BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 24 November, 2008, 01:17 GMT 06:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نیٹو، پاک فوج میں بہترین تعاون‘
افغانستان میں جرگہ(فائل فوٹو)
مغربی ممالک پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کو قریب لانا چاہتی ہیں
نیٹو نے اتوار کو کہا ہے کہ افغانستان میں اس کی فوج اور پاکسانی فوج کے درمیان طالبان کے خلاف لڑائی میں بہترین تعاون ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں افواج طالبان کے خلاف سرحد کے آر پار مِل کر کارروائی کر رہی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور مغربی ممالک کی افواج کے درمیان پاکستانی علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ ٹھکانوں پر امریکی میزائیل حملوں کی وجہ سے کشیدگی پیدا ہو گئی تھی۔

رائٹرز نے خبر دی ہے کہ افغانستان میں نیٹو کی فوج کے ترجمان بریگیڈیر جنرل رچرڈ بلانشیت نے کہا ہے کہ نیٹو کی افواج نے افغانستان کے شمال مشرقی علاقے کنہڑ اور پاکستانی فوج نے اس سے متصل باجوڑ ایجنسی میں طالبان کے خلاف کارروائی شروع کی ہوئی جو تعاون کی ایک نئی مثال ہے۔

رائٹرز کی خبر کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ’پاکستان کے ساتھ اس سے پہلے اتنا اچھا تعاون نہیں رہا‘۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون سہ فریقی ملاقاتوں کا نتیجہ ہے جن میں افغانستان کی فوج، پاکستانی کی فوج اور افغانستان میں غیر ملکی فوج ایساف شامل تھے۔

’سردیوں میں پاکستان پسپا ہونا مشکل ہو جائے گا‘

بلانشیت نے کہا کہ یہ تعاون صرف کارروائی کی حد تک محدود نہیں بلکہ منصوبہ بندی بھی اس کا حصہ ہے۔

رائٹرز نے کہا کہ مبصرین کے مطابق طالبان جنگجوؤں پر سرحد کی دونوں طرف سے دباؤ کے باعث ان کے لیے معمول کے مطابق موسم سرما میں افغانستان سے پاکستان پسپا ہونے کی حکمت عملی پر عمل کرنا مشکل ہوگا۔

امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی پاکستان میں نئی حکومت کے قیام کے بعد سے افغانستان اور اس کے درمیان اشتراک پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ افغاسنتان کے صدر حامد کرزئی کا پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات کے برعکس نئے صدر زرداری کے ساتھ اچھا تعلق بن گیا ہے۔

حامد کرزئی صدر مشرف کے دور میں پاکستان کے خفیہ اداروں پھر الزام لگاتے تھے کہ ان میں کچھ عناصر طالبان کی مدد کرتے ہیں۔

افغانستان میں اس سال پرتشدد واقعات میں چار ہزار لوگ ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے ایک تہائی عام شہری ہیں۔ طالبان کے حملے اب جنوب اور مشرق میں ان کے روایتی گڑھ سے نکل کر کابل کے قریب بھی ہونے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے امریکہ کو افغانستان میں لڑائی کے بارے میں نئی حکمت عملی بنانے پر مجبور کردیا ہے، جو اب آٹھویں سال میں داخل ہو چکی ہے اور اس کے ختم ہونے کے کوئی آثار نہیں۔

اسی بارے میں
طالبان کاجنگ جیتنے کا عزم
14 November, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد