فرید کوٹ میں غیر معمولی کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سے بھارتی ذرائع ابلاغ میں تواتر سے یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ گرفتار کیے گئے واحد حملہ آور اجمل یا عظیم امیر قصاب کا تعلق پاکستان کے شہر فریدکوٹ سے ہے۔ بھارتی میڈیا میں ان خبروں کے آنے کے بعد سے پاکستانی صحافیوں نے بھی یہ کوششیں شروع کردی تھیں کہ اس بات کا پتا لگایا جائے کہ فرید کوٹ کہاں ہے۔ گزشتہ ہفتے یہ پتہ چلا کہ فرید کوٹ نام کے دو مقامات ملتان ڈویژن میں ہیں۔ یہاں پہنچنے پر میں نے دیکھا کہ گاؤں کے حالات کچھ غیرمعمولی نوعیت کے ہیں اور بڑی تعداد میں ایسے افراد حرکت میں نظر آ رہے ہیں جن کے بارے میں مقامی افراد کا کہنا تھا کہ وہ خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار ہیں۔ جب میں گاؤں کے لوگوں سے پتہ پوچھتا ہوا اس گھر پہنچا جسے امیر قصاب کا گھر بتایا جا رہا تھا تو وہاں موجود سادہ کپڑوں میں ملبوس ’مبینہ اہلکار‘ کیمرہ اور مائیکروفون دیکھتے ہوئے گھر سے باہر نکل آئے۔
اس گھر میں دو ہی کمرے تھے اور دونوں کمروں کے باہر سے تالا لگا ہوا تھا۔ صرف ایک چارپائی باہر رکھی ہوئی تھی۔ معراج بی بی نے پوچھنے پر بتایا کہ وہ کسی امیر قصاب نامی شخص کو نہیں جانتی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ غفور قصاب کی بیوی ہیں اور ان کا کوئی بچہ غائب نہیں ہے۔ جو دوسری بات عجیب لگی وہ یہ کہ پنجاب کے گاؤں میں لوگ کیمرے پر تصویر کھینچوانے سے یا مائیک دیکھ کر نہیں گھبراتے ہیں لیکن یہاں لوگ کچھ گھبرائے ہوئے دِکھائی دے رہے تھے۔ یہاں ایک ایسے صاحب بھی موجود تھے جو صاف طور پر گاؤں کے نہیں دکِھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے منع کیا کہ کسی کی تصویر نہ اتاری جائے اور لوگوں کے انٹرویو نہ کئے جائیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ اس گھر میں رہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ گاؤں میں رہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ہاں۔ لیکن جب میں نے ان کا نام پوچھا تو وہ جواب دیے بغیر چلے گئے۔ گاؤں کے باہری حصے میں جب ہم نے کچھ لوگوں سے امیر قصاب کا پتہ پوچھا تو لوگوں نے اسی گھر کا پتہ بتایا۔ یہاں تک کہ ہم نے گاؤں کی مرکزی مسجد کے امام قاری نوید اکرم سے بھی پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ امیر قصاب کے دو بیٹے ہیں۔ ان میں سے ایک لڑکا جس کا صحیح نام قاری نوید اکرم کو یاد نہیں تھااور وہ اعظم یا اجمل جیسا کوئی نام یاد کرنے کی کوشش کررہے تھے، ان کے بقول مذہبی رجحان والا تھا اور کچھ وقت سے اس کا اپنے والد سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ کچھ سکیورٹی کے افسر آئے تھے اور وہ وہاں سے فیملی کو لے گئے۔ فرید کوٹ میں اخباروں کے صحافیوں کا تانتا لگا ہوا ہے۔ یہاں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے یہاں سرکاری سکیورٹی اہلکاروں کی سرگرمیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ اگرچہ ابھی تک اس بات کے شواہد نہیں ملے کہ ممبئی حملوں میں ملوث امیر عظیم قصاب کا تعلق واقعی اسی گاؤں سے ہے، لیکن یہ بات واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے کہ گاؤں میں سرکاری سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں کی سرگرمیاں معمول سے ہٹ کر ہیں اور یہ کہ انہیں اس گاؤں کے حوالے سے سخت تشویش لاحق ہے۔ |
اسی بارے میں عملی تعاون کا عملی مظاہرہ کریں: رائس04 December, 2008 | پاکستان پہلے والی لسٹ میں کون کون مطلوب تھے05 December, 2008 | پاکستان گرفتار شدت پسند کا نارکو ٹیسٹ 05 December, 2008 | انڈیا ’ 9/11 جیسےحملے ہو سکتے ہیں‘04 December, 2008 | انڈیا پاکستان بیس افراد حوالے کرے: انڈیا02 December, 2008 | انڈیا ہند- پاک کشیدگی کی طرف 01 December, 2008 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||