BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2008, 08:38 GMT 13:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ممبئی حملوں کے بعد امن کا امکان

عوامی جذبات کو کنٹرول کرنا ہوگا
اگر ممبئی حملوں کے لیے لشکر طیبہ حقیقت میں ذمہ دار ہے جیسا کہ بھارتی حکام کہہ رہے ہیں اور پاکستان انکار کر رہا ہے، تو یہ دوسری بار ہے کہ اس تنظیم نے تن تنہا دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر کھڑا کر دیا ہے۔ لشکر طیبہ کے بھارتی پارلیمان پر حملے کے بعد سن دو ہزار دو میں دونوں ملکوں نے سرحد پر لگ بھگ دس لاکھ فوجی تعینات کردیے تھے۔

ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف بھارت میں عوامی غصے میں اضافہ ہورہا ہے اور بھارت کے خلاف تنگ نظر پاکستانی جذبات میں بھی اور بعض نے اعتدال پسند صدر آصف زرداری سے اپیل بھی کی ہے کہ وہ بھارت کے خلاف اعلانِ جنگ کریں۔

جب سن دو ہزار چار میں پاکستانی فوج نے پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیموں کو بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں دراندازی سے روک دیا تو لشکر طیبہ، جیش محمد اور حرکت المجاہدین جیسی کئی تنظیمیں ٹوٹ اور بکھر گئیں۔

کئی شدت پسندوں نے اپنےگھروں کا رخ کیا، کچھ کو نوکریاں مل گئیں اور بعض پہاڑوں میں موجود تربیتی کیمپوں میں ہی رہ گئے۔

لیکن ان میں سے جو بالکل ہی نوجوان تھے انہوں نے القاعدہ اور پاکستان اور افغانستان میں موجود طالبان کی صفوں میں شرکت کرلی۔ انہوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی افواج کے خلاف عالمی جہاد کو لبیک کہا اور جب پاکستانی طالبان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کا اپنا ایجنڈا طے کرلیا تو پاکستانی حکومت اور فوج پر حملے کرنے لگے۔

 یقینی طور پر پاکستان غیرذمہ دار نہیں ہے۔ فوج اور سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو اس بات کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کہ وہ انہوں نے کشمیری شدت پسند گروپوں کو ختم نہیں کیا اور قبائلی علاقوں میں مزاحمت سے نمٹنے میں ڈھیل دکھائی۔ در حقیقت فوج نے ابھی اگست سے ہی کارروائی کرنی شروع کی ہے۔
جس گروپ نے ممبئی میں حملے کیے ان میں کچھ پاکستانی ہوسکتے ہیں لیکن اس بات کا امکان زیادہ ہے کہ وہ عالمی سطح کی کوئی دہشت گرد فورس ہو جس کی تشکیل القاعدہ اور پاکستانی طالبان نے کی ہے۔ چونکہ القاعدہ اور پاکستانی طالبان قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کی وجہ سے پریشان ہیں اس لیے وہ کچھ راحت کی تلاش میں ہیں۔

اور ان کے لیے اس سے بہتر طریقہ کیا ہوسکتا ہے کہ قبائلی علاقوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک دہشت گرد حملہ کرکے بھارت اور پاکستان جیسے دو پرانے دشمن ملکوں کو لڑا دیا جائے۔

ان کی اس حکمت عملی کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر شدت پسندوں کے محفوظ ٹھکانوں کو بچانے میں مدد ملے گی اور ان جنگجوؤں کو سکون کی سانس لینے میں مدد ملے گی۔ ان کی اس حکمتِ عملی کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ امریکہ کے نامزد صدر باراک اوبامہ آئندہ دنوں میں بیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے والے ہیں جبکہ نیٹو ممالک بھی مزید فوج بھیجنے والے ہیں۔

القاعدہ اور طالبان کی یہی حکمت عملی ممبئی حملوں کا محرک ہے۔ یہ حکمت عملی سن دو ہزار دو میں کامیاب رہی تھی جب پاکستان نے افغان سرحد سے اپنی فوج ہٹاکر بھارتی سرحد پر تعینات کردی تھی جس کے نتیجے میں القاعدہ اور افغان طالبان افغانستان سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں آکر بس گئے اور اپنے ٹھکانوں کو مضبوط کرلیا۔

اگر بھارت اور پاکستان اپنی افواج سرحد پر تعینات کرتے ہیں تو وہ القاعدہ کی اس حکمت عملی کا شکار ہوسکتے ہیں۔

