طالبان، کرزئی کی پیش کش مسترد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان شدت پسندوں نے افغان صدر حامد کرزئی کی طرف سے امن مذاکرات کی پیش کش کو ٹھکرا دیا ہے۔ طالبان نے کہا ہے کہ افغان حکومت سے اس وقت تک کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے جب تک ملک میں غیر ملکی فوجی موجود ہیں۔ حامد کرزئی کی طرف سے طالبان کو مذاکرات کی پیش کش پر امریکہ نے شک و شبہ کا رد عمل ظاہر کیا تھا۔ گزشتہ اتوار کو صدر حامد کرزئی نے کہا تھا کہ اگر طالبان رہنما ملا عمر مذاکرات پر تیار ہو جاتے ہیں تو انہیں مکمل سیکیورٹی فراہم کرنے اور گرفتار نہ کیئے جانے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ ملا عمر کی گرفتاری میں مدد دینے یا ان کے بارے میں اطلاع دینے پر امریکی حکومت نے کئی لاکھ ڈالر کا انعام مقرر کر رکھا ہے۔ حامد کرزئی نے کہا کہ اگر امریکہ اور مغربی طاقتیں ان کی پیش کش سے متفق نہیں ہوتے تو وہ ملک چھوڑ کر جا سکتے ہیں یا انہیں اقتدار سے علیحدہ کر سکتے ہیں۔ طالبان کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر حامد کرزئی کی مذاکرات کی پیش کش قبول کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ قاری یوسف احمدی نے کہا ’افغانستان میں اصل اقتدار حامد کرزئی کے ہاتھوں میں نہیں ہے اور یہ اوروں کے ہاتھوں میں ہے اس لیے ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ طالبان رہنما ملا عمر کے ایک قریبی ساتھی ملا بھائی نے فیصلہ کیا ہے کہ جب تک افغانستان میں غیر ملکی افواج موجود ہیں وہ کسی قسم کے مذاکرات نہیں کریں گے۔ افغان صدر حامد کرزئی کافی عرصے سے افغانستان میں جاری تشدد کا سیاسی حل ڈھونڈنے کے لیے طالبان سے مذاکرات کرنے کی بات کرتے رہے ہیں۔ افغانستان کے مسئلہ کا حل ڈھونڈنے کے لیے مذاکرات کا ذریعے اپنانے کی بات کچھ دیگر حلقوں کی طرف سے بھی جن میں چند مغربی طاقتیں بھی شامل ہے کی جاتی رہی ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجے موجمدار کا کہنا کہ صدر حامد کرزئی کی طرف سے ملا عمر کو تحفظ فراہم کرنے کی بات نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا کیونکہ ملاعمر سن دو ہزار ایک سے روپوش ہیں اور ان کا نام امریکہ کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہے۔ واشنگٹن نے حامد کرزئی کی اس پیش کش پر محتاط رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صدر حامد کرزئی کی حمایت جاری رکھیں گے لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان تشدد کا راستہ ترک کرنے کے لیے تیار ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان گورڈن جونڈر نے کہا تھا کہ انہیں ملا عمر کی طرف سے ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا جس سے یہ اندازہ ہو سکے کہ وہ طالبان سے اپنا تعلق ختم کر کے افغان حکومت اور آئین کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہیں۔‘ |
اسی بارے میں کرزئی کی ملا عمر کو امن پیشکش16 November, 2008 | آس پاس طالبان کے ساتھ مذاکرات: اہم قدم یا25 October, 2008 | آس پاس کرزئی کا اوباما سے حملےروکنےکامطالبہ06 November, 2008 | آس پاس پاک، افغان تعلقات کا فائدہ اٹھائیں14 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||