پابندی پر غور کر رہے ہیں: ملک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی پر غور کیا جا رہا ہے اور وزارت خارجہ اس سلسلے میں باقاعدہ ردعمل بعد میں جاری کرے گی۔ ادھر امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگروپونٹے جمعرات کے روز پاکستانی قیادت سے مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچے ہیں۔ اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کے ایک ترجمان لوفونٹر نے جان نیگروپونٹے کی پاکستان آمد کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پاکستانی قیادت سے علاقائی امور پر گفتگو کریں گے۔ نیگروپونٹے کے بارے میں امریکی ترجمان نے کچھ بتانے سے گریز کیا ہے کہ وہ کب تک پاکستان میں قیام کریں گے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے جماعت الدعوۃ کے خلاف کارروائی کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی حکومت اس کارروائی پر غور کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزارت خارجہ اس سلسلے میں ایک باضابطہ بیان جاری کرے گی۔ مشیر داخلہ کے مطابق ہندوستان نے ابھی تک ممبئی حملوں میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے خلاف کوئی شواہد فراہم نہیں کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی گرفتاریاں ایک جاری عمل ہے البتہ انہوں نے اس تاثر کی تردید کی کہ یہ گرفتاریاں کسی کے کہنے پر کی جا رہی ہیں۔ | اسی بارے میں ’پاکستانی عسکریت پسند‘، عالمی پابندیاں 11 December, 2008 | پاکستان ’سب کا تعلق پاکستان سے‘09 December, 2008 | انڈیا ’کوئی ثبوت نہیں، صرف پروپیگنڈہ‘10 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی جاری ہے، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||