اس طرح کے الزامات کے ممبئی حملوں میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی ملوث ہے بظاہر بےبنیاد لگتے ہیں۔ کراچی میں تشدد، صوبہ سرحد اور بلوچستان میں مزاحمت اور اقتصادی بحران کا شکار پاکستان بھارت کے ساتھ کشیدگی مول لینے کی نہیں سوچ سکتا، اس لیے بھی کہ ایک تہائی ملک اس وقت آئینی کنٹرول سے باہر ہے۔

یقینی طور پر پاکستان غیرذمہ دار نہیں ہے۔ فوج اور سابق فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف کو اس بات کے لیے ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کہ انہوں نے کشمیری شدت پسند گروپوں کو ختم نہیں کیا اور قبائلی علاقوں میں مزاحمت سے نمٹنے میں ڈھیل دکھائی۔ در حقیقت فوج نے ابھی اگست سے ہی کارروائی کرنی شروع کی ہے۔

ممبئی میں ایک مظاہرہ
سن دو ہزار چار کے بعد بھارت کے ساتھ پرویز مشرف کی امن کوششوں کے باوجود پاکستانی فوج بھارت کو ایک اول خطرہ سمجھنے کی اپنی پالیسی سے ہٹنے میں کافی سست رہی ہے۔ اس بات کو سمجھنے میں کافی سستی کی گئی ہے کہ مقامی شدت پسندوں سے خطرہ کہیں زیاد ہے۔

پہاڑوں اور فوجی چھاؤنیوں میں القاعدہ کے دہشت گردوں نے فوج پر حملے کیے ہیں اور فوج نے جوابی کارروائیاں بھی کیں ہے لیکن یہ کارروائیاں تاخیر سے ہوئی ہیں۔

اگر بھارت اور پاکستان سمجھ سکتے ہیں کہ وہ القاعدہ کی حکمت عملی کا شکار ہیں اور اگر دونوں ملکوں کو یہ بات سمجھانے میں بین الاقوامی کوششیں مؤثر ہوسکتی ہیں تو دونوں پڑوسیوں کے درمیان گزشتہ ساٹھ برسوں سے جاری مسائل جیسے کشمیر اور دیگر معاملات کے حل تلاش کرنے کا ایک نیا موقع پیدا ہوا ہے۔

یقینا دونوں ملکوں کے لیے جنگ کے دہانے سے واپس ہونا مشکل ہوگا۔ بھارت میں ایک کمزور حکومت ہے جس کی دہشت گردی مخالف پالیسیاں ناکام رہی ہیں اور جسے آئندہ چھ مہینوں میں عام انتخابات کا سامنا ہے۔ بھارتی میڈیا اور عوام پاکستان کے ساتھ تعاون کی بجائے بدلے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

پاکستان میں بھی کمزور حکومت ہے جو کہ فوج کے ساتھ تعاون کے معیار اسطوار کرنے کی کوشش کررہی ہے جبکہ پاکستانی فوج کا خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی اور آئی ایس آئی پر کنٹرول رہا ہے، اور سب جانتے ہی کہ آئی ایس آئی ملک کا سب سے طاقتور سیاسی ادارہ ہے۔

پاکستان کے دیگر مسائل حکومت کو زیر کرسکتے ہیں۔ لہذا وہ بھارت کے خلاف فوج تعینات کرنا نہیں چاہے گی۔

جنگ کے امکان کو امن کے امکان میں تبدیل کرنے کے لیے دونوں ملکوں کی قیادت کو عزم، دانشمدی اور حکومتی عملداری کا ثبوت دینا ہوگا، چاہے ان کو اپنے ملک میں عوام کے جذبات کو نظر انداز ہی کرنا پڑے۔

-----------------------------------
احمد رشید کی کتاب ’ڈیسنٹ اِنٹو کیؤس: ہاؤ دی وار اگینسٹ اسلامِک ایکسٹریمِزم اِز بیِئنگ لوسٹ اِن پاکستان، افغانستان اینڈ سینٹرل ایشیا‘ اسی سال شائع ہوئی ہے۔

زرداریسفارتی جدوجہد
برصغیر کی سیاست میں امریکی کردار
 مارک ٹلیمارک ٹلی کہتے ہیں
جہاز ہچکولے کھاتا رہتا ہے مگر ڈوبتا نہیں
ممبئیبھارتی خفیہ ایجنسیاں
پورا نظام تباہی کی طرف جا رہا ہے
مولانا مسعود اظہربھارت کے بیس
پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے
دورۂ پاکستان
ممبئی حملوں کے بعد پاکستان پر امریکی موقف
ہند - پاک کشیدگی
ممبئی حملوں کے بعد ہند پاک رشتے کشیدہ
کون بزنس کرے گا؟
سیاحت اور تجارت سے جڑے لوگ فکرمند
اسی بارے میں
وزیراعظم کو ISI کی بریفنگ
05 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد