غیر ملکی ایجنسیاں ممبئی میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تفتیشی ایجنسی فیڈرل بیورو آف انوسٹی گیشن اور برطانوی تفتیشی ادارے سکارٹ لینڈ یارڈ کے اہلکار ممبئی پر ہوئے حملوں کی تفتیش میں مدد کے لیے یہاں پہنچے ہیں۔ پیر کے روز انہوں نے ہوٹل تاج سمیت ان تمام مقامات کا معائنہ کیا جہاں شدت پسندوں نے حملے کیے تھے۔ ایف بی آئی اور سکارٹ لینڈ یارڈ ٹیم تمام مقامات کے معائنہ سے قبل مہاراشٹر کے ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اے این رائے سے ملنے گئے۔ اس کے بعد انہوں نے ممبئی پولیس کی کرائم برانچ کے اعلی افسر راکیش ماریا سے ملاقات کی۔ ماریا ممبئی حملوں کی تفتیش کر رہے ہیں۔اسی کے ساتھ انہوں نے انسداد دہشت گرد عملہ سربراہ کے پی رگھوونشی اور ریاستی انوسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ کمشنر ڈی شیوانندن سے بھی ملاقات کی۔ ہندوستان نے ایف بی آئی کو ہندستان آنے کی اجازت دی تھی کیونکہ ممبئی میں شدت پسندوں کے حملوں میں امریکی باشندے بھی ہلاک ہوئے تھے جس کے بعد امریکہ نے اپنے طور پر حملوں کے بعد ہندستان کو تفتیش میں مدد دینے کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ شب انہیں ممبئی کے چھتر پتی شیواجی انٹرنیشنل ایئر پورٹ پر کسٹم افسران نے روک لیا تھا۔ کسٹم افسران کو ان کے ساتھ لائے جدید فورینسک آلات پر اعتراض تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آئی اور سکارٹ لینڈ یارڈ شدت پسندوں سے برآمد ہونے والے اسلحے کی جانچ کے علاوہ ان کے طریقہ کار سے یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ آخر یہ کس شدت پسند تنظیم کی کارروائی تھی۔ ان حملوں میں ایک سو تراسی افراد ہلاک ہوئے جن میں بائیس غیر ملکی شامل ہیں۔یہ غیر ملکی ہوٹل تاج ، ہوٹل اوبیرائے اور ناری من ہاؤس میں مقیم تھے۔ اس دوران ممبئی کرائم برانچ یہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے کہ آخر شدت پسندوں کو کن مقامی افراد نے مدد کی تھی۔ تفتیشی ایجنسی اس کے علاوہ گرفتار شدت پسند اجمل سے جاننے کی کوشش کر رہی ہے لیکن افسران کا کہنا ہے کہ اجمل ان کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ نے آج چالیس کے قریب ماہی گیروں کو طلب کیا تھا اور ان سے تفتیش کی پولیس یہ جاننے کی کوشش میں ہے کہ اتنے دنوں میں آخر ان ماہی گیروں نے کیا دیکھا اور یہ کہ اتنا اسلحہ کیسے آیا، کن افراد نے ان کی مدد کی۔ کرائم برانچ کے اعلی افسر کے مطابق تفتیش صحیح سمت میں لیکن سست رفتار کے ساتھ چل رہی ہے۔ |
اسی بارے میں ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا ہیمنت کر کرے کون تھے29 November, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||