بھارت حملہ کرنے والا تھا: پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمِشنر واجد شمس الحسن نے اس میڈیا رپورٹ کو غلط بتایا ہے کہ کسی شخص نے خود کو بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی بتاتے ہوئے صدر آصف زرداری کو فون کیا۔ واجد شمس الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ فون کال بھارتی وزارت خارجہ سے آئی تھی اور صدر زرداری سے بات کرانے سے پہلے اس کی شناخت کرلی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کال بھارت کی ’وزارت خارجہ کی تھی۔ اور تبھی معاملے کی سنگینی کی وجہ سے اس کو (صدر زرداری سے) ملایا گیا تھا۔‘ ’دوسری بات یہ ہے کہ اس کے بعد یہ کہہ دینا کہ ہاکس (غلط) کال تھی، ہمارے یہاں سے نہیں ہوئی، یہ سب بکواس ہے۔ یہاں لندن میں بیٹھ کر مجھے معلوم تھا کہ کچھ پلان کیا جارہا ہے۔یہاں پر لوگوں نے مجھے۔۔۔ (بتایا)، میرے ذرائع نے انگلینڈ میں، کہ جناب حالت بہت سنگین ہوگئی ہے۔ انڈیا پاکستان پر حملہ کرسکتا ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا: ’جس پر ہم نے کافی اپنے دوستوں کو یہاں بھی متحرک کیا، امریکہ میں بھی متحرک کیا۔ میرے جتنے بھی دوست تھے ان سبھی کو کہا گیا کہ ایسی ایسی چیزیں ہونے والی ہیں۔ اور اس کو سنجیدگی سے لیا جائے۔‘ سنیچر کو انگریزی اخبار ڈان کے حوالے سے ذرائع ابلاغ نے یہ کبھی خبر دی تھی کہ صدر آصف زرداری کو کسی شخص نے خود کو بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی بتاتے ہوئے ممبئی دھماکوں کے پس منظر میں دھمکیاں دیں اور صدر زرداری کے مصالحانہ لہجے کو نظر انداز کردیا۔ واجد شمس الحسن نے اس رپورٹ کو غلط بتاتے ہوئے کہا کہ اس فون کال کے دوسرے دن برطانوی زیراعظم گورڈن براؤن نے صدر زردای سے بات کی جبکہ وزیر خارجہ ملی بینڈ نے صدر زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بات کی۔ واجد شمس الحسن نے بتایا کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس نے بھارتی وزیر خارجہ پرنب مکھرجی سے بھی بات کی۔ پاکستانی ہائی کمِشنر نے بتایا کہ اس وقت ’زمینی شواہد ایسے تھے کہ (پاکستان پر) ایک فوری حملہ کردیا جائے تاکہ ان کو ایک سبق سکھا دیا جائے۔‘ اس سوال پر کہ اس فون کال کے بعد وزیراعظم گیلانی کو اسلام آباد واپس آنے کو کہا گیا اور ہنگامی حالات میں ایک طیارہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھارت سے لانے کے لیے بھیجا گیا، کیا پاکستان بھارت سے احتجاج کرے گا، واجد شمش الحسن نے اس بات کو مسترد کردیا کہ بھگدڑ کا ماحول تھا۔ انہوں نے مزید کہا: ’ہم محتاط تھے، کہ ہم بےخبری میں نہ رہیں، انیس سو پینسٹھ (کی جنگ) کی طرح، کہ لوگ کہتے ہیں کہ لاہور جِمخانہ تک پہنچ گئے تھے۔‘ پاکستانی ہائی کمِشنر نے کہا کہ صرف ہاکس فون کال کی بات نہیں تھی بلکہ لندن میں بھی انہیں اطلاع ملی تھی کہ کچھ گڑبڑ ہونے والی ہے اور حالات کو بہتر کرنے کے لیے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ’جس کے بعد میری بات صدر (زرداری) صاحب سے ہوئی تھی۔‘ واجد شمس الحسن نے کہا کہ پاکستان حالات کو بہتر کرنا چاہتا ہے۔ اور غیر ریاستی عناصر یعنی دہشت گرد عناصر خود پاکستانی حکومت کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے تاکہ مل جل کر دہشت گردی کا خاتمہ کیاجاسکے۔ |
اسی بارے میں صدر زرداری دھوکہ کھاگئے06 December, 2008 | پاکستان ’ 9/11 جیسےحملے ہو سکتے ہیں‘04 December, 2008 | انڈیا بھارتی ایجنسیاں، نظام تباہ ہو رہا ہے04 December, 2008 | انڈیا وزیراعظم کو ISI کی بریفنگ05 December, 2008 | پاکستان پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں04 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||