BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2008, 14:10 GMT 19:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر کے دو الگ الگ کردار

بھارتی حکام کے مطابق لشکر طیبہ نے ہندوستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سمی) اور انڈین مجاہدین سے روابط پیدا کیے
ممبئی حملوں میں اسکے ملوث ہونے کے ثبوت موجود ہوں یا نہ ہوں، بھارتی مبصرین کی نظر میں گزشتہ پانچ برس میں لشکر طیبہ نامی عسکریت پسند تنظیم بھارت میں مختلف علیحدگی پسند تحریکوں کے ’نرو سینٹر‘ کے طور پر سامنے آئی ہے جس سے نمٹنا بعض دفاعی ماہرین کی نظر میں ہندوستان کی سلامتی کے اداروں کی سب سے اہم ذمہ داری بن چکی ہے۔

بھارت میں اس تنظیم کا کردار جتنا تخریبی ہے، پاکستانی ریاستی اداروں بشمول خفیہ اداروں کے لیے لشکر طیبہ اپنی نوعیت کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں اتنی ہی قابل قبول ہے۔ اور اسکی وجہ مبصرین کی نظر میں ہندوستان دشمنی نہیں بلکہ پاکستانی اداروں کا احترام ہے۔کیونکہ اس تنظیم کے کسی رکن کو پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزا نہیں ملی جبکہ گزشتہ چند برسوں سے اس نوعیت کے بیشتر جہادی گروپوں کا محبوب مشغلہ رہا ہے۔

خطے کے دو اہم ممالک کے ساتھ اس مؤثر جہادی گروپ کا یہ رویہ جس کے دو رخ ہیں، بعض تجزیہ کاروں کی نظر میں پاکستان اور بھارت کے درمیان اب تک تو صرف کشیدگی کا باعث بنتا رہا ہے لیکن ممبئی بم حملوں کے بعد بھی اس مثلث کو اسی طرح برقرار رکھنے کی کوشش خطے کو جنگ میں جھونکنے کا باعث بن سکتی ہے۔

لشکرِ طیبہ میں ٹوٹ پھوٹ نہیں ہوئی
لشکر طیبہ کے بارے میں خاصے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ ان سالوں میں نہ تو اس تنظیم کا ٹوٹ کر کوئی گروپ بنا جیسا کہ تقریباً ہر دوسری جہادی تنظیم کے ساتھ ہوا، اور نہ ہی یہ اسکا کوئی رکن کسی تخریبی کارروائی میں ملوث پایا گیا

امریکی وزیرخاجہ کونڈولیزا رائس نے گزشتہ ہفتے پاکستانی حکام کو بتایا ہے کہ بھارت کے پاس اس تنظیم کے نہ صرف ممبئی حملوں میں ملوث ہونے کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں، بلکہ بھارتی حکام نے انہیں اس تنظیم کی بھارت میں دیگر کار گزاریوں سے بھی آگاہ کیا ہے جو تیزی کے ساتھ بھارتی سلامتی کے لیے سب سے بڑا بیرونی خطرہ بنتی جا رہی ہے۔

بھارتی دفاعی تـجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جس تیزی کے ساتھ لشکر طیبہ نے بھارت میں چلنے والی علیحدگی کی مختلف تحریکوں کے ساتھ تعلقات استوار کئے ہیں، ہندوستان کی سلامتی کے اداروں کے لئے یہ رفتار حیران کن ہے۔

خاص طور پر ہندوستان میں سرگرم مسلمان شدت پسندوں کے ساتھ لشکر طیبہ کے تعلقات بھارت کے لئے بہت تشویش کا باعث بتائے جاتے ہیں۔ اور بھارتی ادارے یہ بات سمجھ چکے ہیں کہ سابق پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف کے تعاون سے اس تنظیم کا کشمیر میں ناطقہ بند کرنا، بھارت کو کتنا مہنگا پڑ رہا ہے۔

ممبئی حملوں کے بارے میں تو پاکستانی اداروں اور تجزیہ کاروں کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں ہیں، لیکن واقف حال لوگ اس حقیقت سے انکار نہیں کرتے کہ چھ برس قبل کالعدم قرار دئیے جانے، پاکستان میں اسکے تربیتی مراکز بند ہونے اور لائن آف کنٹرول کے ذریعے بھارتی کشمیر میں ان کی سپلائی لائن بند ہو جانے کے بعد اس تنظیم نے کشمیر میں „اپنے جہاد‘ کو بھارت کے مختلف علاقوں تک پھیلانے کےمنصوبے پر کام شروع کیا تھا۔

اس مقصد کے لئے بھارتی حکام کے مطابق لشکر طیبہ نے ہندوستان میں سرگرم شدت پسند تنظیم سٹوڈنٹس اسلامک موومنٹ آف انڈیا (سمی) اور انڈین مجاہدین سے روابط پیدا کئے۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ لشکر طیبہ نے، جو کہ عملاً تو نہیں لیکن وہابی مکتبہ فکر کے لحاظ سے نظریاتی طور پر القاعدہ سے قریب ہے، بھارتی عسکریت پسندوں کو القاعدہ کے ساتھ روابط پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اور بھارتی حکومت اور اداروں کے لئے یہی وہ جرم ہے جسے ناقابل معافی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان اداروں کا خیال ہے کہ صرف مسلمان شدت پسند نہیں، لشکر طیبہ بھارت میں بعض علیحدگی پسند تحریکوں کو اشتعال دلانے اور ان کی مختلف طریقوں سے مدد کرنے میں بھی پیش پیش ہے۔

اسی بنا پر بھارتی سلامتی کے ادارے اس تنظیم کو موجودہ حالات میں بھارت میں ریاست مخالف عناصر کی سرگرمیوں کا نرو سینٹر قرار دیتے ہیں۔

اس تمام صورتحال کے بالکل برعکس لشکر طیبہ، جو اب جماعت الدعوہ کے نام سے پاکستان میں کام کرتی ہے، پاکستان کے ریاستی اداروں کے لیے باقی تمام جہادی تنظیموں کی طرح کبھی درد سر بنتے نظر نہیں آئی۔

افغان، کشمیر اور پھر دوبارہ افغان عسکری کارروائیوں میں شامل رہنے والی اسکے علاوہ باقی تمام جہادی تنظیمیں پاکستان میں فرقہ وارانہ اور اب حالیہ کچھ سالوں میں پاک فوج اور دیگر اداروں کے خلاف حملوں میں ملوث رہی ہیں۔

لشکر طیبہ کے بارے میں خاصے وثوق سے کہا جاتا ہے کہ ان سالوں میں نہ تو اس تنظیم کا ٹوٹ کر کوئی گروپ بنا جیسا کہ تقریباً ہر دوسری جہادی تنظیم کے ساتھ ہوا، اور نہ ہی یہ اسکا کوئی رکن پاکستان میں کسی تخریبی کارروائی میں ملوث پایا گیا۔

اسکی ایک وجہ بعض مبصرین کی نظر میں اس گروپ کا اپنے مقصد کے بارے میں یکسو رہنا ہے۔

انیس سو نوے میں ایک ریٹائرڈ پروفیسر حافظ محمد سعید نے اس گروپ کو اس وقت بنایا تھا جب بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں علیحدگی کی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔ اس وقت اس گروپ میں بہت کم تعداد میں ایسے لوگ شامل کئے گئے تھے جو روس کے خلاف افغان جہاد میں حصہ لیتے رہے تھے۔ اس تنظیم کے تمام کلیدی عہدوں میں اور عام بھرتی میں بھی زیادہ تر نئے لوگ شامل تھے۔

امریکہ پر گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد جب کشمیر کا محاذ ٹھنڈا اور افغانستان کا گرم ہوا، تو بیشتر مجاہدین گروپس نے افغانستان اور پاکستان میں امریکی مفادات کے خلاف جہاد میں سرگرمیوں میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن حافظ محمد سعیدکے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے اس نوعیت کی کسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا اور بہت کامیابی کے ساتھ اپنے گروپ کے ارکان کو اس پر عمل بھی کروایا۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لشکر طیبہ پاکستان میں موجودہ وقت میں اور ماضی میں سرگرم کسی بھی گروپ سے زیادہ طاقتور ہے۔ اور اسکا اندازہ اس گروپ کی اکتوبر دہ ہزار آٹھ کے زلزلے اور دیگر مواقع پر فوری اور بڑی امدادی کارروائیوں سے بھی لگایا گیا ہے۔

اس پس منظر میں مبصرین سمجھتے ہیں کہ پاکستانی ریاستی اداروں اور اس گروپ کی قیادت کے درمیان ایک دوسرے کو نہ ’چھیڑنے’ کا خاموش معاہدہ کسی نہ کسی سطح پر موجود ہے، اور بھارتی اور امریکی دباؤ میں اگر پاکستانی حکومت برسوں سے قائم اس معاہدے کو توڑتی ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ لشکر کی تخریبی صلاحتیوں اور کارروائیوں کا رخ پاکستان کی جانب ہو جائے۔

حملہ آورحملہ آوروں کی دلیری
حملہ آوروں کی دلیری حیران کن : عینی شاہدین
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
حملہ آورصرف شہرت کے لیے؟
کیا حملہ آوروں کو صرف شہرت کی تلاش تھی؟
ممبئی: کب کیا ہوا
ممبئی میں حملے، کب کیا ہوا؟
اسی بارے میں
’جہاد پر بات کرنے سے گریز‘
04 December, 2008 | صفحۂ اول
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد