اس طرح سے جلاتا ہے کہ وہ مسخ ہوکر آپس میں جڑ جاتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ثمینہ ناز کا کہنا ہے کہ عورتوں پر تیزاب پھینکنے والے زیادہ تر حملہ آور قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں یا پھر ان سے تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند۔ انہوں نے لاہور ہی کی ایک ایسی لڑکی کی مثال دی جس پر اس کے بھائی نے محض اس لیے تیزاب انڈیل دیا تھا کہ وہ خوبصورت تھی اور جب گلی میں نکلتی تو لڑکے اسے دیکھ کر سیٹیاں بجاتے تھے۔ ان کے بقول پاکستان میں ایسا کوئی قابل ذکر سرکاری ادارہ نہیں جو ان عورتوں کی مؤثر دیکھ بھال کر کے ان میں زندہ رہنے کی امنگ جگائے۔ ’ بلکہ پاکستان میں تو عورتوں کے جلائے جانے کے واقعات کا باقاعدہ اور مکمل ریکارڈ بھی نہیں رکھا جاتا‘۔ انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سنہ دو ہزار دو کے دوران عورتوں پر تیزاب پھینکنے کے سات سوسے زائد واقعات ہوئے تھے، جن میں سےدو سو اسی عورتیں ہلاک ہوئیں اور جو بچ گئیں ان کے جسمانی اعضاء ہمیشہ کے لیے مسخ ہوگئے۔
جسمانی اعضاء کے جل کر مسخ ہونے کی تکلیف ناقابل بیان ہے۔ تین برس پرانی جسمانی اذیت دہراتے ہوئے سائرہ کانپ کر رہ گئی تھی لیکن ان کا کہنا تھا ’اس جسمانی تکلیف سے زیادہ اذیت ناک پہلی بار شیشے میں اپنا چہرہ دیکھنا تھا‘۔ وہ کہتی ہے کہ جسمانی تکلیف وقت گذرنے اور علاج کے ساتھ ساتھ کم ہوتی چلی جاتی ہے لیکن ہر وقت ایک بدصورت ہی نہیں بلکہ ڈراؤنا چہرہ لیکر پھرنا اور لوگوں کی عجیب نظروں کا سامنا کرنا ایک ایسی اذیت ہے جو وقت گذرنے کے ساتھ کم نہیں ہوتی بلکہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ایک ایسے ہی چہرے نے مسرت مصباح کو ’سمائل اگین‘ تنظیم بنانے پر مجبور کر دیا۔ وہ پاکستان کی صف اول کی بیوٹیشن ہیں اور ملک بھر میں ان کے ادارے کے اٹھائیس مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں آنے والی خواتین کو بننے سنورنے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کوئی چار برس قبل ایک شام وہ کام ختم کر کے گھر جارہی تھیں کہ ایک برقع پوش خاتون نے راستہ روک کر کہا ’ تم سب کے چہرے خوبصورت بناتی ہو میری مدد بھی کرو‘ اور ساتھ ہی اپنے چہرے سے نقاب الٹ دی۔ مسرت مصباح کہتی ہیں ’یہ وہ لمحہ تھا جس نے دہلا کر رکھ دیا، مجھ میں کھڑے رہنے کی سکت نہیں رہی اور میں زمین پر بیٹھ گئی‘۔ اس خاتون کے چہرے پر ناک، کان، منہ اور آنکھوں کی جگہ صرف گڑھے تھے اور، بقول مسرت مصباح، دنیا اور اس کا گلیمر پھیکا اور بے معنی لگنے لگا۔
جل جانے والی خواتین کا علاج بھی کوئی سستا نہیں ہے۔ انیس برس کی سائرہ جلی تو جان بچانے کے لیے ہونے والے ابتدائی چند دن کے علاج کے دوران اس کے غریب والد سید لیاقت علی کو اپنا رکشہ فروخت کرنا پڑا تھا۔ کاسمیٹک سرجن ڈاکٹر تسنیم الٰہی کا کہنا ہے کہ تیزاب سے متاثرہ افراد کا علاج ہزاروں میں نہیں بلکہ لاکھوں میں ہوتا ہے۔ مسرت مصباح کہتی ہیں کہ میں نے ایک لڑکی کا تیزاب سے متاثرہ چہرہ دیکھ کر اسے بحال کرانے کی حامی تو بھر لی تھی لیکن آج چار برس بعد اس کے 35 آپریشن ہو جانے کے باوجود بھی اس کا چہرہ مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوا۔ صرف اتنا ہوا ہے کہ ایک آنکھ کا عطیہ ملنے کے بعد وہ دیکھ سکتی ہیں اور ان کے متاثرہ اعضاء نے کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ کان تو نہیں بن سکے، تاہم ایک ایسا ہیٹ بنوا دیا گیا ہے جس میں کالی عینک فٹ ہے۔ ڈاکٹر تسنیم الٰہی کا کہنا تھا کہ مکمل مسخ چہرے کا پاکستان میں سو فیصد بحال ہونا ممکن نہیں ہے۔ ’ایسا صرف فلموں میں ہی ہوتا ہے‘۔ سمائل اگین فاؤنڈیشن نے اب تک تہتر لڑکیوں کے آپریشن کروائے ہیں، جبکہ دو سو مزید زیر علاج ہیں۔ ایک اور غیر سرکاری تنظیم ’پاسبان‘ بھی تیزاب سے متاثرہ خواتین کی ذہنی و جسمانی بحالی کے کام میں مصروف عمل ہے۔ ان دونوں تنظیموں کے پاس زیر علاج خواتین کی مفت پلاسٹک سرجری کے لیے فرانسیسی اور جرمن سرجن سال میں تین تین مرتبہ پاکستان آتے ہیں۔ بعض متاثرین کو علاج کے لیے بیرون ملک بھی بھجوایا جاتا ہے۔
سائرہ لیاقت اس برس مارچ میں اٹلی جارہی ہیں، وہ ان چار لڑکیوں میں شامل ہیں جنہیں اٹلی میں کشیدہ کاری اور بیوٹیشن سمیت گھریلو دستکاری کی تربیت دی جائے گی تاکہ پاکستان واپس آکر وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہوسکیں۔ سائرہ کے چہرے کی خوبصورتی تو بحال نہیں ہوئی، لیکن وہ مایوسی سے نکلنے میں کامیاب ہوگئی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں ’ میں خوش ہوں، میں نے یہ ثابت کرنا ہے کہ مجھ پر حملہ کرنے والے کا مقصد پورانہیں ہوسکا۔ میں زیادہ حوصلے سے معاشرے میں اپنا وہ مقام بناؤں گی جو شائد عام حالات میں کبھی نہ بناسکتی‘۔ تاہم مسرت مصباح کہتی ہیں کہ ہر لڑکی سائرہ کی طرح با حوصلہ نہیں ہوتی۔ انہوں نے ذور دیا کہ قوانین میں مناسب ترامیم کر کے تیزاب پھینکنے والوں کو مثالی سزائیں دی جانی چاہیں۔ ’تیزاب سے متاثرہ فرد کی زندگی موت سے بھی بد تر گذرتی ہے، اس لیے اسے اس حال میں پہنچانے والے کو بھی اسی تناسب سے سزا ملنی چاہیے‘۔ | اسی بارے میں دوہرے قتل میں تین بار سزائے موت25 February, 2006 | پاکستان ایک اور خاتون پر تیزاب سے حملہ09 August, 2004 | پاکستان تیزاب پھینکنے سے تین لڑکیاں زخمی26 July, 2004 | پاکستان تیزاب کی سزا کے خلاف رد عمل13 December, 2003 | پاکستان تیزاب کے بدلے تیزاب کی سزا 12 December, 2003 | پاکستان تیزاب پھینکنےوالے کی آنکھوں میں تیزاب 12 December, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||