رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور مرکز دعوۃ والارشاد کے بانی حافظ محمد سعید کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اُن کی سوچ اور نظریے پر انیس سو اکہتر میں ملک کے دو لخت ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں اور اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز دراصل انہوں نے انیس سو اکہتر کے فوراً بعد ہی کر دیا تھا۔ لیکن اس نظریے کی تشہیر کے لیے باقاعدہ نتظیم سازی کا آغاز انہوں نے سن انیس سو چھیاسی میں ایک ماہانہ میگزین ’الدعوۃ‘ کی اشاعت سے کیا۔ اسی وقت مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔ ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی۔ حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز دعوۃ والارشاد کو بنایا۔ لشکر طیبہ اس دوران بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک نئی علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا۔ اب تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش ہو گئی۔ بعض لوگ تو اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور انکے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ بھارتی کشمیر میں سرگرم عمل عسکری تنظیموں میں ایک مؤثر گروپ کے طور پر سامنے آئی۔ تنظیم کی زیادہ تر رکنیت پاکستانیوں کی تھی۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی عسکری کارروائیاں اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کے بجائے لشکر طیبہ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔ اور پھر امریکہ میں گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کے حملے ہوگئے۔ ان حملوں نے پاکستان اور بھارت میں عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جنکے نتیجے میں کشمیر میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ سرد پڑتا چلا گیا۔ جماعت الدعوۃ لشکر طیبہ اس وقت ایک نئی صورتحال سے دو چار ہوئی جب نومبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن چونکہ پابندی کا دائرہ اثر صرف پاکستان کے اندر تھا تو اس سے نمٹنے کے لئے حافظ سعید نے اپنے دیرینہ ساتھی ذکی الرحمٰن لکھوی کواس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اسکے دفاتر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر منتقل کر دیئے اور خود ایک بار پھر مرکز الدعوہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس تنظیم کا نام انہوں نے بدل کر جماعت الدعوۃ رکھ دیا۔ | اسی بارے میں ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ’کوئی ثبوت نہیں، صرف پروپیگنڈہ‘10 December, 2008 | پاکستان حافظ سعید گھر پر نظر بند، دفتر سر بہ مہر 11 December, 2008 | پاکستان پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک11 December, 2008 | پاکستان فیصلہ کسی صورت قبول نہیں: حافظ11 December, 2008 | پاکستان ’پاکستانی عسکریت پسند‘، عالمی پابندیاں 11 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||