ہیروئن اسمگلنگ روکیں: گیٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہنگری میں ہونے والے نیٹو ممالک کے وزراء دفاع کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے افغانستان میں ہیروئن کی اسمگلنگ کے لیے مزید اقدامات کرنے پر زور دیا ہے۔ امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ افغانستان میں ہیروئن کے کاروبار میں ملوث بڑی بڑی مچھلیوں پر ہاتھ ڈالا جائے اور ان لیباٹریوں کو نشانہ بنایا جائے تاکہ طالبان کو جنگ کے لیے مالی وسائل مہیا نہ ہو سکیں۔ افغان وزیر خارجہ جنرل عبدالرحیم وردک نے بھی انہی خیلات کا اظہار کیا تھا۔ لیکن نیٹو کے رکن ممالک کا کہنا ہے کہ اس حکمت عملی سے ان کی فوجیوں پر حملے بڑھ جائیں گے اور ان کو مزید خطرات سے دوچار کر دے گا۔ ہیروئن کی غیر قانونی تجارت سے افغانستان میں جاری جنگ کے لیے ہزاروں ڈالر مہیا کیئے جاتے ہیں۔ نیٹو کے ایک اعلی اہلکار امریکی جنرل جان کریڈک نے کہا کہ افغان پولیس اس قبل نہیں ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں میں کامیابی حاصل کر سکے۔ | اسی بارے میں پوست پر پابندی، ہیروئن کم غربت زیادہ22 June, 2008 | آس پاس ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس ’طالبان کے لیے ایرانی ہتھیار‘15 September, 2008 | آس پاس پاکستان اہم میدان جنگ ہے: بش09 September, 2008 | آس پاس ’مزید دس ہزار فوجی چاہئیں‘17 September, 2008 | آس پاس ’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘30 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||