شادی کے سرچ انجن میں آئی ٹی ماہرین کی تلاش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رافعہ خاتون اپنی 28 سالہ بیٹی رخشی کے لیے مناسب رشتہ تلاش کر رہی ہيں۔ عام طور پر ہندوستانی مردوں کو تعلیم یافتہ اور خوبصورت لڑکیوں کی تلاش رہتی ہے جبکہ بیشتر لڑکیاں ایسے شوہر کی تلاش میں رہتی ہیں جن کی حالت معاشی طور پر مستحکم ہو۔ شاید اسی لیے رافعہ خاتون نے اپنی بیٹی پر زور ڈالا کہ وہ خود کو ’بھارت میٹریمنی ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ پر رجسٹر کریں۔ شادیاں کروانے میں مدد کرنے والی اس ویب سائٹ پر تقریباً ایک کروڑ افراد نے اپنے آپ کو رجسٹر کروا رکھا ہے۔ ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ ان کے توسط سے ایک ’بہترین ہم سفر‘ مل سکتا ہ۔ اور اگر کسی کو اپنی پسند کا شریک حیات نہ مل پائے، تو ان لوگوں کو مشورہ دینے کے لیے ماہرین موجود ہيں جو مناسب ہم سفر تلاش کرنے میں ان کی مدد کريں گے۔ لیکن رافعہ خاتون کو معلوم ہے کہ انہیں اپنی بیٹی کے لیے کیسے ہم سفر کی تلاش ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ’ مجھے ایک آئی ٹی ماہر کی تلاش ہے اور بہتر یہی ہوگا کہ وہ لندن میں مقیم ہو، یا پھر کوئی ایسا شخص ہو جس کے پاس مستقبل میں بیرون ملک جانے کے مواقع ہوں‘ ۔ تقریباً ایک دہائی پہلے تک انڈیا میں شادیوں کے لیے سرکاری ملازمین اور اکاؤنٹنٹس کو ترجیح دی جاتی تھی۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں اچھی اور نوکری مستقل ہوتی تھی۔ لیکن اب حالات بدل چکے ہیں۔ رافعہ خاتون کا کہنا تھا کہ’ ہمارے زمانے میں لوگوں کے پاس اتنی تعلیم نہیں ہوتی تھی۔ اور ہمیں اتنی معلومات بھی نہیں تھی۔ اسی وجہ سے والدین اپنی بیٹیوں کے لیے سرکاری ملازمین یا ڈاکٹر ہی تلاش کرتے تھے۔ ہمارے زمانے میں ٹیکنالوجی ماہرین کا تو نام ونشاں تک نہ تھا‘ ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ’میری بڑی بیٹی کی شادی ایک آئی ٹی ماہر سے ہوئی ہے اور اب وہ لندن میں رہتی ہے۔ اس کے شوہر کی آمدنی کافی اچھی ہے اور اس کے پاس گاڑی بھی ہے اور اچھا گھر بھی‘۔
انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ اگر اب ان کی چھوٹی بیٹی کی شادی بھی ایک آئی ٹی ماہر سے ہو جائے تو اس کی زندگی بھی سنور جائے گی۔ بھارت میٹریمنی کے سربراہ مروگول جانکی رمن کا کہنا ہے کہ انڈیا میں اب انٹرنیٹ پر مناسب رشتے تلاش کرنا کوئی غیرمعمولی بات نہیں رہ گئی ہے۔ ’انڈیا میں آئی ٹی ماہرین نہ صرف ملازمتوں کی مارکیٹ میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں بلکہ شادیوں کے لیے بھی انہیں سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے‘ ۔ ممبئی کی ڈیٹامیٹکس کمپنی کے ٹیکنالوجی مینجر فرینک رمن کہتے ہیں کہ ’کاش ہماری اتنی مانگ اس وقت بھی ہوتی جب میں جوان اور غیر شادی شدہ تھا۔ میرے لیے تو اب بہت دیر ہوچکی ہے!‘۔ |
اسی بارے میں صلح کے لیے کم سن بچوں کا نکاح28 December, 2006 | پاکستان بیوی بکری ہو گئی25 February, 2006 | آس پاس شادی صرف ’خوشخبری‘ کے لیے22 November, 2006 | Guest برطانیہ: شادی پر پابندی غیر انسانی11 April, 2006 | آس پاس سولہ نہیں اب بائیس سالہ دلہن13 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||