BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 15:24 GMT 20:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رسالہ ’الدعوۃ‘ سے جماعتہ الدعوۃ تک

حافظ محمد سعید
حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز دعوۃ والارشاد کو بنایا
لشکر طیبہ، جماعت الدعوۃ اور مرکز دعوۃ والارشاد کے بانی حافظ محمد سعید کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ اُن کی سوچ اور نظریے پر انیس سو اکہتر میں ملک کے دو لخت ہونے اور بنگلہ دیش کے قیام کے گہرے اثرات پائے جاتے ہیں اور اپنے نظریے کو عملی جامہ پہنانے کا آغاز دراصل انہوں نے انیس سو اکہتر کے فوراً بعد ہی کر دیا تھا۔

لیکن اس نظریے کی تشہیر کے لیے باقاعدہ نتظیم سازی کا آغاز انہوں نے سن انیس سو چھیاسی میں ایک ماہانہ میگزین ’الدعوۃ‘ کی اشاعت سے کیا۔

اسی وقت مرکز دعوۃ والارشاد کی تشکیل بھی عمل میں آئی۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے کہ اس تنظیم کا کام تبلیغ و فلاح کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے مختلف رسائل اور جرائد کے علاوہ مختلف فلاحی کاموں کا بھی سہارا لیا گیا۔

ان میں سرفہرست تعلیمی اداروں کا قیام تھا۔ مرکز الدعوۃ کے زیراہتمام ملک کے مختلف علاقوں میں مدارس کھولے گئے۔ حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی۔

حافظ سعید نے اپنی سرگرمیوں کا محور لاہور کے نواح میں واقع قصبے مریدکے میں قائم مرکز دعوۃ والارشاد کو بنایا۔

لشکر طیبہ

اس دوران بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ایک نئی علیحدگی پسند تحریک نے جنم لیا۔ اب تو جیسے حافظ سعید کی برسوں پرانی خواہش ہو گئی۔ بعض لوگ تو اس امکان کو بھی مسترد نہیں کرتے کہ کشمیر میں آزادی کی نئی تحریک میں حافظ سعید اور انکے ساتھیوں کا اہم کردار تھا۔

جماعتہ الدعوۃ
حافظ سعید نے زیادہ توجہ پنجاب کے دیہات اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر پر مرکوز رکھی ہے
اسی کی دہائی کے ختم ہوتے ہوتے، حافظ سعید نے کشمیر میں جاری تحریک میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے عسکریت پسندوں کی بھرتی کا کام شروع کر دیا گیا۔ انیس سو نوے تک انکے پاس اتنی تعداد میں تربیت یافتہ ہتھیار بند ’جہادی‘ موجود تھے جنکے بل بوتے پر انہوں نے لشکر طیبہ کے نام سے ایک نئی تنظیم کی بنیاد رکھی۔

دیکھتے ہی دیکھتے حافظ محمد سعید کی تنطیم لشکر طیبہ بھارتی کشمیر میں سرگرم عمل عسکری تنظیموں میں ایک مؤثر گروپ کے طور پر سامنے آئی۔ تنظیم کی زیادہ تر رکنیت پاکستانیوں کی تھی۔ یہ سلسلہ دس برس چلتا رہا۔ اس دوران لشکر طیبہ کی عسکری کارروائیاں اتنی زیادہ تعداد میں ہونے لگیں کہ خود حافظ سعید اپنی اصل تنظیم مرکز الدعوۃ کے بجائے لشکر طیبہ کے نام سے پہچانے جانے لگے۔

اور پھر امریکہ میں گیارہ سمتبر دو ہزار ایک کے حملے ہوگئے۔

ان حملوں نے پاکستان اور بھارت میں عسکریت پسندی کی تحریکوں کو جیسے ایک نئے دور میں داخل کر دیا اور کچھ گروہوں کو باضابطہ طور پر دہشت گرد قرار دیا گیا۔ کشمیر کے بارے میں پاکستانی اور بھارتی حکومتوں کے درمیان خاموش معاہدے ہوئے جنکے نتیجے میں کشمیر میں عسکری کارروائیوں کا سلسلہ سرد پڑتا چلا گیا۔

جماعت الدعوۃ

لشکر طیبہ اس وقت ایک نئی صورتحال سے دو چار ہوئی جب نومبر دو ہزار ایک میں بھارتی پارلیمنٹ پر ہونے والے خودکش حملوں کے الزام میں اس پر حکومت پاکستان کی جانب سے پابندی عائد کر دی گئی۔ لیکن چونکہ پابندی کا دائرہ اثر صرف پاکستان کے اندر تھا تو اس سے نمٹنے کے لئے حافظ سعید نے اپنے دیرینہ ساتھی ذکی الرحمٰن لکھوی کواس تنظیم کا سربراہ مقرر کر کے اسکے دفاتر پاکستان کے زیرانتظام کشمیر منتقل کر دیئے اور خود ایک بار پھر مرکز الدعوہ کے کاموں میں مصروف ہو گئے۔ لیکن اس تنظیم کا نام انہوں نے بدل کر جماعت الدعوۃ رکھ دیا۔

اسی بارے میں
پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک
11 December, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد