BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 11 December, 2008, 12:14 GMT 17:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصلہ کسی صورت قبول نہیں: حافظ

حافظ سعید
حافظ سعید نے اعلان کیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کو تحریری طور پر اپنے موقف اور تنظیم کے رفاہی کاموں سے آگاہ کریں گے
جماعتہ الدعوۃ کے امیر حافظ سعید نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جلد بازی اور بغیر ثبوت ان کی تنظیم پر پابندی کا جو فیصلہ کیا ہے وہ اسے کسی صورت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

لاہور میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ سعید نے کہاکہ دوسرے فریق کا موقف سنے بغیر اس کے خلاف کارروائی کرنا عالمی قوانین کی خلاف وزری ہے اور اس معاملے پر عالمی عدالت انصاف سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے اعلان کیا ہے کہ وہ جماعتہ الدعوۃ پر پابندی کے خلاف سلامتی کونسل کو تحریری طور پر اپنے موقف اور تنظیم کے رفاہی کاموں سے آگاہ کریں گے۔

جامع مسجد قادسیہ لاہور میں جماعتہ الدعوۃ کا سب سے بڑا مرکز خیال کی جاتی ہے اور اس مقام پر ہونے والے پریس کانفرنس میں جماعتہ الدعوۃ کی ممعول کی پالسیی کے مطابق نجی ٹی وی چینلز کے کمیرہ مینوں اور فوٹو گرافروں کو حافظ سعید کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔

حافظ سعید نے کہاکہ اگر بھارت اور امریکہ کے پاس جماعت الدعوۃ کے خلاف کوئی ثبوت ہیں تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور وہ اس عدالت میں پیش ہونے کو تیار ہیں جس عدالت میں ان کے خلاف ثبوت پیش کیے جائیں گے۔

ان کے بقول اقوام متحدہ میں پاکستان کے نمائندہ کی یہ غفلت ہے انہیں بھی سلامتی کونسل کے فیصلے کے بارے میں علم نہیں تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ سلامتی کونسل کے فیصلے کے خلاف عوام کی عدالت میں جائیں گے اور عدالتوں میں اپنا حق مانگیں گے۔

حافظ سعید نے واضح کیا کہ جماعتہ الدعوۃ کسی دہشت گردی میں شامل نہیں ہے اور بقول ان کے ان کی تنظیم پر پابندی کا فیصلہ پاکستان اور اسلام پر حملہ ہے۔ انہوں نے تنظیم کی رفاہی کاموں کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اس پابندی سے لاکھوں افراد متاثرہ ہونگے جو اس تنظیم کے رفاہی کاموں سے ریلیف مل رہا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ بھارت نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے اور ان کے خلاف الزام تراشی محض اس لیے کی جارہی ہے کیونکہ بقول ان کے وہ بھارت کی سازشوں کو بے نقاب کرتے ہیں۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ لشکر طیبہ ایک کشمیری تنظیم ہے اور پاکستان میں اس کے دفاتر نہیں ہے جبکہ ان کی تنظیم جماعتہ الدعوۃ کشمیری نہیں بلکہ پاکستان کی ایک تنظیم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں فورسز کی کارروائی کے دوران ان کی تنظیم کے کسی دفتر پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

ایک دیگر سوال پر ان کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت نے ابھی ان کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں کیا ۔

پاکستانی حکومت کی طرف سے کسی ممکنہ کارروائی کے سوال پر حافظ سعید نے کہا کہ جیسے حالات ہونگے اس کے مطابق آئندہ کے لیے فیصلے کیے جائیں گے۔

اسی بارے میں
’سب کا تعلق پاکستان سے‘
09 December, 2008 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد