زرداری کو کال نہیں کی: مکھرجی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیر خارجہ پرنب مکھرجی نے اس خبر کو غلط بتایا ہے کہ انہوں نے پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کو فون کر کے حملہ کرنے کی دھمکی دی تھی۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بیان میں مکھرجی نے کہا: ’ہمیں کسی دوسرے ملک کے دوستوں نے بتایا کہ صدر زرداری کو ممبئی حملوں کے بعد 28 نومبر کو میری جانب سے ایک ٹیلی فون کال آیا تھا۔ میں نے دوستوں کو اور پاکستانی اہلکاروں کو واضح کیا کہ میں نے اس قسم کی کوئی ٹیلی فون کال نہیں کی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایک تشویشناک بات ہے کہ پڑوسی ملک نے اس طرح کی جعلی کال پر کارروائی کرنے کے بارے میں سوچا اور اس خبر کو کو ریلز کرکے عوام کو پش و پیش میں ڈال دیا۔ ’میں اس واقعہ کے بارے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ خبر پھیلا کر بعض لوگ اس بات سے سے توجہ ہٹانا چاہتے ہیں کہ پاکستان میں سرکردہ بعض شدت پسند گروپ نے ممبئی پر حملہ کیا تھا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ آخری بار انہوں نے صدر زرداری سے مئی 2008 میں اسلام آباد میں بات کی تھی۔ مکھرجی کا کہنا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد کسی پاکستانی رہنما کے ساتھ ان کی بات چیت 28 نومبر کو پاکستان کے وزیر خارجہ محمود قریشی سے ہوئی تھی جو اس وقت دلی میں موجود تھے۔
برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فون کال بھارتی وزارت خارجہ سے آئی تھی اور صدر زرداری سے بات کرانے سے پہلے اس کی شناخت کرلی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال بھارت کی ’وزارت خارجہ کی تھی۔ اور تبھی معاملے کی سنگینی کی وجہ سے اس کو (صدر زرداری سے) ملایا گیا تھا۔‘ ’دوسری بات یہ ہے کہ اس کے بعد یہ کہہ دینا کہ ہاکس (غلط) کال تھی، ہمارے یہاں سے نہیں ہوئی، یہ سب بکواس ہے۔ یہاں لندن میں بیٹھ کر مجھے معلوم تھا کہ کچھ پلان کیا جارہا ہے۔یہاں پر لوگوں نے مجھے۔۔۔ (بتایا)، میرے ذرائع نے انگلینڈ میں، کہ جناب حالت بہت سنگین ہوگئی ہے۔ انڈیا پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’جس پر ہم نے کافی اپنے دوستوں کو یہاں بھی متحرک کیا، امریکہ میں بھی متحرک کیا۔ میرے جتنے بھی دوست تھے ان سبھی کو کہا گیا کہ ایسی ایسی چیزیں ہونے والی ہیں۔ اور اس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔‘ ہاکس کال کی خبر کے بارے میں واجد شمس الحسن نے اس رپورٹ کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ اس فون کال کے دوسرے دن برطانوی زیراعظم گورڈن براؤن نے صدر زردای سے بات کی جبکہ وزیر خارجہ ملی بینڈ نے صدر زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کی۔ واجد شمس الحسن نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بھی بات کی۔ پاکستانی ہائی کمِشنر نے بتایا کہ اس وقت ’زمینی شواہد ایسے تھے کہ (پاکستان پر) ایک فوری حملہ کردیا جائے تاکہ ان کو ایک سبق سکھا دیا جائے۔‘ اس سوال پر کہ اس فون کال کے بعد وزیراعظم گیلانی کو اسلام آباد واپس آنے کو کہا گیا اور ہنگامی حالات میں ایک طیارہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھارت سے لانے کے لیے بھیجا گیا، کیا پاکستان بھارت سے احتجاج کرے گا، واجد شمش الحسن نے اس بات کو مسترد کردیا کہ بھگدڑ کا ماحول تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم محتاط تھے، کہ ہم بےخبری میں نہ رہیں، انیس سو پینسٹھ (کی جنگ) کی طرح، کہ لوگ کہتے ہیں کہ لاہور جِمخانہ تک پہنچ گئے تھے۔‘ |
اسی بارے میں حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں‘03 December, 2008 | انڈیا تحقیقات میں مدد کرنے کا اعلان30 November, 2008 | انڈیا ’ایک دہشت گرد حراست میں‘28 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا تناؤ پر پاکستانی تشویش، جاسوسی کی ناکامی پر سوالات 30 November, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||