BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 03:35 GMT 08:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستانی عسکریت پسند‘، عالمی پابندیاں
حافظ سعید(فائل فوٹو)
امریکہ نے پابندیوں کا خیر مقدم کیا
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک پاکستانی عسکری تنظیم کے چار رہنماؤں کے نام اس فہرست مں شامل کر لیے ہیں جن میں وہ لوگ یا تنظیمیں شامل ہیں جن پر القاعدہ یا طالبان کے ساتھ مبینہ تعلق کی وجہ سے پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

چاروں پاکستانیوں کا تعلق لشکر طیبہ سے بتایا جاتا ہے جس پر انڈیا نے گزشتہ ماہ ممبئی میں حملے کرنے کا الزام لگایا ہے۔ ان چاروں میں حافظ محمد سعید، ذکی الرحمان لکھوی، حاجی محمد اشرف، محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں۔

حافظ سعید نے بی بی سی کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ جماعتہ الدعوۃ کے امیر ہیں اور کبھی بھی لشکر طیبہ کے امیر نہیں رہے جو ان کے مطابق الگ تنظیم ہے جس کا تعلق کشمیر سے ہے۔

سلامتی کونسل کی پابندیاں عائد کرنے والی کمیٹی نے مختلف نام درج کیے جن سے اس کے مطابق لشکرطیبہ جانی جاتی ہے مثلاً جماعتہ الدعوۃ اور دو ایسی تنظیموں کا نام بھی درج کیا جو لشکر طیبہ کو فنڈ فراہم کرتی ہیں۔

امریکی پابندیاں
 رواں سال مئی میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام پر لشکر طیبہ کے چار سرکردہ ارکان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان سرکردہ اراکین میں محمد حافظ سعید، ذکی الرحمٰن لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں
لشکر طیبہ پر پابندیوں کا مطالبہ امریکہ اور انڈیا کی جانب سے کیا جا چکا ہے۔ انڈیا کے ایک وزیر نے منگل کو سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا تھا کہ جماعتہ الدعوۃ کا نام بھی غیر قانونی قرار دی جانے والی تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جائے۔

رائٹرز کے مطابق امریکہ نے سلامتی کونسل کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔ ’اس کارروائی سے دہشتگردوں کے سفر کرنے، اسلحہ خریدنے اور نئے حملوں کے لیے وسائل جمع کرنا مشکل ہو گا‘۔

رائٹرز کے مطابق پابندیاں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 1267 کے تحت عائد کی گئی ہیں جس میں اثاثے منجمد کیے جاتے ہیں اور سفر پر پابندی ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال مئی میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام میں انہی چاروں افراد کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد