BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 October, 2007, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انڈیا: شادی کی رجسٹریشن لازم

انڈیا سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو تین ماہ کے اندر شادی کی لازمی رجسٹریشن سے متعلق قانون سازی کا پابند کیا ہے
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے تمام ریاستوں کو حکم دیا ہے کہ تین مہینے کے اندر وہ ایسا قانون وضع کریں جس کے تحت تمام شادیوں کا رجسٹریشن لازمی قرار دیا جائے۔

جسٹس ارجیت پسائت کی ایک رکنی بینچ نے اپنے حالیہ فیصلے میں کہا ہے کہ ریاستیں تین مہینے کی مقررہ مدت کے اندر تحریری حلف نامے کے ساتھ قانون کے وضع کرنے سے متعلق اپنی رپورٹ پیش کریں۔

سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ اس حقیقت کے پیش نظر کیا ہے کہ بعض ریاستوں میں صرف ہندوؤں کی شادیوں کا رجسٹریشن کیا جاتا ہے اور دیگر مذاہب کو اس سے مستثنی رکھا گيا ہے۔ لیکن عدالت عظمی کے اس حکم نامے کے ساتھ ہی سبھی مذاہب کی شادیوں کا رجسٹریشن کرانا لازمی ہوگا۔

سپریم کورٹ کے اس فیصلے سے بعض مسلم تنظیمں متفق نہيں ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان سید قاسم رسول الیاس کا کہنا تھا:’جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو مسلمانوں میں شادیوں کے اندراج کی روایت پہلے ہی سے موجود ہے۔لیکن

مسلمانوں کی مخالفت
سبھی شادیوں کی رجسٹریشن لازمی قرار دینا صحیح نہيں ہے کیونکہ کہ اس کا عملی نفاذ ممکن نہیں ہے۔ خاص کر ایک ایسے ملک میں جہاں خواندگی بہت کم ہے‘۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ
سبھی شادیوں کا رجسٹریشن لازمی قرار دینا صحیح نہيں ہے کیوں کہ اس کا عملی نفاذ ممکن نہیں ہے۔ خاص کر ایک ایسے ملک میں جہاں خواندگی بہت کم ہے‘۔

مسٹر الیاس کا یہ بھی کہنا تھا کہ چونکہ اسلام میں شادیوں کی عمر کا تعین نہيں کیا گیا ہے اور رجسٹریشن کے لازمی ہونے پر مسلمان کسی بھی حالت میں قانون کےمقررہ عمر سے کم عمر میں شادی نہيں کرسکتے ہيں اسی لیے وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ ہندوستانی قانون کے تحت اٹھارہ سال کی لڑکی اور اکیس سال سے کم عمر کے لڑ کے کی شادی قانوناٌ جرم ہے۔

جب ان سے پوچھا گيا کہ کم عمر میں شادیاں کرنے سے صحت سے جڑے بعض مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہےتو اس سوال کے جواب پر بھی وہ مصر رہے کہ مسلمانوں کو کم عمر میں شادیوں کرنے کا اختیار ہونا چاہیے۔

لکھنؤ میں مسلم خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کارکن نائش حسن کا کہنا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتی ہیں۔ ان کہنا تھا اس فیصلے کے نفاذ سے کم عمر میں شادیوں کا خاتمے کے ساتھ ساتھ عورتوں کو تحفظ فراہم ہوگا۔

کم عمر شادیاں
 اسلام میں شادیوں کی عمر کا تعین نہيں کیا گیا ہے اور رجسٹریشن کے لازمی ہونے پر مسلمان کسی بھی حالت میں قانون کےمقررہ عمر سے کم عمر میں شادی نہيں کرسکتے ہیں اور اسی لیے وہ اس کی مخالفت کرتے ہیں۔
مسلم پرسنل لاء

محترمہ حسن کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف صحت سے متعلق مسائل کا حل ہوگا بلکہ طلاق کے وقت شادیوں کو ثابت کرنا بھی آسان ہوگا اس لیے آج کے دور میں اس طرح کے قانون کا نفاذ نہایت ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ایک مردانہ تنظیم ہے اور یہ پورے ملک کی نمائندگی نہيں کرتا۔’اس طرح کے معاملات میں عورتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے اور ہم آئین کے دائرے میں اپنے حق کی لڑائی لڑیں گے۔ہمیں متبادل تنظیم کی ضرورت نہیں۔‘

دارالحکومت دلی کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم مختلف ریاستوں اور مذاہب کی نو عمر لڑکیوں کے تاثرات عموماٌ عدالت کے فیصلے کے حق میں تھے۔

ریاست کیرالہ سے تعلق رکھنے والی شیرون سیباسٹین کا کہنا تھا کہ شادی کا لازمی طور پر رجسٹرڈ ہونی چاہیے۔’ آپ کے پاس اس بات کا ثبوت ہونا چاہیے کہ آپ شادی شدہ ہیں۔ کیوں کہ جب بھی شادی میں پریشانی ہو تو کم از کم ہمارے پاس ایک قانونی دستاویزہو‘۔

نینی تال سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ جوہی پرساد کا کہنا ہے کہ شادیوں کا رجسٹریشن اس لیے بھی ضروری ہے کیوں کہ کم عمر کی لڑکیاں جذباتی طور پر بالغ نہیں ہوتی ہیں اوروہ اکثر پیار کے جھانسے میں شادی کرلیتی ہیں،اس قانون کے ذریعہ اس طرح کی شادیوں پر روک لگے گی اور ساتھ ہی مجموعی طور پر بھی کم عمر میں ہونی والی شادیوں پر قابو پایا جا سکے گا۔

تاہم راجستھان کی تنوی جین کا کہنا ہے کہ’ شادی ایک ذاتی معاملہ ہوتا ہے اس لیے اس کا رجسٹریشن ان ک مرضی پر ہونا چاہیے اور اسے لازمی نہیں کرنا چاہیے‘۔

رجسٹرییشن ہونا چاہیے
 شادیوں کا رجسٹریشن ہونا چاہیے اور مسمانوں کو اس فیصلے کی مخالفت نہيں کرنی چاہیے کیونکہ رجسٹریشن کرانا کوئی گناہ نہيں ہے، یہ رجسٹریشن سبھی مذاہب کے لیے لازمی کیا جا رہا ہے اور یہ قدم عورتوں کے لیے بہتر ہے۔
رشاعابد
رشا عابد کا کہنا ہےکہ شادیوں کا رجسٹریشن ہونا چاہیے اور مسمانوں کو اس فیصلے کی مخالفت نہيں کرنی چاہیے کیوں کہ رجسٹریشن کرانا کوئی گناہ نہيں ہے، یہ رجسٹریشن سبھی مذاہب کے لیے لازمی کیا جا رہا ہے اور یہ قدم عورتوں کے لیے بہتر ہے۔

نازنین فاطمہ زيدی کا کہنا ہےکہ مسلم تنظیموں کے مقابلے کورٹ موجودہ حالات سے زیادہ باخبر ہے اس لیے سپریم کورٹ کا فیصلہ مناسب ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلمانوں سمیت بیشتر مذاہب کے لوگ اپنی شادیوں کا رجسٹریشن نہيں کراتے ہيں۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ رجسٹریشن لازمی ہوجائے گا۔
سماجی ماہرین کا کہنا ہےکہ اس سے نہ صرف کم عمری میں شادی اور شادی کے بعد دھوکہ دہی جیسے واقعات میں کمی ہوگی بلکہ شادی ناکام ہونے کی صورت میں بچوں کی پرورش اور نان و نفقہ جیسے معاملات میں خواتین کو انصاف مل سکے گا۔

اسی بارے میں
شادیوں کی رجسٹریشن لازمی
14 February, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد