BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 02 December, 2008, 22:17 GMT 03:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سابق فوجیوں نے تربیت دی: کمشنر

تاج محل ہوٹل سے ممبئی کے ساحل کا ایک نظارہ
ممبئی پولیس کمشنر غفور کا کہنا ہے کہ حملہ آور کراچی سے ممبئی آئے تھے
ممبئی پولیس کمشنر حسن غفور کے مطابق ممبئی پر حملے کے لیے دس شدت پسند تیئس نومبر کو کراچی سے الحسینی جہاز میں سوار ہوئے تھے اور گجرات میں انہوں نے کوبیر نامی جہاز کو ہائی جیک کیا جس پر وہ ممبئی کے ساحل پر پہنچے۔

کمشنر غفور نے حملوں کی تفتیش کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان شدت پسندوں کو سابق فوجیوں نے تربیت دی تھی۔ ’کسی کو ایک سال تک تو کسی کو ڈیڑھ برس تک۔‘

کمشنر نے مزید کہا کہ جن مقامات پر حملے ہوئے ان کی ویڈیو بنائی گئی تھی اور وہ ویڈیو انہیں بار بار دکھائی گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ ان مقامات سے اچھی طرح واقف ہو گئے تھے۔

شدت پسندوں کے منصوبوں کے بارے میں کمشنر نے بتایا کہ انہیں ہدایت دی گئی تھی کہ حملہ کرنے کے بعد کسی اونچی جگہ پر پوزیشن لیں۔ اس لیے ناریمان ہاؤس، ہوٹل اوبیرائے اور تاج کے اوپر والی منزلوں پر شدت پسندوں نے قبضہ کیا تھا لیکن وی ٹی ریلوے سٹیشن پر انہیں کوئی اونچا مقام دکھائی نہیں دیا اس لیے وہ باہر کی طرف بھاگے۔

کمشنر غفور کے مطابق شدت پسندوں نے پانچ مقامات پر ٹائم بم رکھے تھے۔دو بم انہوں نے ٹیکسی میں رکھے تھے جو ڈاکیارڈ روڈ اور ولے پارلے میں پھٹے۔ جبکہ ایک بم انہوں نے کیفے لیوپولڈ، ایک ہوٹل اوبیرائے اور ایک ہوٹل تاج کے پاس رکھا تھا جسے بم سکواڈ نے ناکارہ بنا دیا تھا۔

ممبئی پولیس
پولیس اور خفیہ ایجنسیوں پر الزام ہے کہ وہ الرٹ نہیں تھے

کمشنر نے اس بات کا اعتراف کیا کہ بوٹ میں سیٹیلائٹ فون سے کی جانے والی بات کو پولیس نے درمیان میں سنا ہے لیکن انہوں نے اس کی تفصیلات دینے سے انکار کر دیا۔انہوں نے بہت سے سوالات کے جواب دینے سے یہ کہہ کر انکار کیا کہ تفتیش ایک اہم موڑ پر ہے اور اس لیے وہ ذرائع ابلاغ کو تفصیل بتانا نہیں چاہتے۔

کمشنر نے اس بات کو قبول کیا کہ دکن مجاہدین نامی تنظیم نے جو ای میل بھیجی تھا وہ کسی فرضی شخص کا کارنامہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق پولیس نے یہ معلوم کر لیا ہے کہ ای میل کہاں سے آیا ہے لیکن انہوں نے اس پر مزید کچھ بتانے سے بھی انکار کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ تفتیش مکمل ہو جائے اس کے بعد حکومت پاکستان کو مکمل ثبوت دیا جائے گا۔

کمشنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ہر زاویے سے تفتیش کر رہے ہیں اور اسی لیے ان حملوں میں مافیا سرغنہ داؤد ابراہیم کے ملوث ہونے کی جانچ بھی جاری ہے۔

کمشنر کے مطابق ابھی تک پولیس تفتیش میں یہ بات سامنے نہیں آئی ہے کہ ان شدت پسندوں کو کسی طرح کا مقامی تعاون حاصل تھا۔

پولیس اور حکومت پر سخت تنقید کی جا رہی ہے کہ انہیں خفیہ ایجنسیوں نے پہلے سے حملے کی خبر دے دی تھی اس کے باوجود وہ الرٹ نہیں تھے۔اس پر کمشنر غفور نے بتایا کہ جب پاکستان میں ہوٹل میریئٹ پر حملہ ہوا تھا تو اس وقت بھی انہیں خفیہ ایجنسیوں نے آگاہ کیا تھا کہ اس طرح کے حملے ہوٹلوں میں ہو سکتے ہیں۔

ممبئی میں ہوئے شدت پسندوں کے حملوں کی تفتیش میں دنیا کے کئی ممالک اور خفیہ ایجنسیاں ممبئی پولیس کا ساتھ دے رہی ہیں کیونکہ اس حملے میں امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فلپائن ، آسٹریلیا، اٹلی ، چین ، تھائی لینڈ، سپین نژاد باشندے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔ اس وقت ممبئی میں امریکی تفتیشی ایجنسی ایف بی آئی اور سکاٹ لینڈ یارڈ عملہ موجود ہے اور اسرائیل کی تفتیشی ایجنسی بھی ممبئی پہنچنے والی ہے۔

ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
 وزیر داخلہ آر آر پاٹل دھماکے، ماہی گیر
’ریاستی وزیر داخلہ آر آر پاٹل کو آگاہی تھی‘
قبرستان بھی تنگ
دہشتگردوں کی قبر کی جگہ نہیں: مسلم کونسل
حملہ آورحملہ آوروں کی دلیری
حملہ آوروں کی دلیری حیران کن : عینی شاہدین
تاج ہوٹل(فائل فوٹو)وڈیو اور تصاویر
ممبئی میں حملے کی تصاویر اور وڈیو جھلکیاں
وہ ساٹھ گھنٹے ۔ ۔
جب ممبئی کی روح یرغمال بنی ہوئی تھی
میڈیا، پولیس کردار
پولیس اور میڈیا کا رویہ ایک جیسا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد