انڈیا: شادی کی رجسٹریشن لازم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ تین مہینے کے اندر وہ ایسا قانون وضع کریں جس کے تحت تمام شادیوں کا رجسٹریشن لازمی قرار دیا جائے۔ جسٹس ارجیت پسائت کی ایک رکنی بینچ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا ہے کہ ریاستیں تین مہینے کی مقررہ مدت کے اندر تحریری حلف نامے کے ساتھ قانون کے وضع کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کریں۔ سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اس حقیقت کے پیش نظر کیا ہے کہ بعض ریاستوں میں صرف ہندوؤں کی شادیوں کا رجسٹریشن کیا جاتا ہے اور دیگر مذاہب کو اس سے مستثنی رکھا گيا ہے۔ لیکن عدالت عظمی کے اس حکم نامے کے ساتھ ہی سبھی مذاہب کی شادیوں کا رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بعض مسلم تنظیمں متفق نہيں ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا:’جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں میں شادیوں کے اندراج کی روایت پہلے ہی سے موجود ہے۔لیکن
مسٹر الیاس کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ اسلام میں شادیوں کی عمر کا تعین نہيں کیا گیا ہے اور رجسٹریشن کے لازمی ہونے پر مسلمان کسی بھی حالت میں قانون کےمقررہ عمر سے کم عمر میں شادی نہيں کرسکتے ہيں اسی لیے وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہندوستانی قانون کے تحت اٹھارہ سال کی لڑکی اور اکیس سال سے کم عمر کے لڑ کے کی شادی قانوناٌ جرم ہے۔ جب ان سے پوچھا گيا کہ کم عمر میں شادیاں کرنے سے صحت سے جڑے بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےتو اس سوال کے جواب پر بھی وہ مصر رہے کہ مسلمانوں کو کم عمر میں شادیوں کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔ لکھنؤ میں مسلم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن نائش حسن کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ ان کہنا تھا اس فیصلے کے نفاذ سے کم عمر میں شادیوں کا خاتمے کے ساتھ ساتھ عورتوں کو تحفظ فراہم ہوگا۔
محترمہ حسن کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف صحت سے متعلق مسائل کا حل ہوگا بلکہ طلاق کے وقت شادیوں کو ثابت کرنا بھی آسان ہوگا اس لیے آج کے دور میں اس طرح کے قانون کا نفاذ نہایت ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک مردانہ تنظیم ہے اور یہ پورے ملک کی نمائندگی نہيں کرتا۔’اس طرح کے معاملات میں عورتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور ہم آئین کے دائرے میں اپنے حق کی لڑائی لڑیں گے۔ہمیں متبادل تنظیم کی ضرورت نہیں۔‘ دارالحکومت دلی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مختلف ریاستوں اور مذاہب کی نو عمر لڑکیوں کے تاثرات عموماٌ عدالت کے فیصلے کے حق میں تھے۔ ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی شیرون سیباسٹین کا کہنا تھا کہ شادی کا لازمی طور پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔’ آپ کے پاس اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ کیوں کہ جب بھی شادی میں پریشانی ہو تو کم از کم ہمارے پاس ایک قانونی دستاویزہو‘۔ نینی تال سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ جوہی پرساد کا کہنا ہے کہ شادیوں کا رجسٹریشن اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ کم عمر کی لڑکیاں جذباتی طور پر بالغ نہیں ہوتی ہیں اوروہ اکثر پیار کے جھانسے میں شادی کرلیتی ہیں،اس قانون کے ذریعہ اس طرح کی شادیوں پر روک لگے گی اور ساتھ ہی مجموعی طور پر بھی کم عمر میں ہونی والی شادیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔ تاہم راجستھان کی تنوی جین کا کہنا ہے کہ’ شادی ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے اس لیے اس کا رجسٹریشن ان ک مرضی پر ہونا چاہیے اور اسے لازمی نہیں کرنا چاہیے‘۔
نازنین فاطمہ زيدی کا کہنا ہےکہ مسلم تنظیموں کے مقابلے کورٹ موجودہ حالات سے زیادہ باخبر ہے اس لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ مناسب ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں سمیت بیشتر مذاہب کے لوگ اپنی شادیوں کا رجسٹریشن نہيں کراتے ہيں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ رجسٹریشن لازمی ہوجائے گا۔ | اسی بارے میں غیروں میں شادی کیا کریں: عدالت 19 September, 2006 | انڈیا غریب لڑکیوں کی شادی یا’ فروخت‘14 October, 2006 | انڈیا شادیوں کی رجسٹریشن لازمی14 February, 2006 | انڈیا بچوں کی شادی، پادریوں کی مہم15 February, 2007 | انڈیا شادی کے سرچ انجن میں آئی ٹی ماہرین کی تلاش12 June, 2007 | انڈیا انڈیا:ہم جنس خواتین کی شادی06 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||