’کوئی ثبوت نہیں، صرف پروپیگنڈہ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جماعتہ الدعوۃ کے قائد حافظ سعید نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے لشکرِ طیبہ پر محض بھارتی پروپیگنڈے کی بنیاد پر تحقیقات شروع کی ہیں اور بھارت اس سلسلے میں کوئی شواہد فراہم نہیں کر سکا ہے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کے روز بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت صرف پروپیگنڈہ پر انحصار کر رہا ہے اور دباؤ ڈال رہا ہے۔ واضح رہے کہ رواں سال مئی میں امریکہ کی وزارتِ خزانہ نے القاعدہ سے تعلقات کے شبہ اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے الزام پر لشکر طیبہ کے چار سرکردہ ارکان کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان سرکردہ اراکین میں محمد حافظ سعید، ذکی الرحمٰن لکھوی، حاجی محمد اشرف اور محمود محمد احمد بہازق شامل ہیں۔ ’یہ اب پاکستان حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیقات کرے اور صحیح ثبوت لے کر اس کو واضح کرے۔ لشکر طیبہ ان الزامات کی تردید کر چکی ہے۔‘ اس سوال پر کہ کیا یہ کارروائی اتنی صفائی سے کی گئی ہے کہ بھارت کو کوئی ثبوت نہیں مل پایا تو حافظ سعید نے کہا: ’ایسی بات نہیں ہے اور جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ پروپیگنڈہ ہے۔‘ ’بھارت کی آپ بد نیتی دیکھیں کہ پہلے تو وہ لشکر طیبہ پر الزام لگاتا رہا اور پھر کل رات کو اس کا اقوام متحدہ میں مندوب کھڑا ہو گیا کہ جماعتہ الدعوۃ پر بھی پابندی عائد کی جائے۔ اگر لشکر طیبہ پر الزام عائد کرتے ہیں تو پھر جماعتہ الدعوۃ پر پابندی کی کیوں بات کرتے ہیں۔ جہاں تحقیق ہو رہی ہے وہاں اپنے ثبوت پیش کرو اور ساری بات واضح ہو جائے گی۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ کبھی بھی لشکر طیبہ کے امیر نہیں رہے۔ جماعتہ الدعوۃ انیس سو چھیاسی میں بن چکی تھی جب کشمیر میں حالیہ تحریک شروع نہیں ہوئی تھی۔ ’جماعتہ الدعوۃ تو اس وقت سے کام کر رہی ہے مرکز دعوۃ کے نام سے۔‘ بدھ کے روز وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے لشکر طیبہ اور جماعتہ الدعوۃ کے متعلق ایک بیان پر حافظ سعید نے کہا کہ ’وزیر اعظم کو بھی اس بارے میں تحقیق کرنی چاہیے۔ ان کو غلط فہمی ہوئی ہے۔ جب مجھے گرفتار کیا گیا تھا تو ہم نے ہائی کورٹ میں یہ ثابت کیا تھا کہ میں جماعتہ الدعوۃ کا امیر ہوں اور میں کبھی بھی لشکر طیبہ کا امیر نہیں رہا، یہ بالکل الگ تنظیم ہے جس کا تعلق کشمیر سے ہے۔ یہ ان کو ثابت کرنا ہو گا کہ میں لشکر طیبہ کا اور جماعتہ الدعوۃ کا امیر ہوں یا رہا ہوں۔‘ ان سے جب پوچھا گیا کہ اگر بھارت جماعتہ الدعوۃ کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کردے تو ان کا کہنا تھا کہ بھارت ثبوت پیش کرے اور حکومت پاکستان فیصلہ کرے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وہ کیمپ جماعتہ الدعوۃ کا نہیں تھا اور جماعتہ الدعوۃ کے تمام دفاتر کھلے ہیں اور معمول کے مطابق چل رہے ہیں۔ ’یہ کارروائیاں حکومت پاکستان کر رہی ہے اور فوج کر رہی ہے اور ان سے پوچھا جائے کہ یہ کارروائی کس کے خلاف کی جا رہی ہے۔ میں یہ بتا سکتا ہوں کہ جماعتہ الدعوۃ کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی۔‘ ممبئی حملوں میں ملوث ایک حملہ آور کو گرفتار کیا گیا ہے اور اس کے بیان کے مطابق وہ تربیت کے مراحل سے گزرتے ہوئے جماعتہ الدعوۃ کے مریدکے دفتر بھی گئے۔ اس حوالے سے حافظ سعید کا کہنا تھا کہ جب بات مریدکے پر آئے گی اور بھارت ثبوت پیش کرے گا تو وہ بات کریں گے۔ ’لیکن ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہماری اس (اجمل) سے ملاقات نہیں ہوئی۔ بات کرنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں اس لڑکے سے میری ملاقات دبئی میں ہوئی تو میرا کہنا ہے کہ میں آج تک دبئی نہیں گیا۔‘ ایک سوال کے جواب میں کہ اگر جماعتہ الدعوۃ پر پابندی عائد ہونے پر ان کی حکمت عملی کیا ہو گی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ اس پابندی کو ہر فورم پر چیلنج کریں گے۔ ’ہم اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کو بھی ایک خط ارسال کر رہے ہیں جس میں لکھ رہے ہیں کہ ہمارا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘ انہوں نے لشکر طیبہ کے رہنما ذکی کے حوالے سے کہا کہ وہ ایک کشمیری رہنما ہیں اور ان کا مسئلہ ان سے متعلقہ فورم پر اٹھانا چاہیے۔ تاہم انہوں نے لشکر طیبہ کے پاکستان میں بھرتی کرنے کے لیے دفاتر پر کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق سنہ دو ہزار دو میں تنظیم پر پابندی لگنے سے قبل اس تنظیم کے دفاتر موجود تھے لیکن اس کے بعد نہیں ہیں۔ ’میں یہ سمجھتا ہوں اور میری معلومات کے مطابق سنہ دو ہزار دو میں پابندی لگنے کے بعد لشکر طیبہ کے کوئی دفاتر اور کیمپ پاکستان میں موجود نہیں ہیں۔ اور ان کا سارا معاملہ کشمیر میں ہے، پاکستان میں نہیں ہے۔‘ جب ان سے ان کے لشکر طیبہ کے پاکستان میں دفاتر اور کیمپ پاکستان میں نہ ہونے کے ذرائع کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا ’جس طرح آپ اخبار پڑھتے ہیں اس طرح میں بھی اخبار پڑھتا ہوں۔‘ امریکہ کی محکمہ خزانہ نے حافظ سعید پر اس سال مئی میں پابندی عائد کی تھی۔ اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں انہوں نے امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو بھی خط لکھا اور اس کے جواب میں خط آیا کہ ان کو خط مل گیا ہے۔ ’ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اس خط کے بعد ہم سے مزید پوچھ گچھ کریں گے لیکن انہوں نے یک طرفہ کارروائی کی۔‘ اقوام متحدہ سے دہشت گرد قرار دیے جانے اور پابندی عائد کرنے کے حوالے سے اقوام متحدہ میں کیس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یہ کوشش سنہ دوہزار چھ میں کی تھی۔ ’اس حوالے سے بحث ہوئی ہے اور اس کو چین نے روکا ہے۔ اور ہماری معلومات کے مطابق اس حوالے سے اقوام متحدہ میں کوئی فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اور ہم نے پاکستان کے وزارت خارجہ سے کہا ہے کہ اگر ہم پر کوئی پابندی لگائی جائے تو ہمیں سنائی جائے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق پاکستان کے اقوام متحدہ میں نمائندے نے یہ کہا ہے کہ جماعتہ الدعوۃ ایک امدادی ادارہ ہے اور اس کے سارے کام پاکستان میں قانونی طور پر ہو رہے ہیں۔ ’اس وقت تو ہمارے خلاف کچھ ثابت نہیں ہو سکا اور اب خواہ مخواہ ممبئی حملوں کے ساتھ جماعتہ الدعوۃ کو بریکٹ کر کے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔‘ | اسی بارے میں ’ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا‘ 09 December, 2008 | پاکستان ’کارروائی جاری ہے، تفتیش ہو رہی ہے‘10 December, 2008 | انڈیا ’زکی لکھوی اور مسعود اظہرگرفتار‘09 December, 2008 | پاکستان ممبئی حملوں کے حملہ آور اجمل کا ’اقبالی بیان‘10 December, 2008 | انڈیا ’جماعتہ الدعوۃ پر پابندی لگائی جائے‘10 December, 2008 | پاکستان ’سب کا تعلق پاکستان سے‘09 December, 2008 | انڈیا جماعت الدعوۃ پر پابندی کا مطالبہ09 December, 2008 | انڈیا ’ 9/11 جیسےحملے ہو سکتے ہیں‘04 December, 2008 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||