’جنگ کا دور دور تک امکان نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں چند روز گزارنے کے بعد وطن لوٹنے والے پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ بھارتی قیادت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں چاہتی بلکہ اس نوعیت کی کشیدگی کا ذمہ دار بھارتی میڈیا ہے۔ اسلام آباد پہنچنے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق صحافی اور سابق وزیراطلاعات نے پاک۔بھارت کشیدگی کا ذمہ دار بھارتی میڈیا کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممبئی سانحے کے دوران اور اسکے بعد بھارتی میڈیا کا کردار بہت منفی رہا ہے۔ مشاہد حسین نے کہا کہ بھارت میں قیام کے دوران انہوں نے کبھی یہ محسوس نہیں کیا کہ بھارتی قیادت یا عوام جنگی جنون میں مبتلا ہیں۔ ’بلکہ میرا مشاہدہ ہے کہ بھارتی قیادت بھی پاکستان کی طرح سیاسی اور سفارتی سطح پر اس مسئلے کو حل کرنا چاہتی ہے جو ممبئی حملوں کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کا باعث بن رہا ہے۔‘ تاہم انہوں نے بھارتی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ’بدقسمتی سے بھارتی میڈیا منفی رجحانات کا شکار ہے اور حقائق کے منافی الزام تراشیوں میں مصروف ہے۔‘ مشاہد حسین نے کہا کہ انہوں نے بھارت میں قیام کے دوران میڈیا کے اداروں کا بھی دورہ کیا اور ان سے تبادلہ خیال کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اب میڈیا بھی یہ محسوس کر رہا ہے کہ جنگ بھارت کے لئے بھی آپشن نہیں ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ انکی ملاقات ایک بھارتی جنرل سے بھی ہوئی جو پاکستان کے ساتھ جنگ چاہتے تھے۔ ’میں نے ہندوستانی جنرل سے کہا کہ آپ میں ہمت ہوتی تو بہت پہلے پاکستان پر حملہ کر چکے ہوتے لیکن آپ بھی جانتے ہیں کہ ایسا کرنے سے آپ کو بھی بہت نقصان ہو گا اور امریکہ آپ کو ایسا کرنے کا سرٹیفیکٹ (این او سی) بھی نہیں دے گا۔‘ مشاہد حسین نے کہا کہ بھارت میں چند روز گزارنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا دور دور تک کوئی امکان نہیں ہے۔ |
اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||