BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 01 December, 2008, 22:18 GMT 03:18 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی: رائس پاکستان جائیں گی

 کونڈولیزا رائس
شہادتیں جس سمت اشارہ کر رہی ہیں اسی سمت تحقیقات کرائی جائے
امریکی وزیر خارجہ رائس ممبئی کے شدت پسند حملوں پر انڈیا سے بات چیت کے بعد پاکستان بھی جائیں گی۔

وا شنگٹن میں پاکستانی سفارتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور بتایا ہے کہ اس بارے میں باضابطہ اعلان سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کیا جائےگا۔

گزشتہ روز وائٹ ہاؤس کی ترجمان ڈانا پیرینو نے اعلان کیا تھا کہ کنڈولیزا رائس بدھ کے روز انڈیا پہنچیں گی۔

پہلے سے اعلان شدہ پروگرام کے مطابق وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس منگل کے روز برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے ایک اجلاس میں شرکت کریں گی۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزیر خارجہ کنڈولیزا رائس پاکستان اور انڈیا کے تعلقات میں موجود تناؤ کو کم کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ سے رابطے میں ہیں اور ان کے انڈیا کے حکام سے ملاقاتوں میں یہ معاملہ سرفہرست رہے گا۔

پیر کے روز وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے لندن میں برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ سے ملاقات کی۔

اس موقع پر ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ ممبئی میں شدت پسند حملوں کی تحقیقات میں پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کی امید کرتا ہے اور اس سمت میں پاکستان کا ردِ عمل نئی جمہوری حکومت کے قوتِ ارادی کی آزمائش کے مترادف ہوگا۔

محترمہ رائس کا کہنا ہے کہ ہم پاکستانی حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ شہادتیں جس سمت اشارہ کر رہی ہیں اسی سمت تحقیقات کرائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ’میں اس موقع پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہتی لیکن میرا خیال ہے کہ یہ مکمل شفافیت اور تعاون کا وقت ہے اور یہی ہم چاہتے ہیں‘۔

اپنے ہمسایہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں پر اسلام آباد کے ردِ عمل کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نئی حکومت کے لیے یہ ایک مشکل کام ہے۔

محترمہ رائس نے کہا کہ ’ہم ہندوستانی عوام کے غم و غصے میں برابر کے شریک ہیں کیونکہ اس حملے میں امریکی بھی مارے گئے ہیں اور انہیں صرف اس لیے ہلاک کیا گیا ہے کیونکہ وہ امریکی تھے اس وجہ سے بھی امریکہ کو اس معاملے میں تشویش اور دلچسپی ہے۔

اس سے پہلے سنیچر کے روز امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ امریکہ ممبئی میں ہونے والے شدت پسند حملوں کی تحقیقات کے سلسلے میں انڈیا کی ہر ممکن مدد کرے گا۔

کیمپ ڈیوڈ سے واپسی پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکہ شدت پسندوں کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد