کرزئی کی ملا عمر کو امن پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے امریکہ کو مطلوب طالبان رہنما ملا عمر کو پیشکش کی ہے کہ اگر وہ امن مذاکرات کے لیے تیار ہوجائیں تو اُن کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حامد کرزئی نے پیشکش امریکہ کی جانب سے ملا عمر کی گرفتاری پر یا ان کی گرفتاری میں مدد دینے والے کو کئی ملین ڈالر انعام دیے جانے کے اعلان کے باوجود کی ہے۔ افغان صدر کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کو اُن کی اِس پیشکش سے اتفاق نہیں ہے تو یہ ممالک افغانستان سے چلے جائیں یا انہیں صدر کے عہدے سے ہٹا دیں۔ اب تک اس پیشکش پر شدت پسندوں کی جانب کوئی فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ طالبان رہنما ملا عمر کو دوہزار ایک میں اس وقت گرفتار نہیں کیا جا سکا تھا جب افغانستان میں طالبان کی حکومت ختم کی گئی تھی۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر عالمی بحث میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ آیا طالبان سے بات چیت افغانستان کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے یا نہیں۔ افغان صدر حامد کرزئی نے دارالحکومت کابل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’اگر مجھے یہ جواب ملا کہ وہ (ملا عمر) افغانستان آنے یا امن کے لیے بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں تو میں افغان صدر کی حیثیت سے انہیں تحفظ فراہم کرنے کے لیے کوئی بھی قدم اٹھا سکتا ہوں۔‘ انہوں نے کہا ’اگر میں کہتا ہوں کہ میں ملا عمر کے لیے تحفظ چاہتا ہوں تو اس کے بعد عالمی برادری کے لیے دو راستے ہیں: اگر وہ اتفاق نہیں کرتے تو مجھے ہٹا دیں یا خود چلے جائیں اور دونوں ہی اچھے ہیں‘۔ حامد کرزئی نے مزید کہا ’اگر وہ افغانستان میں امن کی بنا پر مجھے بزور ہٹاتے ہیں تو مجھے بہت خوشی ہو گی۔ لیکن اگر انہیں اس سے اتفاق نہیں ہے تو وہ جا سکتے ہیں تاہم ہم ابھی اس مرحلے میں نہیں ہیں۔‘ | اسی بارے میں ’اسامہ، ملا عمر پاکستان میں ہیں‘09 February, 2008 | آس پاس طالبان خطرہ نہیں: کرزئی21 June, 2007 | آس پاس قسم سے تحفظ فراہم کروں گا: کرزئی26 May, 2006 | آس پاس اُسامہ کہاں، معلوم نہیں: ملا عمر04 January, 2007 | آس پاس ملا عمر کو رابطے کی پیشکش09 January, 2006 | آس پاس ’اسامہ اور ملا عمر زندہ ہیں‘15 June, 2005 | آس پاس ملا عمرکو معافی کی پیشکش09 May, 2005 | آس پاس ’اسامہ زندہ ہیں‘ کرزئی31 January, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||