ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | صدر آصف زرداری نے عالمی میڈیا کے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ پاکستان کو ثبوت فراہم کیے گئے |
صدر آصف علی زرداری نے عالمی میڈیا میں اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ مغربی خفیہ اداروں اور بھارتی حکومت نے پاکستان کو ممبئی حملوں سے متعلق شواہد فراہم کیے ہیں۔ ایوان صدر میں بی بی سی ٹی وی سے ایک خصوصی انٹرویو میں صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیکھا ہے جو پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کو درست قرار دیتا ہو۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم کی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ابھی ان کی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی ہیں۔ ’ہمیں کسی جلد فیصلے پر پہنچنے سے قبل تحقیقات کے مکمل ہونے کا انتظار کرنا چاہیے۔‘ اجمل قصاب کے والد کے مبینہ بیان کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابھی تک اس کی تحقیقات نہیں کی ہیں۔ میڈیا میں اجمل کے پاکستانی ہونے کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ اس بارے میں دو رائے سامنے آئی ہیں۔ ’کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ وہ پاکستان سے ہیں جبکہ بعض دوسرے لوگ اس رائے کو چیلنج کرتے ہیں۔ اس کی بھی تحقیقات مکمل ہو لینے دیں پھر دیکھ لیں گے۔‘ صدر نے کالعدم لشکر طیبہ کے مشتبہ رہنماؤں ذکی الرحمان لکھوی اور ضرار شاہ کی گرفتاری کے بارے میں کہا کہ انہیں ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے شک میں نہیں بلکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار داد کی وجہ سے حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے تاہم یقین دلایا کہ شواہد ملنے پر ان کے خلاف مقدمات چلائے جاسکتے ہیں۔  |  میں نے ایسا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں دیکھا ہے جو پاکستان کے ملوث ہونے کے الزام کو درست قرار دیتا ہو  صدر زرداری |
اس سوال کے جواب میں کہ ماضی میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں عالمی دباؤ میں کمی کے بعد خاموشی سے رہا کر دیا گیا، آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ ان کے صدارت میں آئے محض سو دن ہوئے ہیں۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ تمام دنیا کو پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی پر قابو پانے کے لیے اقدامات کرنے چاہیں۔ لشکر طیبہ پر پابندی کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ اس کا وجود ان کے خیال میں نہیں ہے۔ ’یہ تنظیم کافی عرصہ پہلے کالعدم قرار دے دی گئی تھی۔ تنظیم مسئلہ نہیں اس کی سوچ اصل مسئلہ ہے۔ ماضی میں کسی کا فریڈم فائٹر، کسی کا ہیرو والی بات اب سیاسی طور پر غلط قرار دی جاتی ہے۔‘ پاکستان کے خفیہ اداروں کے شدت پسندوں سے روابط کے بارے میں صدر آصف زرداری کا کہنا تھا کہ ان کا تو امریکی سی آئی اے سے بھی تعلق تھا اور اب بھی ہے۔ بھارتی اور برطانوی حکومتوں کی جانب سے مشتبہ افراد سے ان ممالک کے تفتیش کاروں کی رسائی کے بارے میں صدر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت کو مشترکہ تحقیقات اور تعاون کی پیشکش کی ہے پہلے انہیں فیصلہ کرلینے دیجیے اس کے بعد اس بارے میں ہم فیصلہ کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ برطانوی درخواست کے بارے میں فیصلہ حکومت اور پارلیمان کرے گی تاہم وہ اس کی حمایت کریں گے۔ |