طالبان بس حملے میں متعدد ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان کے جنوبی صوبے قندھار میں طالبان نے بس میں سفر کر رہے کم از کم ستائیس افراد کو ہلاک کر دیا۔ طالبان کے ترجمان نے بتایا کہ تین بسوں پر حملے میں ہلاک ہونے والے تمام افراد افغان فوجی تھےلیکن افسران کے مطابق یہ تمام شہری تھے۔یہ حملہ جمعرات کو کیا گیا تھا لیکن لاشیں ابھی برآمد کی گئی ہیں۔مقامی اور فوجی ذرائع کے مطابق کئی لوگوں کی گردنیں کاٹی گئی ہیں۔ طالبان کے ترجمان نے کہا کہ ان کے ’مجاہدین‘ نے بس میں سوار فوجیوں کواتار کر انہیں گولی مار دی جبکہ شہریوں کو آزاد کر دیا گیا۔افغان افسران کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے تمام لوگ شہری تھے کیونکہ فوجی یا تو فوجی قافلوں میں سفر کرتے ہیں یا پھر ہوائی جہاز سے۔ قندھار میں حالیہ دنوں میں شدید لڑائی دیکھنے میں آئی تھی۔ کابل سے بی بی سی کے مارٹن پیشنس نے لکھا ہے کہ جنوبی افغانستان میں افغان فوج اور بین الاقوامی افواج حکومت مخالف طاقتوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔ اس حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے قندھار کے پولیس چیف کے حوالے سے بتایا کہ طالبان ایک بس کو روکنے میں ناکام رہے جس کے بعد انہوں نے بس پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں بس پر سوارایک بچہ ہلاک ہوگیا۔ طالبان نے ایک اور بس کو روکا جس میں پچاس لوگ سوار تھے جن میں سے چوبیس لوگوں کو ہلاک کر کے باقی لوگوں کو رہا کر دیا گیا۔ خبر رساں ادارے ایسو سی ایٹڈ پریس نے افغانستان کی وزارتِ دفاع کے ترجمان جنرل محمد ظاہر عظیمی کے حوالے سےبتایا کہ اس حملے میں مجموعی طور پر اکتیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک شدگان میں سے چھ کی گردنیں کاٹ دی گئیں جبکہ باقیوں کو گولی ماری گئی۔ | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس لڑائی میں’درجنوں طالبان ہلاک‘12 October, 2008 | آس پاس طالبان پروپیگنڈے سے نمٹنے کا منصوبہ10 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس افغان پولیس سربراہ کو قتل کر دیا28 September, 2008 | آس پاس جنگ پاکستان آنے کا خطرہ: طارق علی 23 September, 2008 | آس پاس ’ضرورت پرکارروائی سےگریز نہیں‘19 September, 2008 | آس پاس امریکی جنرل کے سامنے کئی چیلنج17 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||