’پاکستانی عسکریت پسند‘، عالمی پابندیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک پاکستانی عسکری تنظیم کے چار رہنماؤں کے نام اس فہرست مں شامل کر لیے ہیں جن میں وہ لوگ یا تنظیمیں شامل ہیں جن پر القاعدہ یا طالبان کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ چاروں پاکستانیوں کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے جس پر انڈیا نے گزشتہ ماہ ممبئی میں حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان چاروں میں حافظ محمد سعید، ذکی الرحمان لکھوی، حاجی محمد اشرف، محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں۔ حافظ سعید نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ جماعتہ الدعوۃ کے امیر ہیں اور کبھی بھی لشکر طیبہ کے امیر نہیں رہے جو ان کے مطابق الگ تنظیم ہے جس کا تعلق کشمیر سے ہے۔ سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی نے مختلف نام درج کیے جن سے اس کے مطابق لشکرطیبہ جانی جاتی ہے مثلاً جماعتہ الدعوۃ اور دو ایسی تنظیموں کا نام بھی درج کیا جو لشکر طیبہ کو فنڈ فراہم کرتی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکہ نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ ’اس کارروائی سے دہشتگردوں کے سفر کرنے، اسلحہ خریدنے اور نئے حملوں کے لیے وسائل جمع کرنا مشکل ہو گا‘۔ رائٹرز کے مطابق پابندیاں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کے تحت عائد کی گئی ہیں جس میں اثاثے منجمد کیے جاتے ہیں اور سفر پر پابندی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں انہی چاروں افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ | اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی جاری ہے، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||