الدعوۃ کے خلاف پابندیاں اور اٹھتے سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان نے ایک مرتبہ پھر جماعتہ الدعوۃ اور کالعدم لشکر طیبہ کے اراکین کی گرفتاری کا عمل شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ حکومت اس تاثر کی نفی کرتی ہے کہ یہ کارروائی کسی دباؤ یا کسی کے کہنے پر کی جا رہی ہے لیکن صاف ظاہر ہے اس کی پشت پر امریکہ اور بھارت کا مطالبہ تھا۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ آخر کیوں حکومت پاکستان صرف اسی وقت حرکت میں آتی ہے جب دنیا کے کسی بڑے شہر میں کوئی بڑا دہشت گردی کا واقع رونما ہوتا ہے۔ پہلے مذمت، پھر تردید اور بعد میں گرفتاریاں شروع ہو جاتی ہیں۔ شدت پسندوں کی وجہ سے جو جگ ہنسائی ہوتی ہے وہ تو ہے ہی لیکن حکومتی ردعمل سے رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔ ایسا اس مرتبہ پہلی دفعہ نہیں ہوا ہے۔ ماضی میں بھی اس قسم کا انکار اور اقرار کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا رہا ہے۔ کئی گرفتار افراد بعد میں معاملے کے ٹھنڈا ہونے پر خاموشی سے رہا بھی کر دیئے جاتے تھے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کیوں ایسی نوبت آنے دیتے ہیں؟ ہم کیوں اپنا گھر درست نہیں رکھ سکتے؟ کیا ہماری پالیسی ہمیشہ عالمی دباؤ کے نتیجے میں طے کی جائے گی یا جب یہ خطہ جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گا ہم حرکت میں آیا کریں گے؟ مشیر داخلہ رحمان ملک نے جمعرات کو ایک مرتبہ پھر اعلان کیا کہ انہیں ہندوستان کی جانب سے مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف ابھی تک کوئی شواہد فراہم نہیں کیے ہیں۔ ایسے میں پھر جن لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے وہ کس بنیاد پر پکڑے جا رہے ہیں۔ کیا آپ نے اپنی تحقیقات میں ان کے خلاف کوئی ثبوت جمع کیے ہیں یا یہ محض وہ روایتی معمول کی کارروائی ہے جو اکثر ہماری پولیس کارکردگی دکھانے کے لیے علاقے کے دو چار بدنام افراد کو حراست میں لے کر ثابت کرنے کی کوشش کرتی ہے؟
لیکن ماضی کی روایات کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بھی کوئی زیادہ حوصلہ افزا نہیں ہیں۔ اگر ہم نے ماضی میں خالد شیخ محمد اور ایمل کانسی سمیت کئی پاکستانیوں کو امریکہ کے حوالے کیا ہے تو بعض لوگ پوچھتے ہیں بھارت کے ساتھ ایسے تبادلے میں کیا مضائقہ ہے۔ کیا یہ دوہرا معیار نہیں ہے؟ تاہم مبصرین کے مطابق اس کی وجہ عوامی ردعمل ہے جس سے موجودہ حکمراں خوفزدہ ہیں۔ ماضی میں بھی کوئی ٹھیک قدم نہیں اٹھایا گیا تھا لہذا اسے دوہرانے کی بھی ضرورت نہیں۔ لیکن اس کے بدلے بین الاقوامی برادری ان افراد کے خلاف پاکستان کے اندر ہی مقدمات چلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ نہ ہو کہ راشد رؤف کی طرح ملزمان دوران سماعت غائب ہو جائیں یا پھر ان پر ماضی کی طرح کبھی کوئی مقدمہ ہی نہ چلے اور انہیں کچھ عرصے بعد رہا کر دیا جائے۔ اصل مقصد اس نیٹ ورک کو توڑنا ہونا چاہیے، ان کی سرپرستی نہیں جو بیرون ملک حملوں کی وجہ سے ملک کی بدستور بدنامی کا سبب بنتے جا رہے ہیں۔ ادھر یہ بھی دیکھنے کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری جو روزانہ ایک نئی پاکستانی فلاحی تنظیم کو دہشت گردی قرار دے کر کالعدم قرار دے دیتی ہے وہ آیا ان کارروائیوں میں ملوث ہیں بھی یا نہیں۔ عام تاثر یہی ہے کہ ان میں سے کئی واقعی فلاحی منصوبوں پر کام کر رہی ہیں لہذا ان کا دہشت گردی میں ملوث ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جو غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ان کے خلاف شواہد عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ شکوک و شبہات نہ پیدا ہونے پائیں۔ |
اسی بارے میں حافظ سعید گھر پر نظر بند، دفتر سر بہ مہر 11 December, 2008 | پاکستان پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک11 December, 2008 | پاکستان فیصلہ کسی صورت قبول نہیں: حافظ11 December, 2008 | پاکستان ’کوئی ثبوت نہیں، صرف پروپیگنڈہ‘10 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||