BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 October, 2004, 01:27 GMT 06:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
برطانیہ: مرضی کے خلاف شادی جرم
ایشائی عورتیں
برطانیہ میں زبردستی کی شادی کو قابل دست اندازی پولیس جرم قرار دینے پر غور ہو رہا ہے
برطانیہ کی وزارت داخلہ مرضی کے خلاف شادی کوفوجداری جرم قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔

برطانوی وزارت داخلہ کو ہر سال ایسے واقعات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں برطانوی شہریت رکھنے والی لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔

برطانیہ کی ایشیائی کیمیونٹی میں ایسے واقعات عام ہیں جن میں نوجوان لڑکیوں کی شادی ان کی مرضی کے خلاف کر دی جاتی ہے۔

والدین کی مرضی سے ہونے والی شادی اور زبردستی کی شادی میں فرق ہے اور برطانوی وزارت داخلہ صرف زبردستی کی شادی کو خلاف قانون قرار دینے پر غور کر رہی ہے۔

پچھلے ایک سال میں برطانوی وزارت خارجہ کو زبردستی کی شادیوں کے تقریباً تین سو واقعات سے نپٹنا پڑا تھا۔

برطانیہ کی حکومت کو شکایت موصول ہوئی ہیں کہ ایشا کے بعض باشندے اپنے بیٹیوں کی شادیاں ان کی مرضی کے خلاف کر دیتے ہیں اور وہ ایسا کرنے کے لیے تشدد اور دھمکیوں کا استعمال کرتے ہیں ۔ اس طرح کے واقعات میں کئی جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔

برطانوی وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ مل کر ایک ایسا یونٹ تشکیل دینے پر غور کر رہے ہیں جو مرضی کے بغیر شادیوں کی روک تھام کے لیے کام کرئے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد