BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 27 December, 2008, 14:31 GMT 19:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ہم اپنی جنگیں خود لڑیں گے‘

آصف علی زرداری
آصف زرداری نے کہا ہے کہ ملک کو کینسر ہے جس کا علاج جمہوریت ہے
پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ وہ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستانی اپنے مسائل خود حل کریں گے اور اپنی جنگیں خود لڑیں گے۔

انہوں نے بینظیر بھٹو کی پہلی برسی کے موقع پر اپنی رہائش گاہ نوڈیرو ہاوُُس میں اسمبلی ارکان، وفاقی اور صوبائی وزراء سے خطاب میں کہا کہ ’ہمیں سکھانے کے ضرورت نہیں بلکہ دنیا کی قدیم جمہوریت اور سب سے بڑی جمہوریت کوہم سے سیکھنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ہم نے اپنے رہنماء اور لوگ کھوئے ہیں اور ہمیں پتا ہے کہ کیسے انتقام لیا جائے۔‘

انہوں نے گڑھی خدابخش بھٹو میں جمع ہونے والے ہزاروں کارکنان سے خطاب کرنے سےگریز کیا جس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔

آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان ناکام ریاست نہیں ہے ’مگر ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ملک کو کینسر ہے جس کا علاج جمہوریت ہے۔‘

آصف زرداری نے بے وطن کرداروں کے بارے میں کہا کہ وہ اپنا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں مگر وہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔انہوں نے کہا وہ نو منتخب امریکی صدر اوباما کے خیال سے متفق ہیں کہ اس کینسر کا ریجنل علاج ہونا چاہیے۔

آصف علی زرداری نے بینظیر کے قاتلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوڈیروں میں ان سے سب لوگ یہ بات کر رہے ہیں کہ بینظیر کےقاتلوں کا کیا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں بینظیر کے قاتلوں کا علم ہے اور وہ انہیں بے نقاب کریں گے مگر وقت کا انتظار کرنا چاہیے ۔انہوں کارکنان سے صبر کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قاتل یہ چاہتا ہے ک ہم جلد بازی کریں اور طیش میں آئیں مگر ہم ایسا ہرگز نہیں کریں ہم اپنے فیصلے کا وقت خود طے کریں گے۔

بینظیر کا مزار
ہزاروں افراد لاڑکانہ میں بینظیر کے مزار پر حاضری دے رہے ہیں

آصف زرداری نے اپنی تقریر میں کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ آپ کو اختلاف رائے کا حق ہے مگر ہمیں فیصلے کرنے کا حق عوام نے دیا ہے۔‘

آصف علی زرداری نے مزید کہا ہے کہ ان دوستوں کو صبر کرنا ہوگا جو جمہوریت کے لیے خطرات پیدا کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا انہیں معلوم ہے کہ تمام مشکلات اس لیے پیدا کی جا رہی ہیں کیونکہ مارچ میں سینیٹ کے انتخابت ہونے والے ہیں۔

’مگر سینیٹ انتخابات کی کسی کو کوئی فکر کرنے کی ضرورت نہیں وہ شفاف طریقے سے ہونگے۔‘

انہوں دوبارہ کسی کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ ’آپ نے تو انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا پھر آپ کو تو صبر کرنا چاہیے۔ آپ خوبصورت ہیں اور ٹی وی پر اچھا بولتے ہیں ۔آپ کو اجازت ہے آپ ٹی وی پر بولتے رہیں مگر آئندہ انتخابات کا انتظار کریں۔‘

آصف علی زرداری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ انہیں ملکی مسائل کے حل کا علم ہے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت سے لیکر بجلی پانی اور صنعت کے مسائل کا حل وہ جانتے ہیں مگر انہیں وقت درکار ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اقتدار کےایوانوں میں عوامی ووٹ کے ذریعے پہنچی ہے کسی کی رعایت یا سفارش سے نہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں مگر ان کی جماعت کے رہنما ان خطرات سے نمٹ لیں گے ۔

آصف زرداری نے کہا کہ وہ بے آواز لوگوں کی آواز ہیں اور بعض قوتوں سے ان کی اقتدار کے ایوانوں میں موجودگی برداشت نہیں ہو پا رہی ہے۔

آصف زرادی جب تقریر کر رہے تھے تو سٹیج پر بلاول بھٹو زرداری، دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ سمیت صنم بھٹو خاندان کےدیگر افراد بیٹھے ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
صدر زرداری دھوکہ کھاگئے
06 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد