پاک، افغان تعلقات کا فائدہ اٹھائیں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان صدر حامد کرزئی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ بہتر ہوتی ہوئے تعلقات کو افغانستان میں صورتحال کی بہتری کے لیے استعمال کیا جائے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں افغان صدر نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک موثر حکمتِ عملی بنائی جا سکے۔ پاکستان میں طالبان جنگجوؤں کی پناہ گاہوں کی موجودگی کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ افغان صدر نے کہا کہ طالبان کے خلاف لڑائی صرف فوجوں کی تعداد بڑھا کر نہیں بلکہ حکمت عملی سے جیتی جاسکتی ہے۔ صدر کرزئی نے کہا: ’افغانستان کو وسائل اور حمایت درکار ہے انتظامیہ اور حکومت چلانے کے لیے اور ان دہشت گردوں کے خلاف باقی دنیا کے ساتھ مل کر لڑنے کے لیے جو ہم سب لوگوں کو مار رہے ہیں۔ اس مقصد کے لیے عالمی برادری کو ہم سے جو بھی چاہیے تھا اور جو کچھ بھی ہمارے پاس تھا، بون سمجھوتے کے بعد سے وہ ہم دے چکے ہیں۔‘ صدر کرزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگجوؤں کے خلاف حکمت عملی میں طالبان اور القاعدہ کے پاکستان میں اڈوں کے خلاف کارروائی کو بھی شامل ہونا چاہیے۔ صدر کرزئی نے انٹرویو کے دوران برطانوی فوجیوں کی تعریف کی اور کہا کہ برطانوی فوجی افغانستان کے سب سے مشکل علاقے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ نے جو کچھ افغانستان کے لیے کیا ہے اس کے لیے افغانستان کے عوام ان کے مشکور ہیں۔ دریں اثناء طالبان نے افغان حکام کی جانب سے اپنے تین ساتھیوں کو پھانسی دیے جانے کی مذمت کی ہے۔ افغان حکام کےمطابق یہ لوگ قتل اور زنا کے جرم میں ملوث تھے جبکہ طالبان کے مطابق پھانسی پانے والے مجاہدین آزادی تھے۔ طالبان نے خبردار کیا کے پھانسی دینے کے ذمہ دار افراد کو سزا دی جائے گی۔ افغان حکام نے تقریباً ایک برس کے بعد اس ہفتے دوبارہ سزائے موت دینے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ | اسی بارے میں طالبان کے ساتھ مذاکرات: اہم قدم یا25 October, 2008 | آس پاس افغانستان: طالبان مزاحمت پرتشویش04 August, 2008 | آس پاس ’القاعدہ سے جنگ افغانستان میں‘21 July, 2008 | آس پاس اوبامہ کی کرزئی سے ملاقات20 July, 2008 | آس پاس پاکستان پر کرزئی کا براہِ راست الزام14 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||