برطانیہ: مرضی کے خلاف شادی جرم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ کی وزارت داخلہ مرضی کے خلاف شادی کوفوجداری جرم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔ برطانوی وزارت داخلہ کو ہر سال ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں برطانوی شہریت رکھنے والی لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ برطانیہ کی ایشیائی کیمیونٹی میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔ والدین کی مرضی سے ہونے والی شادی اور زبردستی کی شادی میں فرق ہے اور برطانوی وزارت داخلہ صرف زبردستی کی شادی کو خلاف قانون قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔ پچھلے ایک سال میں برطانوی وزارت خارجہ کو زبردستی کی شادیوں کے تقریباً تین سو واقعات سے نپٹنا پڑا تھا۔ برطانیہ کی حکومت کو شکایت موصول ہوئی ہیں کہ ایشا کے بعض باشندے اپنے بیٹیوں کی شادیاں ان کی مرضی کے خلاف کر دیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے کے لیے تشدد اور دھمکیوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات میں کئی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ مل کر ایک ایسا یونٹ تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں جو مرضی کے بغیر شادیوں کی روک تھام کے لیے کام کرئے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||