جعلی شادیاں، 25 افراد کو سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کے شہر لیئسٹر کی ایک عدالت نے پچیس افراد کو جعلی شادیاں کرانے کے جرم میں کل پینتیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔ ان افراد نے جعلی شادیاں کرانے کا ایک نیٹ ورک قائم کیا ہوا تھا اور اس کے سرغنہ لیئسٹر کے پچاس سالہ سلیم ملان اور ایسٹ ہیم لندن کے سڑسٹھ سالہ ابراہیم عمرجی تھے۔ دونوں نے غیرقانونی طور پر برطانیہ میں آنے والے افراد کی مدد کرنے کا اعتراف کیا۔ لیئسٹر کے کراؤن کورٹ کو بتایا گیا گینگ نے کئی افراد کی جعلی شادیاں کروائیں تاکہ برطانیہ کے امیگریشن سسٹم کو استعمال کر کے ان کو امیگریشن دلوائی جا سکے۔ سلیم اور ابراہیم کو چار سال قید کی سزا سنائی گئی۔ سلیم ملان کی اہلیہ جہارہ کو منی لانڈرنگ کے جرم میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی۔
عدالت کو بتایا گیا کہ ایک جعلی دلہن نے گزشتہ پانچ سالوں میں چھ افراد سے شادیاں کی ہیں۔ چھبیس افراد کو سزا سناتے ہوئے جج سائمن ہیمونڈ نے کہا کہ ’سزا سے اس عوامی ضرورت کو اجاگر کیا گیا ہے کہ اس طرح کے پیسہ کمانے کے جعلی کاموں سے دوسروں کو روکا جا سکے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس کام کو کرنے کا برطانوی شہریوں کا مقصد پیسہ کمانا تھا اور بھارتی باشندوں کا برطانیہ میں داخل ہونا اور یہاں رہنا تھا۔ سزا پانے والوں میں سے چودہ خواتین تھیں۔ گینگ نے کل 36 شادیاں کروائی تھیں جن میں سے کچھ برطانیہ اور کچھ بھارت میں انجام پائی تھیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||