BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 November, 2007, 11:29 GMT 16:29 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مردوں کے حقوق، کمیشن کا مطالبہ

مردوں کا مظاہرہ
’ہر برس ہندوستان میں عورتوں سے زیادہ مرد خودکشی کرتے ہیں‘
ہندوستان میں خواتین کے ہاتھوں استحصال کے شکار مردوں نے حکومت سے مردوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔

’سیو فیملی فاؤنڈیشن‘ نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے خواتین کے فلاح و بہبود کے لیے تمام قانون بنائے ہیں لیکن مردوں کے حقوق کے لیے کوئی قانون و کمیشن نہیں ہے۔

’سیو دا فیملی‘ نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھا ہے کہ ہندوستان میں مردوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قانون بنانے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ سماج میں ایسے مردوں کی تعداد کم نہیں ہے جو اپنی بیویوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔

تنظیم کے رابطہ کار سوروپ سرکار نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے خواتین کے لیےگھریلو تشدد جیسے قوانین بنائے ہیں جن میں اگر خواتین اپنے خاوند اور کسی مرد پر کوئي الزام لگاتی ہیں تو پولیس ان کے بیان کی بنیاد پر مرد کو گرفتار کر لیتی ہے لیکن بقول ان کے ان قوانین کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے اور ایسے حالات میں مردوں کی سنوائی کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔

’مردوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قانون بنانے کی سخت ضرورت ہے‘

تنظیم کے مطابق سماج میں مردوں کے ساتھ بھی جنسی، جسمانی اور جذباتی استحصال ہوتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نیشل کرائم بیورو کے ایک جائزے کے مطابق ہر برس ہندوستان میں عورتوں سے زیادہ مرد خودکشی کرتے ہیں اور ’دو ہزار پانچ میں تقریباً 52000 شادی شدہ مردوں نے خودکشی کی تھی جب عورتوں میں یہ تعداد صرف 28،186 تھی‘۔

دلی کی ڈاکٹر انوپما سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی بھابی نے جہیز کے معاملے میں ان کے بھائی کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ اور ان پر غلط الزامات لگا کرگرفتار کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود ایک عورت ہوکر گھریلو تشدد کے قانون کی مخالفت کر رہی ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے اس قانون میں عورت کے زبانی بیان کی بنیاد پر سسرال والوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور خاوند اور سسرال والوں کے بیان کو درج بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں اس قانون میں بعض ایسی تبدیلیاں کی جائیں جس کے تحت جنسی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے‘۔

قانون میں ترمیم کی جائے
 میں خود ایک عورت ہوکر گھریلو تشدد کے قانون کی مخالفت کررہی ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے اس قانون میں عورت کے زبانی بیان کی بنیاد پر سسرال والوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور خاوند اور سسرال والوں کے بیان کو درج بھی نہیں کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر انوپما سنگھ

خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن رنجنا کماری کا کہنا ہے’ہر دن جہیز کے نام پر ہزاروں عورتوں کا تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے اور جہاں تک گھریلو تشدد کے قانون کا تعلق ہے تو قانون میں کچھ بھی ایسا نہیں جس سے مردوں کو نشانہ بنایا جائے‘۔

ہندوستان میں عورتوں کے ساتھ تشدد کے معاملات سامنے آنا عام ہے اور ’انٹرنیشل سینٹر فار ریسرچ آن وومن‘ کے ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں کم از کم 52 فیصد خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جمہوریت میں مردوں اور خواتین کے حقوق کے لیے برابری کا مطالبہ ناجائز نہیں ہے لیکن ہندوستان جیسے سماج میں مردوں سے زیادہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد