ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی کے مختلف ہسپتالوں میں اب بھی تقریباً پونے دو سو افراد زیرِ علاج ہیں اورہلاک ہونے والوں کے مسلسل پوسٹ مارٹم بھی ہو رہے ہیں۔ ہلاک ہونے والے بیشتر افراد کی لاشیں جے جے ہسپتال کائی گئیں لواحقین کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ سنیچر کو مردہ خانے میں زیادہ تر بیرونی ممالک کے لوگ نظر آئے جو یا تو لاشیں نکال کر لے جا رہے تھے یا پھر ان کی شناخت کی جا رہی تھی۔ مردہ گھر یا مورچری میں کئی ایک یہودی بھی جمع تھے جن سے بات کرنے کی کوشش کی تو انہوں نے یہ کہ کر دیا کہ سنیچر کو وہ صرف ضروری کام کرتے ہیں۔ مردہ خانے میں کئی ایسے لوگ جن کے رشتہ داروں کے متعلق یہ خبر تھی کہ وہ ہلاک ہوگئے ہیں، لاشیں نہ ملنے پر برہم تھے اور کئی لوگ انتظامیہ اور پولیس کی لاپرواہی پر نالاں تھے۔ ٹائمس آف انڈیا کی ایڈیٹر سبینہ سہگل کے بھائی نکھل سہگل بھی بہن کی لاش لینے ہسپتال پہنچے تھے تاہم وہ پولیس کے رویے کی شکایت کرتے ملے۔ بیرونی ممالک کے شہریوں کی کچھ لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے اس لیے بیرونی ممالک کے سفارتخانوں کے کئی اہلکار ان کی شناخت کے لیے مورجری پہنچ رہے تھے۔ سینٹ جارج ہسپتال میں ستر لاشیں تھیں جو سب کی سب ان کے لواحقین کو دے دی گئیں اور بعض زیادہ زخمیوں کو بھی دوسرے ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ بامبے ہسپتال اور پریل میں بھی بہت سے زخمی داخل ہیں۔ جے جے ہسپتال کے وارڈ نمبر انیس میں کچھ ایسے پولیس اہلکار بھی زخمی ہیں جو شدت پسندوں کے ساتھ مقابلے میں زخمی ہوئے ہیں۔ ان سب کے آپریشن ہوچکے ہیں اور ان میں ایک کی حالت نازک ہے۔ |
اسی بارے میں جے پور دھماکوں کی پرزور مذمت13 May, 2008 | انڈیا ممبئی ٹرین دھماکوں کی دوسری برسی 11 July, 2008 | انڈیا دو دھماکے پانچ ہلاک، متعدد زخمی29 September, 2008 | انڈیا سخت قوانین کی ضرورت:انڈین میڈیا15 September, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی مخالف فتوے کی توثیق10 November, 2008 | انڈیا ’دہشتگردی کے لیےٹاسک فورس‘ 23 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||