ریحانہ بستی والا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | شیتل کے والد شدت پسندوں کے حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں |
تین ماہ کی شیتل جے جے ہسپتال میں بچوں کے وارڈ میں ماں کے لیے بلک رہی ہے اور ماں سنیتا اپنی بچی کو دودھ پلانے کے لیے۔ وارڈ میں موجود ہر ماں شیتل کی دیکھ بھال کر رہی ہے لیکن بچی کا بلکنا بند نہیں ہورہا ہے۔ شیتل کے بایئں ہاتھ میں گولی کے چھرے لگے تھے جسے آپریشن کے بعد ڈاکٹر سرجن نتین ڈھینڈے نے نکال دیا۔ ڈاکٹر کے مطابق شیتل کے سر کے عقبی حصے میں بھی چھوٹا سا زخم ہے لیکن سر کے سٹی سکین کے بعد پتہ چلا کہ سر میں چھرا نہیں ہے بلکہ سر کے اس حصے کو وہ چھو کر نکل گیا۔ عورتوں کے وارڈ میں بھرتی شیتل کی ماں بیس سالہ سنیتا یادو کے سینے میں گولی لگی تھی۔ سنیتا بتاتی ہیں کہ 26 نومبر کی رات وہ سب سٹیشن کے پلیٹ فارم پر لیٹے تھے۔ بچی کو بھی انہوں نے زمین پر لٹا دیا تھا۔ان کا بھائی سنتوش یادو اور شوہر اوپیندر یادو بھی وہیں لیٹے تھے۔ وہ سب مہانگری ایکسپریس سے گورکھپور جانے والے تھے۔ سنیتا دیوریہ کی رہنے والی ہیں۔ سنیتا کے مطابق رات جب فائرنگ شروع ہوئی تو گولیاں ان کے سینے میں لگیں وہ خون میں نہا گئی تھیں۔ بچی کو گود میں اٹھا کر بھگانے لگی۔انہیں پتہ نہیں کہ کون کہاں گیا۔انہیں بچی کی فکر تھی۔ بھاگتے بھاگتے وہ تھک کر گر پڑیں اور بے ہوش ہو گئیں ۔آنکھ کھلی تو وہ ہسپتال میں تھیں لیکن ان کے پاس نہ تو ان کی بچی اور نہ شوہر۔ سنیتا کو دوسرے روز پتہ چلا کہ ان کے شوہر کی موت واقع ہو چکی ہے اور ان کی بچی بھی زخمی ہے۔
 | | | شیتل کی ماں سینتا بھی حملوے میں زخمی ہوئی ہیں |
سنیتا کے شوہر اوپیندر ممبئی میں بامبے گلاس نامی کمپنی میں کیشیئر تھے۔اب سنیتا کے باپ فوجدار یادو گاؤں سے اسے لینے ممبئی آئے ہیں۔اب میری بچی یہاں کیسے رہے گی اس لیے میں اسے اپنے ساتھ گاؤں لے جاؤں گا۔ اسی وارڈ میں سولہ سالہ حنا اپنے بستر پر لیٹی ہے۔اس کے سینے میں کانچ کے ٹکڑے گھس گئے ہیں۔ہاتھ اور پیر میں بھی زخمی ہے۔حنا کا آپریشن ہو چکا ہے لیکن اگر کانچ کے کچھ ٹکڑے ابھی بھی نہیں نکالے جا سکے۔حنا کو یہ زخم مجگاؤں میں ٹیکسی میں بم پھٹنے کی وجہ سے لگے ہیں۔وہ وہیں ایکتا نگر میں اپنے گھر سے باہر رات کا کھانا کھانے کے بعد بیٹھی تھی کہ زوردار آواز آئی۔ اس کے بعد کیا ہوا اسے پتہ نہیں کیونکہ وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ کسی نے حنا سے کہہ دیا ہے کہ اگر کانچ کے ٹکڑے اسی طرح اس کے ہاتھ میں پیوست رہیں گے تو اس کا ہاتھ کاٹنا پڑے گا اور اسی بات سے اس کے آنسو نہیں تھم رہے۔ عورتوں کے اس وارڈ میں بیس خواتین زیر علاج ہیں۔ان کا مذہب ان کی ذات سب کچھ الگ ہے لیکن ان کا دکھ مشترک ہے اور ایک سوال کہ آخر ہمارا قصور کیا تھا؟ |