صلاح الدین بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی |  |
 | | | حملے کے وقت وہاں باورچی نتن مناچہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے |
ممبئی کے حملوں میں ہوٹل تاج کے اندر سب سے زیادہ جانی مالی نقصان ہوا اور آپریشن کے اختتام پر سب سے زیادہ لاشیں تاج کے کچن سے نکلیں لیکن حملے کے وقت وہاں موجود باورچی نتن مناچہ کسی طرح بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ نتنن کے بائیں ہاتھ میں دو گولیاں لگی ہیں اور ممبئی ہسپتال میں ان کا علاج جا رہا ہے۔ بی بی سی بات کرتے ہوئے نتن نے بتایا کہ بدھ کی رات ہوٹل تاج میں جو کچھ ہوا وہ بہت ہی خوفناک تھا۔ ہمیں اندازہ نہیں تھا کہ وہ لوگ کچن میں بھی آجائیں گے۔ ہم مہانوں کو نکالنے کی کوشش کر رہے تھے تبھی کچن میں فائرنگ شروع ہوئی مجھے یاد ہے کہ پہلی یا دوسری گولی میرے ہاتھ میں لگی اور میں گر پڑا۔گرتے ہی خیال آیا کہ میں تو باورچی ہوں اور اگر میرا ہاتھ نہیں رہا تو میں برباد ہوجاؤں گا بس اسی خیال سے بھاگا اور بچ گيا۔ نتن نے بتایا کہ انہوں نے اپنا کوٹ ہاتھ میں لپیٹا اور پھر بھاگنے لگے۔ بھاگتے ہوئے بھی پیچھے فائرنگ ہوتی رہی مگر پتہ نہیں ’میں کیسے بچ نکلا۔ وہ کہتے ہیں‘ میں بغیر جوتے کے گرتا پڑتا بھاگا اور اس وقت میں بے حد بے یار و مددگار محسوس کر رہا تھا باہر پہنچ کر میں مدد کے لیے چلاتا رہا مگر ڈر کے مارے کوئی پاس نہیں آیا۔ ڈر کی وجہ سے میں نے پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھ سکا اور اس وقت بس فائرنگ اور دھماکے کی آوازیں ہی گونچ رہی تھیں۔ نتن کا کہنا تھا کہ ’تقریبا دس بچے جب فائرنگ شروع ہوئی تو پہلے کچن میں سب کو لگا کہ شاید یہ گینگ وار ہے اس لیے سکیورٹی کے کہنے پر سب زمین پر لیٹ گئے اور چھپنے لگے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ہوٹل میں شدت پسند گھس آئے ہیں۔ ’شروع کے تین گھنٹے تک تو ہم ریسٹورنٹ کے مہمانوں کو بچانے میں لگے رہے، بیرونی ممالک کے تین چار لوگ گولی سے زخمی ہوچکے تھے اور فارنرز اس منظر سے اتنے ڈرے سہمے تھے کہ کئی ایک شراب مانگ رہے تھے پھر ہم نے باہر جھانک کے دیکھا تو لابی میں لاشیں تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ’تقریبا تین بجے رات میں اچانک کچن میں فائرنگ شروع ہوئی اور میں پہلا شکار بنا‘۔ نتن کو تیسرے روز ہسپتال میں یہ خبر ملی کہ تاج کے نامی گرامی باورچی اور ان کے ساتھی نہیں رہے۔ ’میرے قریبی، وجے بانجہ، شیف کائژاد اور شیف اوبرائے نہیں رہے یہ میرے سینیئر تھے اور حملے کے بعد تین گھنٹے تک انہیں کی ہدایات پر عمل کر تارہا تھالیکن میرے ہاتھ میں گولیاں لگنے کے بعد مجھے کچھ پتہ نہیں کہ وہاں کیا ہوا ہوگا بس اتنا معلوم ہے کہ میرے کئی ساتھی نہیں رہے‘۔ تاج کے شیف نتن مناچہ کہتے ہیں کہ وہ اس رات کو کبھی نہیں بھول سکتے۔ ’جب بھی بائیں ہاتھ پر نظر پڑےگی وہ یاد آئےگا، میرے ہاتھ کی ہڈی اور نسیں سب  | | | ’دل و دماغ میں بہت غصہ ہے کہ آخر یہ کون ہیں انسان تو نہیں ہوسکتے یہ درندے ہیں اور ممبئی میں اب ہر وقت خطرہ ہی لگا رتا ہے‘۔ | گولی سے باہر نکل گئیں ہیں اور ایک بڑا سوراخ ہو گیا ہے تاہم ڈکٹر کہتے ہیں کہ سرجری کے بعد میں کام کرنے لائق ہوجاؤں گا‘۔ نتن کی چار سال کی بیٹی کو اس بارے میں کچھ پتہ نہیں ہے۔ ان کی بیوی پریہ ان کے بیڈ کے پاس بیٹھی تھیں اور بہت مایوس دکھائی دیتی تھیں۔ ’دل و دماغ میں بہت غصہ ہے کہ آخر یہ کون ہیں انسان تو نہیں ہوسکتے یہ درندے ہیں اور ممبئی میں اب ہر وقت خطرہ ہی لگا رتا ہے‘۔ |