مردوں کے حقوق، کمیشن کا مطالبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں خواتین کے ہاتھوں استحصال کے شکار مردوں نے حکومت سے مردوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے کمیشن بنانے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔ ’سیو فیملی فاؤنڈیشن‘ نام کی ایک غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ حکومت نے خواتین کے فلاح و بہبود کے لیے تمام قانون بنائے ہیں لیکن مردوں کے حقوق کے لیے کوئی قانون و کمیشن نہیں ہے۔ ’سیو دا فیملی‘ نے وزیراعظم منموہن سنگھ کو ایک خط لکھا ہے کہ ہندوستان میں مردوں کے حقوق کی حفاظت کے لیے قانون بنانے کی سخت ضرورت ہے کیونکہ سماج میں ایسے مردوں کی تعداد کم نہیں ہے جو اپنی بیویوں کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ تنظیم کے رابطہ کار سوروپ سرکار نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے خواتین کے لیےگھریلو تشدد جیسے قوانین بنائے ہیں جن میں اگر خواتین اپنے خاوند اور کسی مرد پر کوئي الزام لگاتی ہیں تو پولیس ان کے بیان کی بنیاد پر مرد کو گرفتار کر لیتی ہے لیکن بقول ان کے ان قوانین کا غلط استعمال بھی ہوتا ہے اور ایسے حالات میں مردوں کی سنوائی کے لیے کوئی قانون نہیں ہے۔
تنظیم کے مطابق سماج میں مردوں کے ساتھ بھی جنسی، جسمانی اور جذباتی استحصال ہوتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ نیشل کرائم بیورو کے ایک جائزے کے مطابق ہر برس ہندوستان میں عورتوں سے زیادہ مرد خودکشی کرتے ہیں اور ’دو ہزار پانچ میں تقریباً 52000 شادی شدہ مردوں نے خودکشی کی تھی جب عورتوں میں یہ تعداد صرف 28،186 تھی‘۔ دلی کی ڈاکٹر انوپما سنگھ کا کہنا ہے کہ ان کی بھابی نے جہیز کے معاملے میں ان کے بھائی کے ساتھ ساتھ ان کے ماں باپ اور ان پر غلط الزامات لگا کرگرفتار کرایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میں خود ایک عورت ہوکر گھریلو تشدد کے قانون کی مخالفت کر رہی ہوں کیونکہ مجھے پتہ ہے اس قانون میں عورت کے زبانی بیان کی بنیاد پر سسرال والوں کو گرفتار کرلیا جاتا ہے اور خاوند اور سسرال والوں کے بیان کو درج بھی نہیں کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں اس قانون میں بعض ایسی تبدیلیاں کی جائیں جس کے تحت جنسی بنیاد پر امتیازی سلوک نہیں کیا جائے‘۔
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن رنجنا کماری کا کہنا ہے’ہر دن جہیز کے نام پر ہزاروں عورتوں کا تشدد کا شکار بنایا جاتا ہے اور جہاں تک گھریلو تشدد کے قانون کا تعلق ہے تو قانون میں کچھ بھی ایسا نہیں جس سے مردوں کو نشانہ بنایا جائے‘۔ ہندوستان میں عورتوں کے ساتھ تشدد کے معاملات سامنے آنا عام ہے اور ’انٹرنیشل سینٹر فار ریسرچ آن وومن‘ کے ایک سروے کے مطابق ہندوستان میں کم از کم 52 فیصد خواتین تشدد کا شکار ہوتی ہیں۔ تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ جمہوریت میں مردوں اور خواتین کے حقوق کے لیے برابری کا مطالبہ ناجائز نہیں ہے لیکن ہندوستان جیسے سماج میں مردوں سے زیادہ خواتین کے حقوق کی حفاظت کرنے کی زیادہ ضرورت ہے۔ | اسی بارے میں انڈیا: شادی کی رجسٹریشن لازم27 October, 2007 | انڈیا گھریلو تشدد سے متعلق قانون نافذ26 October, 2006 | انڈیا برصغیر کی سیاست میں عورت کہاں؟13 August, 2007 | انڈیا پردے پر اتنی بحث آخر کیوں؟19 November, 2006 | انڈیا انڈیا میں عورتیں چھا گئیں07 July, 2004 | انڈیا اینوریگزیا: خوبصورتی کے خطرات15 October, 2004 | انڈیا پنجاب:لڑکیوں سے امتیازی سلوک16 November, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||