ایک اور خاتون پر تیزاب سے حملہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بائیس سالہ حبیباں اپنے گھر میں سو رہی تھی جبکہ اس کا شوہر کھیتوں میں کام کررہا تھا کہ ایسے میں تین ملزمان نے اس پر تیزاب پھینک کر اسےشدید زخمی کردیا۔ گھوٹکی کے علاقے دیہہ لوہی کی حبیباں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے- حبیباں نے پولیس کو بتایا کہ امام بخش اسے دوستی اور ناجائز تعلقات رکھنے کے لئے تنگ کرتا تھا اور اس کے انکار پر ملزم نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس پر تیزاب پھینک دیا۔ یہ واقعہ سنیچر کو پیش آیا۔
گرفتار ملزم دلاور کا کہنا ہے کہ امام بخش نے اس کو حبیباں پر تیزاب پھینکنے کے لئے کہا تھا اور انکار پر اس نے اس کی بہن حاکمزادی کے ہاتھوں یہ کام کروایا۔ حبیباں کا کہنا ہے کہ وہ گھر میں سو رہی تھی کہ حاکمزادی پانی بھرنے کے بہانے آئی اور تیزاب کی بوتل اس کے چہرے پر انڈیل دی جس کے نتیجے میں اس کا ایک بازو، چہرے کا ایک حصہ، کان، سینہ اور پیٹھ کا آدھا حصہ بری طرح سےجھلس گیا۔ اس نے بتایا کہ وہ چیختی ہوئی جیسے ہی کمرے سے باہر آئی تو وہاں پر امام بخش اور دلاور کھڑے تھے۔ اس کہنا تھا کہ اس کا شوہر علی حسن غریب کسان ہے۔ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ہسپتال میں جا کر علاج کرا سکیں۔ اس نے کہا کہ مقامی پولیس کے بعض افسران نے کچھ پیسے دیے تھے جن سے انہوں نے علاج کرایا۔ اب یہ پیسے بھی ختم ہو گئے ہیں۔ اور مزید علاج کرانے کی سکت نہیں ہے۔ شدید زخموں کے باوجود حبیباں گھر پر ہی ہے- حبیباں کے والد نے بتایا کہ برادری کے لوگ منت سماجت کے لئے آئے تھے۔ اب یہ معاملہ برادری کا ہے۔ دیکھیں وہ کیا فیصلہ کرتی ہے۔ گذشتہ چھ ماہ کے دوران سندھ کے مختلف علاقوں میں تیزاب پھینک کر زخمی کرنے کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ شکارپور کے کچے کے علاقے میں ایک ملزم نے دوستی نہ رکھنے پر ایک نوجوان عورت سہنی انڈھڑ کو تیزاب پھینک کر زخمی کردیا تھا۔ بعد میں یہ مقدمہ انسداد دہشت گردی کی عدالت میں چالان ہوا۔ گلاں کھوسو کو اس کے شوہر امام بخش نے بد کرداری کا الزام دیکر تیزاب پھینک کر زخمی کیا تھا۔ وہ اس وقت کراچی کے ایک ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ حیدرآباد میں خواتین کے عالمی دن پر ایک ہندو عورت بھگونتی کو اس کے شوہر نے دوسری بیوی کے ساتھ مل کر تیزاب سے زخمی کردیا اور وہ بری طرح سے جھلس گئی تھی۔ اس سے قبل خیرپور ضلع کی جیونتی کو بھی تعلقات نہ رکھنے پر تیزاب پھینک کر زخمی کردیا گیا تھا- کارو کاری کے واقعات کے بعد یہ خواتین پر تشدد کی ایک اور شکل ہے۔ اس سے قبل تیزاب پھینکنے کے واقعات شہروں میں ہوتے رہے ہیں لیکن اب تشدد کی یہ لہر دیہی علاقوں کی طرف بھی بڑھ رہی ہے جس میں نوجوان خواتین اور لڑکیوں کودھمکی دی جاتی ہے کہ اگر انہوں نے تعلقات نہیں رکھے تو انہیں اس قابل نہیں چھوڑا جائےگا کہ وہ دنیا کو منہ دکھا سکیں- |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||