BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 December, 2008, 07:22 GMT 12:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی
کونڈولیزا رائس اور بھارت کے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی
کونڈولیزا رائس بھارتی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتوں کے بعد پاکستان جائیں گی

امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور امریکی مرکزی کمان کے سربراہ مائیکل مولن نے کہا ہے کہ پاکستان ممبئی واقعات کی تحقیقات جلد کرے اور جارحانہ انداز میں کرے۔
امریکہ کی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس نے اپنے ہندوستانی ہم منصب پرنب مکھرجی کے ساتھ مذاکرات کے بعد کہا ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان کی جانب سے تعاون اور شفافیت کی خصوصی طور پر ضرورت ہے۔

امریکہ وزیرِ خارجہ کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے کہا کہ ان حملوں کے لیے ذمےدار لوگ پاکستان سے آئے تھے اور ان کے کنٹرولز بھی پاکستان ميں ہیں۔

ان کا کہنا تھا ’اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ ممبئی کے واقعہ کے پیچھے پاکستان سے آئے لوگوں کا ہاتھ ہے اور ان پر کنٹرول رکھنے والے بھی پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ اور اس بات کو بین الاقوامی برادری بھی تسلیم کرتی ہے‘۔

کونڈولیزا رائس نے اپنے پورے بیان میں صرف ایک بار پاکستان کا نام لیا اور کہا کہ اس معاملے میں تہہ تک جانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان سے آئے لوگوں کا ہاتھ
 اس بات میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ ممبئی کے واقعہ کے پیچھے پاکستان سے آئے لوگوں کا ہاتھ ہے اور ان پر کنٹرول رکھنے والے بھی پاکستان میں بیٹھے ہیں۔ اور اس بات کو بین الاقوامی برادری بھی تسلیم کرتی ہے۔
پرنب مکھرجی

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا پاکستان کے خلاف کاروائی کر سکتا ہے تو پرنب مکھرجی کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے پاکستان سے خدشات ظاہر کیے ہیں اور پاکستان کی جانب سے جو بھی جواب آئے گا اسی حساب سے ہی ہندوستان کی جانب سے کاروائی کی جائے گی۔

اس سے قبل دلی پہنچے کے بعد امریکی سفارت خانے میں ایک نیوز کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کنڈولیزا رائس نے کہا تھا کہ ’امریکہ نے پاکستان کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان پوری طرح سے، شفاف ، تیزی کے ساتھ اور مکمل طور پر تعاون فراہم کرے‘۔

اسلام آباد سے نامہ نگار اعجاز مہر کے مطابق امریکی فوج کی جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین ایڈمرل مائیکل مولن نے پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ ممبئی حملوں میں کسی پاکستانی گروہ کے ملوث ہونے کے متلعق جارحانہ اور جلد تفتیش کریں۔
’مائیکل مولن نے ممبئی حملوں کی مشترکہ تحقیقات کے متعلق پاکستان کی رضامندی پر شکریہ ادا کیا اور ان پر زور دیا کہ پاکستان میں موجود کسی یا تمام گروہوں کے روابط کے بارے میں جارحانہ تفتیس کی جائے،۔

امریکی کمانڈر ایڈمرل مولن نے صدر آصف علی زرداری، قومی سلامتی کے مشیر محمود درانی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل طارق، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا سے ملاقاتیں کیں۔
امریکی سفارت خانے کے ایک بیان کے مطابق ملاقاتوں میں فریقین اس بات پر متفق دکھائی دیے کہ ممبئی حملوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شدت پسندوں کی کارروائیوں میں کافی مہارت اور تیزی آئی ہے جوکہ پورے خطے کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

بیان سے یہ واضح تاثر مل رہا ہے کہ پہلی بار کسی امریکی فوجی کمانڈر کے دورے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے زیادہ اہمیت ممبئی حملوں سے پیدا ہونے والی صورتحال پر دی گئی ہے۔

اس سے قبل انڈیا میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی وزیرِ خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکہ ان حملوں کی تحقیات میں ہر قسم کی مدد فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ یکجتی کے اظہار کے لیے یہاں آئی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جس قسم کے حملے ہوئے ہیں وہ القائدہ کی جانب سے کیے جانے والے حملوں کی طرز پر ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس معاملے میں پاکستان کی جانب سے تعاون بے حد ضروری ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اب اس سمت میں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے مستقبل ميں اس قسم کے حملوں کو روکا جا سکے۔

انہوں نے بتایا وہ ان حملوں سے متعلق جمع کیے گئے تمام ثبوتوں کا جائزہ لیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ گذشتہ سات برس سے کوشش کر رہا ہے کہ 9/11 کے بعد کوئی اور حملہ نہ ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا ’سب سے زيادہ اہم یہ ہے کہ اس بارے میں پتا لگایا جائے کہ ان حملوں کو انجام دینے کے لیے مالی مدد کہاں سے آ رہی ہے‘۔

امریکی وزیر خارجہ نئی دہلی میں وہ بھارتی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سے ملاقاتیں کریں گی۔ اس دورے کے بعد وہ جمعرات کے روز ایک دن کے دورے پر اسلام آباد پہنچیں گی۔

امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس ممبئی حملوں کے بعد کی صورتحال پر بھارتی حکام سے تبادلۂ خیال کریں گی۔

برسلز میں اپنی روانگی سے قبل انہوں نے بھارت اور پاکستان دونوں پر ایک دوسرے سے رابطے برقرار رکھنے کے لیے زور دیا اور کہا کہ انہیں مل کر ان حملوں کی سازش کرنے والے عناصر کو بے نقاب کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہا ’میں یقیناً بھارتی عوام سے اظہار یکجتی کرنے جا رہی ہوں۔ یہ دہشت ناک حملے تھے۔ ان میں امریکی بھی ہلاک ہوئے اور یہ بات امریکہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ اس سازش کی تہہ تک پہنچنا ضروری ہے اور اس کے لیے سب کو تعاون کرنا ہوگا اور پاکستان کے لیے بالخصوص ضروری ہے کہ وہ مکمل اور شفاف تعاون کرے۔ اور مجھے یہ جان کر اطمینان ہوا ہے کہ پاکستانی حکام اس کے لیے آمادہ ہیں۔‘

ادھر واشنگٹن میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ امریکی مسلح افواج کے سربراہ ایڈمرل مائک مُلن بھی اسی مقصد کے لیے خطے کا دورہ کر رہے ہیں۔

ممبئی میں ایک ہفتے قبل کیےگئے ان حملوں میں کم سے کم ایک سو اسی افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ بھارت کے وزیرخارجہ پرنب مکھرجی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان حالات میں پاکستان کے ساتھ قیام امن کے عمل کو جاری رکھنا دشوار ہوگا تاوقتیکہ پاکستان ان حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہیں کرتا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم قیام امن کے عمل کو روکنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ مگر یہ بات طے ہے کہ جب لوگوں کے جذبات مجروح ہوں تو ایک ایسا ماحول پیدا ہوجاتا ہے جو معمول کے مطابق کام کے لیے سازگار نہیں ہوتا ۔۔۔ اُس کا کچھ نہ کچھ اثر ہوتا ہے۔ اس لیے ان واقعات کے سلسلے میں اگر دوسری جانب سے مناسب کارروائی نہیں کی جاتی تو پھر ایسا ماحول پیدا ہوجائے گا جس میں قیام امن سمیت معمول کے تمام مُعاملات کی جانب پیش رفت مشکل ہو جائےگی۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد