BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 08 December, 2008, 00:00 GMT 05:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی علاقہ استعمال ہوا: رائس
کونڈولیزا رائس اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کے ساتھ
امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ ممبئی پر حملوں کے لیے پاکستانی علاقہ استعمال کیا گیا تھا۔

امریکی ٹی وی چینلوں کو انٹرویوز دیتےہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں کہ جن شدت پسندوں نےممبئی میں کئی مقامات پر حملے کیے، وہ اپنی سرگرمیوں کے لیے پاکستانی سرزمین استعمال کر رہے تھے۔

تاہم انہوں نےکہا کہ ممکنہ طور پر یہ حملے غیر حکومتی عناصر نے کیے تھے۔ انہوں نے اپنا یہ مطالبہ دہرایا کہ پاکستان ان حملوں کے لیے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کرے۔

پاکستان نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس الزام سے انکار کیا ہے کہ حملوں میں کسی سرکاری ایجنسی کا ہاتھ تھا۔ پاکستان نے تفتیش میں تعاون کا وعدہ کرتے ہوئے ہندوستان سے ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

محترمہ رائس چھبیس نومبر کے حملوں کے بعد ہندوستان اور پاکستان کا دورہ کرکے واشنگٹن لوٹی ہیں۔

News image
شواہد کافی مل چکے ہیں
 ممبئی بم حملوں کے بارے میں کافی شواہد جمع کئے جا چکے ہیں۔ اس لئے ثبوت کا حصول اب مسئلہ نہیں ہے۔ اصل بات ان کا تبادلہ ہے اور اس پر کارروائی کرنا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت سے طریقہ کار موجود ہیں جس کے ذریعے یہ تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔
کونڈو لیزا رائس

انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس بات کے ٹھوس ثبوت موجود نہیں ہیں کہ حملوں میں پاکستانی حکومتی اہلکار ملوث تھے۔

اس سے قبل فاکس نیوز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے ہندوستان اور پاکستان دونوں کو ممکنہ حملے کے بارے میں معلومات فراہم کی تھی۔

’ میں نے پاکستان پر یہ بالکل واضح کردیا ہےکہ ہم مکمل تعاون اور ٹھوس کارروائی کی توقع کرتے ہیں۔ اور ہاں اس سے ہمارے اور پاکستان کے تعلقات متاثر ہوسکتےہیں۔‘

ممبئی پولیس کا الزام ہے کہ حملے ممنوعہ تنظیم لشکر طیبہ نے کیے تھے لیکن محترمہ رائس نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا امریکہ اس بات سےاتفاق کرتا ہے یا نہیں۔

پاکستان کے دورے پر انہوں نے کہا تھا کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیئے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اپنے مختصر قیام کے دوران صدر آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان کے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی تھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد