BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 17:02 GMT 22:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
الدعوۃ کے خلاف پابندیاں اور اٹھتے سوالات

حافظ سعید کی پریس کانفرنس کے موقع پر جامع مسجد قادسیہ پر سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر جماعتہ الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے اراکین کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ یہ کارروائی کسی دباؤ یا کسی کے کہنے پر کی جا رہی ہے لیکن صاف ظاہر ہے اس کی پشت پر امریکہ اور بھارت کا مطالبہ تھا۔

لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر کیوں حکومت پاکستان صرف اسی وقت حرکت میں آتی ہے جب دنیا کے کسی بڑے شہر میں کوئی بڑا دہشت گردی کا واقع رونما ہوتا ہے۔ پہلے مذمت، پھر تردید اور بعد میں گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شدت پسندوں کی وجہ سے جو جگ ہنسائی ہوتی ہے وہ تو ہے ہی لیکن حکومتی ردعمل سے رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔

ایسا اس مرتبہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی اس قسم کا انکار اور اقرار کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔ کئی گرفتار افراد بعد میں معاملے کے ٹھنڈا ہونے پر خاموشی سے رہا بھی کر دیئے جاتے تھے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں ایسی نوبت آنے دیتے ہیں؟ ہم کیوں اپنا گھر درست نہیں رکھ سکتے؟ کیا ہماری پالیسی ہمیشہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں طے کی جائے گی یا جب یہ خطہ جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گا ہم حرکت میں آیا کریں گے؟

مشیر داخلہ رحمان ملک نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ انہیں ہندوستان کی جانب سے مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف ابھی تک کوئی شواہد فراہم نہیں کیے ہیں۔ ایسے میں پھر جن لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ کس بنیاد پر پکڑے جا رہے ہیں۔

کیا آپ نے اپنی تحقیقات میں ان کے خلاف کوئی ثبوت جمع کیے ہیں یا یہ محض وہ روایتی معمول کی کارروائی ہے جو اکثر ہماری پولیس کارکردگی دکھانے کے لیے علاقے کے دو چار بدنام افراد کو حراست میں لے کر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے؟

جماعتہ الدعوۃ
کئی حلقے جماعتہ الدعوہ کو لشکر طیبہ کا ہی نیا روپ قرار دے رہے تھے
ایسے میں بھارت مسلسل ان مشتبہ افراد کو حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے فل الحال یہ مطالبہ منظور کرنے سے صاف صاف انکار کر رکھا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اگر ان افراد کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو اسے فراہم کیے جائیں ان کے خلاف پاکستانی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

لیکن ماضی کی روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اگر ہم نے ماضی میں خالد شیخ محمد اور ایمل کانسی سمیت کئی پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیا ہے تو بعض لوگ پوچھتے ہیں بھارت کے ساتھ ایسے تبادلے میں کیا مضائقہ ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے؟ تاہم مبصرین کے مطابق اس کی وجہ عوامی ردعمل ہے جس سے موجودہ حکمراں خوفزدہ ہیں۔ ماضی میں بھی کوئی ٹھیک قدم نہیں اٹھایا گیا تھا لہذا اسے دوہرانے کی بھی ضرورت نہیں۔

لیکن اس کے بدلے بین الاقوامی برادری ان افراد کے خلاف پاکستان کے اندر ہی مقدمات چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ راشد رؤف کی طرح ملزمان دوران سماعت غائب ہو جائیں یا پھر ان پر ماضی کی طرح کبھی کوئی مقدمہ ہی نہ چلے اور انہیں کچھ عرصے بعد رہا کر دیا جائے۔ اصل مقصد اس نیٹ ورک کو توڑنا ہونا چاہیے، ان کی سرپرستی نہیں جو بیرون ملک حملوں کی وجہ سے ملک کی بدستور بدنامی کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔

ادھر یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری جو روزانہ ایک نئی پاکستانی فلاحی تنظیم کو دہشت گردی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیتی ہے وہ آیا ان کارروائیوں میں ملوث ہیں بھی یا نہیں۔

عام تاثر یہی ہے کہ ان میں سے کئی واقعی فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں لہذا ان کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ شکوک و شبہات نہ پیدا ہونے پائیں۔

حافظ محمد سعیدحافظ سعید کا سفر
رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک
جنگ کروانے کے اہل
ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد امن کا امکان
تحریکوں کا نرو سینٹر
لشکرِ طیبہ کے دو الگ الگ رخ
آصف زرداریفون کہاں سے آیا؟
صدرکوفون کس نے کیا:’پتہ لگانامشکل نہیں‘
مولانا مسعود اظہربھارت کے بیس
پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے
اسی بارے میں
پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک
11 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد