اوبامہ کی کرزئی سے ملاقات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کےصدارتی امیدوار باراک اوبامہ نے دورہِ افغانستان کے دوران ملک کے صدر حامد کرزئی سے ملاقات کی ہے۔ وہ افغانستان میں اس سے پہلے امریکی فوجی حکام سے بھی ملاقات کر چکےہیں۔ وہ اپنے پہلے بین الاقوامی دورے کے سلسلے میں سنیچر کو ہی کابل پہنچے تھے۔ انہوں نے شہر میں امریکی فوجیوں کے ساتھ ناشتہ کیا۔ اوبامہ اور کرزئی نے صدارتی محل میں دوپہر کا کھانا اکٹھے کھایا۔ ان کی ملاقات کی تفصیل جاری نہیں کی گئی۔ اوبامہ کہہ چکے ہیں کہ اگر وہ صدر منتخب ہو گئے تو وہ مزید فوج افغانستان بھیجیں گے۔ اس ہفتے ایک اہم تقریر میں مسٹر اوبامہ نے کہا تھا کہ امریکہ کو عراق کے بجائے افغانستان پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ نامہ نگاروں کے مطابق اوبامہ افغانستان میں سکیورٹی کے معاملے پر بات چیت کریں گے۔ صدارتی انتخاب میں اپنے حریف جان مکین کےمقابلے میں سکیورٹی کے معاملات پر ان کی گرفت کو کمزور سمجھا جارہا ہے۔ افغانستان کے جنوبی صوبے میں طالبان کی مزاحت میں حالیہ دنوں میں اضافہ ہوا ہے اور اسی ہفتے نورستان میں طالبان کے ایک بڑے حملے میں نو امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ پوچھے جانے پر کہ وہ عراقی اور افغان حکام کو کیا پیغام دیں گے، مسٹر اوبامہ نےکہا کہ وہ ’زیادہ بولنے کے مقابلے میں سننے کو ترجیح دیں گے۔‘ ’میں وہاں ایک سینیٹر کی حیثیت سے جا رہا ہوں۔ امریکہ میں ایک وقت میں ایک ہی صدر ہوتا ہے اور اس طرح کے پیغامت دینا صدر کا کام ہے۔‘ لیکن انہوں نے کہا کہ وہ دونوں ملکوں میں فوجی کمانڈروں سے بات چیت کریں گے اور ان کے مسائل معلوم کریں گے۔ اس دورے پر مسٹر اوبامہ کے ساتھ امریکی ٹی وی چینلوں کی پوری ٹیم سفر کر رہی ہے اور ان کے ہر بیان پر نہ صرف صحافیوں بلکہ جان مکین کے کیمپ کی نگاہیں بھی ٹکی رہیں گی۔ افغانستان کے بعد مسٹر اوبامہ عراق، اردن، اسرائیل، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کا دورہ بھی کریں گے۔ | اسی بارے میں طالبان، القاعدہ کو ختم کریں گے:اوبامہ15 July, 2008 | آس پاس اوباما کی حمایت میں بل کلنٹن25 June, 2008 | آس پاس اوبامانےاپنی کامیابی کا اعلان کر دیا04 June, 2008 | آس پاس اوبامہ کے کارٹون پر تنازعہ14 July, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||