پاک بھارت کشیدگی، رائس پاکستان میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس انڈیا کے ایک روزہ دورے کے بعد جمعرات کے روز پاکستان پہنچ گئی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ جو پاکستان میں کچھ گھنٹوں تک قیام کریں گی پاکستان وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور پاکستان کے بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے ملاقات کر چکی ہیں اور اب وہ صدر آصف زرداری سے ملاقات کر رہی ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ چھبیس نومبر کو ممبئی میں ہونے والے دہشتگرد حملوں کے بعد پاکستان اور بھارت میں پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ کونڈولیزا رائس کی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات کے موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری سراج شمس الحسن اور سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر بھی موجود تھے۔ امریکی وزیر خارجہ نے انڈین رہنماؤں سے ملاقات کے بعد کہا تھا کہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچانے کے لیے پاکستان کو چاہیئے کہ وہ ’پوری طرح اور شفاف طریقے سے‘ کوشش کرے۔ دلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ ’پاکستان پر ایسا کرنے کی خصوصی ذمہ داری ہے۔‘ کونڈو لیزا رائس نے بھارتی وزیرِ خارجہ سے بات چیت کے بعد بھارت اور پاکستان سے کہا ہے کہ گزشتہ ہفتے ممبئی پر ہونے والے حملوں کے ردعمل میں دونوں ملکوں کو اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملک اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا جواب مزید حملوں اور غیرمطلوبہ نتائج کا سبب نہ بنے۔ ’کوئی بھی جواب دینے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ وہ (حملے) روکنے کے لیے کتنا کارگر ہے۔‘
انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ اس سلسلے میں وہ بھارت سے مکمل، شفاف اور فوری تعاون کرے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ امریکی وزیرِ خارجہ کو خدشہ ہے کہ اگر دونوں ہمسایہ ممالک میں تناؤ مزید بڑھا تو اس سے پاکستان کا افغان کی سرحد سے دھیان بٹ سکتا ہے جہاں وہ شدت پسندوں سے برسرِ پیکار ہے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ یہ پاکستان کی جمہوری حکومت کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہے۔ دوسری طرف بھارت میں حکمراں جماعت کانگریس کی راہنما سونیا گاندھی نے کہا ہے کہ بھارت ممبئی حملوں کا بھرپور جواب دے گا۔ بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے سونیا گاندھی نے کہا کہ بھارت پڑوسیوں سے پرامن تعلقات چاہتا ہے مگر اسے اس کی کمزوری نہ سمجھا جائے۔ بھارتی حکام کہہ چکے ہیں کہ ممبئی پر حملہ کرنے والوں کا تعلق پاکستان سے ہے۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کونڈو لیزا رائس اور امریکی مرکزی کمان کے سربراہ مائیکل مولن نے کہا ہے کہ پاکستان ممبئی واقعات کی تحقیقات جلد کرے اور جارحانہ انداز میں کرے۔ | اسی بارے میں حملہ آور پاکستان سے آئے: مکھرجی03 December, 2008 | انڈیا ’منصوبہ سازوں کو بے نقاب کریں‘03 December, 2008 | انڈیا تحقیقات میں مدد کرنے کا اعلان30 November, 2008 | انڈیا ’ایک دہشت گرد حراست میں‘28 November, 2008 | انڈیا ممبئی: سینکڑوں افراد زیرعلاج ہیں29 November, 2008 | انڈیا تناؤ پر پاکستانی تشویش، جاسوسی کی ناکامی پر سوالات 30 November, 2008 | انڈیا ممبئی آپریشن ختم:ہوٹل تلاشی شروع، 195 ہلاک 29 November, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||