طالبان، القاعدہ کو ختم کریں گے:اوبامہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر کے عہدے کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ صدر منتخب ہونے کی صورت میں وہ افغانستان اور پاکستان میں القاعدہ اور طالبان کی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ ایک بین الاقوامی دورے پر روانہ ہونے سے قبل مسٹر اوبامہ نے کہا کہ امریکہ کی موجودہ پالیسی عراق پر ہی شروع اور ختم ہوتی ہے جو امریکہ کو محفوظ رکھنے کے لیے اچھی حکمت عملی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق سے امریکہ کا انخلا ان کی پہلی ترجیح ہوگی۔ لیکن ان کے رپبلکن حریف جا مکین نےالزام لگایا کہ مسٹر اوبامہ اپنی عراق پالیسی بدلتے رہتےہیں۔ مسٹر مکین نے کہا کہ عراقی میں امریکی افواج کی تعداد بڑھانے سے وہاں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے اور اب یہی حکمت عملی افغانستان میں بھی اختیار کی جانی چاہیے۔ نیو میکسیکو میں اپنے حامیوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر مکین نے کہا کہ صدر چنے جانے پر وہ ’افغانستان کی جنگ کا حلیہ بدل کر رکھ دیں گے بالکل اسی طرح جسیے ہم نے عراق میں کیا ہے۔‘ مسٹر اوبامہ نے اپنی خارجہ پالیسی پر تقریر ایسے وقت کی ہے جب وہ عراق اور افغانستان کے دورے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہو نے کہا کہ ’ اس جنگ سے ہماری سکیورٹی، دنیا میں ہمارا رتبہ، ہماری فوج، ہماری معیشت اور اکیسویں صدی کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے ہمارے وسائل، سب کو نقصان پہنچ رہا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ عراق کی جنگ ختم کی جانی چاہیےکیونکہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عراق مرکزی محاذ نہ ہے اور نہ کبھی تھا۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ طالبان اور القاعدہ کے خلاف جنگ ختم کرنے کو زیادہ ترجیح دیں گے اور یہ کہ ان دونوں کے خاتمے کے لیے ناٹو، افغانستان اور پاکستان کے درمیان گہرے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ | اسی بارے میں عراق: خودکش بم دھماکہ 30 ہلاک13 May, 2007 | آس پاس فلوجہ: خودکش حملہ، 20 ہلاک31 May, 2007 | آس پاس عراق: خودکش حملہ، 27 ہلاک06 August, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||