BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 04 December, 2008, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عملی تعاون کا مظاہرہ کریں: رائس

صدر زرداری اور کونڈولیزا رائس
اگر ثابت ہو گیا تو پاکستان سخت کارروائی کرےگا: صدر زرداری
پاکستان کے دورے پر آئی امریکی وزیرخارجہ کونڈو لیزا رائس نے کہا ہے کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کو پیغام دیا ہے کہ ممبئی حملوں کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف فوری اور شفاف کارروائی کا عملی مظاہرہ ہونا چاہیئے۔

یہ بات امریکی وزیر خارجہ نے اسلام آباد میں مختصر قیام کے دوران پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں کے بعد واپس روانہ ہونے سے قبل چکلالہ ائیربیس پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت نے ان کا یہ پیغام بہت اچھی طرح موصول کیا ہے کیونکہ پاکستانی قیادت جانتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف یہ لڑائی ان کی اپنی بھی ہے۔

پاکستانی صدر، وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ سے ملاقاتوں کے بعد میڈیا سے مختصر گفتگو میں امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ممبئی حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی پاکستانی یقین قابل تعریف ہے۔ تاہم، انکا کہنا تھا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان فوری طور پر اس یقین دہانی کو عملی جامہ پہنائے اور بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعاون میں خلوص اور فوری عملیت نظر بھی آنی چاہئے۔

پاکستان کےصدر آصف زرداری نے امریکی وزیر خارجہ کو کہا کہ پاکستان نہ صرف تحقیقات میں بھارت کی مکمل مدد کرےگا بلکہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ ممبئی پر حملہ کرنے والے دہشتگردوں نے پاکستان کی سرزمین کو استعمال کیا ہے تو پاکستان ان کے خلاف سخت کارروائی کرےگا۔

امریکی وزیر خارجہ نےصدر آصف زرداری، وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان کے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کی۔

News image
شواہد کافی مل چکے ہیں
 ممبئی بم حملوں کے بارے میں کافی شواہد جمع کئے جا چکے ہیں۔ اس لئے ثبوت کا حصول اب مسئلہ نہیں ہے۔ اصل بات ان کا تبادلہ ہے اور اس پر کارروائی کرنا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت سے طریقہ کار موجود ہیں جس کے ذریعے یہ تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔
کانڈو لیزا رائس
کونڈولیزا رائس نے کہا کہ ممبئی بم حملوں کے بارے میں کافی شواہد جمع کئے جا چکے ہیں۔ ’ ثبوت کا حصول اب مسئلہ نہیں ہے۔ اصل بات ان کا تبادلہ ہے اور اس پر کارروائی کرنا ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہت سے طریقہ کار موجود ہیں جس کے ذریعے یہ تبادلہ کیا جا سکتا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ممبئی واقعات کے وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات بہت اچھے تھے اور یہی تعلقات ان واقعات کی تحقیقات میں تعاون کی مضبوط بنیاد بن سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا ’امریکہ بھی ان تحقیقات میں تعاون کے لئے تیار ہے لیکن بنیادی طور پر یہ کام پاکستان اور بھارت کا ہے کہ وہ ملکر اس معاملے کی تحقیقات کریں اور ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ دونوں ممالک ایسا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ ایسا ہی کیا جائےگا۔‘

انہوں نے کہا کہ یہ حملے جس مہارت سے کئےگئے اس کی اس خطے میں مثال نہیں ملتی اور یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ہم سب کو مل کر اس کے خلاف کارروائی کرنی ہے تاکہ یہ واردات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہو۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیرخارجہ نے یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات میں بھارت کو ممبئی حملوں کی تحقیقات کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ تعاون میں خلوص اور فوری عملیت نظر بھی آنی چاہئے۔

سرکاری بیان کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے کہ پاکستان میں رہنے والے غیر ریاستی عناصر کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف کارروائیوں میں ملوث نہ ہوں۔

مہارت بے مثل
 حملے جس مہارت سے کئےگئے اس کی اس خطے میں مثال نہیں ملتی اور یہ حقیقت بتاتی ہے کہ ہم سب کو مل کر اس کے خلاف کارروائی کرنی ہے تاکہ یہ واردات دوبارہ وقوع پذیر نہ ہو۔
امریکی وزیر خارجہ

بیان میں بتایا گیا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ نے دہشت گردی کے خطرات سے نمٹنے کے لئے پاکستانی افواج کی صلاحیت میں اضافے کی یقیقن دہانی بھی کروائی۔

وزیراعظم گیلانی نے اس ملاقات میں وزیراعظم کو بتایا کہ پوری پاکستانی قوم ممبئی حملوں پر غمزدہ ہے اور حکومت نے اس کارروائی کی فوری اور پرزور مذمت کی تھی۔

امریکی وزیر خارجہ چھبیس نومبر کو ممبئی میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے انڈین رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ’پوری طرح اور شفاف طریقے سے‘ کوشش کرے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد