روس کا نیٹو سے فوجی تعاون ’ختم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس نے کہا ہے کہ وہ نیٹو تنظیم کے ساتھ تمام فوجی تعاون کو وقتی طور پر روک رہا ہے۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ نیٹو کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اس کے لیے جورجیا کے صدر کی حمایت زیادہ اہم ہے یا وہ روس کے ساتھ مربوط تعلقات۔ روسی اقدام نیٹو تنظیم کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جورجیا سے مکمل روسی انخلاء تک روس کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔ ادھر روسی کے ایک فوجی کمانڈر جنرل ولادی میر بولڈیرف نےکہا ہے کہ جارجیا میں روسی فوجیوں کی بڑی تعداد دس دنوں میں جورجیا سے نکل جائیں گی۔ جورجیا کے ساتھ محاذ آرائی کے بعد روس کا موقف رہا ہے کہ اس کے کم از کم پانچ سو فوجی ’ذمہ داری کے زون‘ میں رہیں گے۔ روس کا موقف ہے کہ وہ جورجیا اور اوسیٹیا کے درمیان کے ایک بفر زون قائم کرے گا تاکہ جارجیا آئندہ اوسیٹیا کے خلاف جارحیت نہ کر سکے۔ ادھر جورجیا سے علیحدگی کے خواہاں علاقوں، جنوبی اوسیٹیا اور ابخازیا میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے جارجیا سے آزادی کے لیے سڑکوں پر مارچ کیا۔ روس وزیر خارجہ سرگئی لیوروف نے کہا ہے کہ ابخازیا اور جنوبی اوسیٹیا میں آزادی کے حق میں مظاہروں پر روسی ردعمل جارجیا کے صدر میخائل ساکاشولی کے ردعمل پرمنحصر ہے۔ روس کی طرف سے نیٹو کے ساتھ تعاون روکنے کے اعلان پر نیٹو کے ترجمان نے کہا ہے کہ نیٹو کو روسی فیصلے کی خبر ہے۔ نیٹو نے اس سے زیادہ کسی ردعمل کا اظہار کرنے سے انکار کیا۔ روسی وزیر خارجہ نے کہا کہ روس نیٹو پر اپنے دروازے بند نہیں کرنا چاہتا لیکن نیٹو کو بھی یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا اس کے لیے جورجیا کےصدر میخائل ساکاشولی کی حمایت زیادہ اہم ہے یا روس کے ساتھ پائیدار تعاون۔ | اسی بارے میں پولینڈ، امریکہ میزائل معاہدہ14 August, 2008 | آس پاس ’لزبن معاہدے کی توثیق ابھی نہیں‘01 July, 2008 | آس پاس امریکی میزائل پر روس کا ردعمل 19 February, 2007 | آس پاس افغانستان: پولینڈ فوجی بھیجنے پر تیار14 September, 2006 | آس پاس روس اپنی فوج واپس بلائے: امریکہ15 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||