BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2008, 07:15 GMT 12:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ستر فیصد افغانستان میں طالبان: رپورٹ
رپورٹ کے مطابق طالبان دارالحکومت کابل کے گرد گھیرا تنگ کررہے ہیں

ایک امریکی تھِنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ستر فیصد سے زائد علاقوں میں طالبان کی مستقل موجودگی ہے۔

دریں اثناء طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں پھر سے شروع ہوئی ہیں۔

انٹرنیشنل کونسل آن سکیورٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ یعنی سکیورٹی اور ترقی سے متعلق عالمی کونسل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب جنوبی افغانستان میں طالبان کا کنٹرول صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں ہے۔

افغانستان کی حکومت نے اس ادارے کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان کے ’بہتر فیصد علاقے میں طالبان کی مستقل موجودگی ہے۔‘

اس رپورٹ کے مطابق ’مستقل موجودگی‘ کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں پورے ایک سال میں لگ بھگ ایک یا اس سے زیادہ حملے فی ہفتہ ہوئے ہوں۔

لیکن نیٹو اور امریکی فوجی اتحاد کے ترجمان جیمز اپاتھورئی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ہم اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو بالکل ہی قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں۔‘

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جیمز اپاتھورئی نے بتایا: ’طالبان صرف جنوب اور مشرق میں موجود ہیں جو کہ ملک کے پچاس فیصد حصے سے بھی کم ہے۔‘

لیکن امریکی تھِنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اردگرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کابل کے قریب اڈے بنارہے ہیں اور اس کے نتیجے میں کابل میں ہونے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

دریں اثناء بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان کے کچھ رہنماؤں سے مذاکرات کی کوششیں پھر سے شروع ہوگئی ہیں اور جلد ہی دبئی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہونے والی ہے۔

امریکہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دبئی میں ہونے والے ان مذاکرات کی حمایت کررہا ہے۔ مذاکرات میں دونوں جانب سے چالیس افراد موجود ہونگے۔

افغانستان میں تین لاکھ بچے سکول نہیں جارہے: صدر کرزئی طالبان کی دھمکی
افغانستان میں درجنوں سکول بند
فائل فوٹوسات سال بعد
اتحادیوں کو افغانستان زیادہ خطرناک لگتا ہے۔
ملا عمر ملا عمر کا پیغام
’انخلاء کا فیصلہ کر لو تو محفوظ راستہ دیں گے‘
جنگ کا حل کیا؟
طالبان سے مذاکرات یا مسلسل کشمکش
القاعدہ کی تشویش
طالبان-افغان حکومت کے مذاکرات پر تشویش
ڈاکٹر حنیف طالبان، الزام و تردید
افغانستان میں سابق طالبان ترجمان کا قتل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد