برطانیہ: شادی پر پابندی غیر انسانی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے ہائی کورٹ نے تارکین وطن کی شادیوں کو ہوم آفس کی پیشگی اجازت سے مشروط کرنے کو حقوقِ انسانی کے خلاف قرار دیا ہے۔ لندن ہائی کورٹ نے تارکین وطن کی شادیوں سے متعلق برطانوی حکومت کی طرف سے متعارف کرائے گئے نئے ضوابط کو یورپی یونین کے انسانی حقوق کے کنونشن کے برخلا قرار دیا ہے۔ یہ ضوابط دو سال پہلے متعارف کرائے گئے تھے جن کے تحت تارکین وطن کے لیے لازمی قرار دے دیا گیا تھا کہ شادی کرنے سے پہلے وزارت داخلہ سے اجازت لیں۔ برطانوی حکام کے مطابق یہ قدم جعلی شادیوں کو روکنے کے لیے لیا گیا تھا۔ لیکن مسٹر جسٹس سلبر نے قرار دیا ہے کہ یہ رولز بے جواز اور انسانی حقوق کے خلاف ہیں۔ اگرچہ عدالت نے حکم نہیں دیا اب برطانیہ میں مقیم تارکین وطن کو شادی کے لیے وزارت داخلہ سے اجازت نہیں لینی پڑے گی لیکن ہوم آفس نے جزی طور پر اس پابندی کو معطل کر دیا ہے۔ اس قانون کے خلاف مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ یہ قانون امتیازی ہے اور اس سے کچھ تارکینِ وطن پر دھوکے باز ہونے کا لیبل لگتا ہے۔ برطانوی ماہر قانون صبغت اللہ قادری کا کہنا ہے کہ اب حکومت یا تو عدالتی فیصلے اور یورپی یونین کی حقوق انسانی کنوینشن کی خلاف ورزی کرے گی یا قانون تبدیل کرے گی اور غالب امکان یہ ہے کہ قانون ہی تبدیل کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں جبری شادی کے قانون پر بحث05 September, 2005 | آس پاس زبردستی کی شادی کے خلاف فتویٰ13 April, 2005 | آس پاس جعلی شادیاں، 25 افراد کو سزا18 January, 2005 | آس پاس برطانیہ: مرضی کے خلاف شادی جرم27 October, 2004 | آس پاس قمرالدین کی 53ویں شادی06 October, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||