ستر فیصد افغانستان میں طالبان: رپورٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی تھِنک ٹینک کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ستر فیصد سے زائد علاقوں میں طالبان کی مستقل موجودگی ہے۔ دریں اثناء طالبان اور افغان حکومت کے درمیان امن مذاکرات کی کوششیں پھر سے شروع ہوئی ہیں۔ انٹرنیشنل کونسل آن سکیورٹی اینڈ ڈیویلپمنٹ یعنی سکیورٹی اور ترقی سے متعلق عالمی کونسل کی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب جنوبی افغانستان میں طالبان کا کنٹرول صرف دیہی علاقوں تک محدود نہیں ہے۔ افغانستان کی حکومت نے اس ادارے کی رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ تاہم اس ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ افغانستان کے ’بہتر فیصد علاقے میں طالبان کی مستقل موجودگی ہے۔‘ اس رپورٹ کے مطابق ’مستقل موجودگی‘ کا مطلب ہے کہ اس علاقے میں پورے ایک سال میں لگ بھگ ایک یا اس سے زیادہ حملے فی ہفتہ ہوئے ہوں۔ لیکن نیٹو اور امریکی فوجی اتحاد کے ترجمان جیمز اپاتھورئی نے اس رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے کہا: ’ہم اس رپورٹ کے اعداد و شمار کو بالکل ہی قابل اعتماد نہیں سمجھتے ہیں۔‘ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جیمز اپاتھورئی نے بتایا: ’طالبان صرف جنوب اور مشرق میں موجود ہیں جو کہ ملک کے پچاس فیصد حصے سے بھی کم ہے۔‘ لیکن امریکی تھِنک ٹینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان افغانستان کے دارالحکومت کابل کے اردگرد گھیرا تنگ کررہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کابل کے قریب اڈے بنارہے ہیں اور اس کے نتیجے میں کابل میں ہونے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔ دریں اثناء بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ طالبان کے کچھ رہنماؤں سے مذاکرات کی کوششیں پھر سے شروع ہوگئی ہیں اور جلد ہی دبئی میں افغان حکومت اور طالبان کے نمائندوں کے درمیان بات چیت ہونے والی ہے۔ امریکہ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ دبئی میں ہونے والے ان مذاکرات کی حمایت کررہا ہے۔ مذاکرات میں دونوں جانب سے چالیس افراد موجود ہونگے۔ |
اسی بارے میں پاکستان میں طالبان کو نیٹو کی وارننگ 24 July, 2008 | آس پاس روس کا نیٹو سے فوجی تعاون ’ختم‘21 August, 2008 | آس پاس ہیروئن اسمگلنگ روکیں: گیٹس10 October, 2008 | آس پاس ’کوششیں غیر مربوط، عزم متزلزل‘21 October, 2008 | آس پاس افغانستان: بیرونی فوجیوں کی مذمت22 October, 2008 | آس پاس ’نیٹو، پاک فوج میں بہترین تعاون‘24 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||