تناؤ پر پاکستانی تشویش، جاسوسی کی ناکامی پر سوالات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ممبئی کے شدت پسند حملوں میں پاکستان کے ملوث ہونے کے الزامات کے بعد پڑوسی ملک کے اس کے تعلقات شدید تناؤ میں ہیں۔ حکومت پاکستان نے ممبئی میں گزشتہ چار روز کے دوران مسلح ہتھیار بندوں کی طرف سے ممبئی کے اہم مقامات پر حملوں میں ملوث ہونے کے الزامات کی تردید کی ہے جن میں دو سو سے قریب افراد ہلاک ہوئے۔ ممبئی میں شدت پسند حملوں کے تقریباً اٹھاون گھنٹوں کے بعد سنیچر کی صبح تاج ہوٹل میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں تین شدت پسندوں کے مارے جانے اور آپریشن کے خاتمے کا اعلان کیاگیا۔ ممبئی کے دو فائیو سٹار ہوٹلوں اور یہودیوں کے مرکز کو شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے ہونے والے آپریش کے خاتمے سے پہلے ہی ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھر جی نے کہا تھا کہ ممبئی پر حملے میں ملوث کچھ عناصر کا تعلق پاکستان سے ہے۔ جمعہ کے روز صحافیوں سے بات کرتے ہو ئے مسٹر مکھرجی نے کہا تھا کہ شدت پسند کہاں سے آئے اور ان کی شناخت کیا ہے اس کے بارے میں واضح طور پراس وقت تک کچھ کہنا مشکل ہے جب تک تمام تفصیلات نہیں مل جاتیں۔’لیکن جو ابتدائی ثبوت ملے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ اس واقعہ کا پاکستان کے کچھ عناصر سے تعلق ہے۔‘ ان الزام کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستان کے وزیر خـارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کے ہاتھ صاف ہیں اور اسے کچھ چھپانا نہیں ہے لیکن اگر دوسری طرف انڈیا میں جذبات میں اتنی شدت ہو تو یہ ماننا پڑے گا کہ صورتِ حال انتہائی سنگین ہے۔
وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ بات دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے کہ حالات میں پائی جانے والی کشیدگی کو کم کیا جائے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اپنے آپ کو دھوکے میں نہیں رکھنا چاہیے اور تسلیم کر لینا چاہیے کہ صورتِ حال سنگین ہے۔ ’جب انڈیا کے لوگ یہ سمجھ رہے ہوں کہ یہ انڈیا کا نائن الیون ہے تو ایک ذمہ دار منتخب حکومت کے طور پر ہم حالات کی سنگینی سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔‘ درایں اثناء پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ اگر ممبئی حملوں میں پاکستان کی کسی تنظیم یا فرد کے ملوث ہونے کے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو پاکستان سخت کارروائی کرے گا۔ انہوں نے یہ بات سنیچر کے روز بھارتی ٹیلی ویژن چینل سی این این آئی بی این کو انٹرویو میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ ’صدر پاکستان کی حیثیت سے اگر پاکستان میں موجود کسی تنظیم اور فرد کے حوالے سے ٹھوس شواہد ملتے ہیں تو میں پوری دنیا کے سامنے بہت سخت کارروائی کروں گا۔‘ صدر آصف علی زرداری نے سنیچر کو رات گئے وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی اور ممبئی میں شدت پسند حملوں سے پیدا ہونے والی صورتِ حال پر تبادلہِ خیال کیا۔ پاکستان کی ایک سیکورٹی ایجنسی کے اعلیٰ اہلکار نے کہا ہے کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے ابتدائی ثبوت پاکستان کو پیش کر دیے ہیں۔ ان کے مطابق ممبئی حملوں میں پاکستانی حکومت یا کوئی بھی ادارہ ملوث نہیں ہے اور بھارت سے موصول ہونے والے پیغام میں مثبت زبان استعمال کی گئی۔ سنیچر کی شام کو صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔ جب اعلیٰ سکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ ایسی صورت میں افغان سرحد کا کیا بنے گا تو انہوں نے کہا کہ بھارت کے ساتھ تناؤ کی صورت میں اگر ایسی صورتحال پیدا ہوئی تو قبائلی خود سرحدوں کی حفاظت کریں گے۔ بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے بھی سنیچر کے روز وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سربراہوں سے ملاقات کی۔ دِلی میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈیون لائن کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر اعظم نے انہیں بتایا کہ اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ پاکستان ممبئی حملوں ملوث ہے تو اسے اس کی ’قیمت‘ ادا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اتوار کو سبھی جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک میٹنگ طلب کی ہے۔ توقع ہے کہ اس میٹنگ ميں سیاسی رہنماؤں کو ممبئی پر حملے اور اس کے ممکنہ بین الاقوامی پہلوؤں کی تفصیلات بتائیں گے۔ گزشتہ روز تاج ہوٹل کا محاصرہ ختم ہونے کے بعد سکیورٹی حلقوں میں یہ سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ان حملوں کو کیوں نہ روک سکے۔ دِلی کے انسٹی ٹیوٹ فار کانفلیکٹ مینیجمنٹ سے منسلک دہشت گردی کے امور کے ماہر ڈاکٹر اجے ساہنی نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی حکومت نے نیشنل سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی میں بہت دیر کی۔ انہوں نے کہا کہ ’اکیسویں صدی کے اس قہر‘ سے نپٹنے کے لیے آپریشن کو اپ ڈیٹ نہیں کیا گیا۔ تاہم ریاسٹ مہاراشٹر کی حکومت کے ایک ترجمان نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ممبئی حملوں کے موقع پر انتہائی بروقت ردِ عمل دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی آپریشن کو منظم ہونا تھا اور اگر ایسا نہ ہوتا تو کئی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو جاتا۔
|
اسی بارے میں ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم: ہلاک ہونے والے اہلکاروں کو خراجِ تحسین29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||